تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    10 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


آنکھوں کو سُکھ کا خواب دکھایا نہیں گیا
دل سے بھی  دکھ کا جشن منایا  نہیں گیا 
 
ساعت بچھڑنے کی بھی قیامت سے تھی نہ کم
مانا کہ شورِ حشر اٹھایا نہیں گیا
 
اپنا وہی سوال کہ روٹھےہیںبے سبب 
انہیںملال یہ کہ منایا نہیں گیا
 
آنکھیں سمائے ریت جو وحشت کے دشت کی
دریائے اشک ہم سے بہایا نہیں گیا
 
ہم سے سنائی جائےکوئی ہجر کی کتاب
ہم کو نصابِ وصل پڑھایا نہیں گیا
 
پھر میرا درد،یادتری، رات سردتھی
پھر طاق میں دیا بھی جلایا نہیں گیا
 
حیرت سے آئنہ بھی ہے شیداؔ جو تک رہا
اک نقش تھا سو ہم سے بنایا نہیں گیا 
 
علی شیداؔ
 نجدون نیپورہ اسلام آباد، موبائل  نمبر؛9419045087
 
 
کمال یہ ہے عروجِ کمال تک پہنچیں
سوال بنکےبِنائے سوال تک پہنچیں
 
نبیؐ سے عشق کا دعویٰ بھی اور بغاوت بھی
کہاں نصیب کہ حضرت بلالؓ تک پہنچیں
 
پھر اُسکے بعد قلندر کہیں کہ دیوانہ
مرے رقیب مرے خدوخال تک پہنچیں
 
ہماری ذات پہ کیچڑ اُچھالنے والو
کبھی تو حضرتِ آدم کی آل تک پہنچیں
 
مرا ذہن تو ابھی آپکے حصار میں ہے
ذرا قریب تو آئیں خیال تک پہنچیں
 
ہماری چاہ سے پتہ بھی ہِل نہیں سکتا
کہاں بساطِ عروج و زوال تک پہنچیں
 
یہ فرقہ بندی و مسلک میں کچھ نہیں جاویدؔ
اُٹھو کہ مل کے زمانے کی چال تک پہنچیں
 
سردارجاویدؔخان
 مہنڈر، پونچھ
موبائل نمبر؛ 9418175198
 
 
ہر طرف دیکھا تو کیا پایا
لاشریک خدا سدا پایا
جب گزاری حیات خلوت میں
کیا کہوں پاس میں خدا پایا
عالم گہہِ حیات میں میں نے
تجھ کو تنہا خود کو گِرا پایا
شوقِ دیدار میں نکل آؤں
چارسو میں نے بس خدا پایا
دور شورش سے بھاگتا ہوں میں
جا بجا خود کو جب مرا پایا
آج ایسی ملی خوشی مجھ کو
وقتِ آخر سہی مزا پایا
دل اْمڑ آیا ہے ترا یاورؔ
کیا کہوں میں کہ کیا پایا
 
یاور|حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ 
موبائل نمبر؛9622497974
 

 

تازہ ترین