تازہ ترین

واپسی

کہانی

تاریخ    10 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


راجہ یوسف
’’ارے واااہ ۔۔۔ میری بلو رانی آج کل کیا پڑھ رہی ہے‘‘
’’ تیرے کام کی چیز نہیں ہے دیدی ۔۔۔ رہنے دو ‘‘
’’ پھر بھی تو دکھائو کیا ہے  ۔ ‘‘ بڑی بہن شفق نے کتاب ہاتھ سے چھین لی اور دیکھتے ہی نیچے پھینک دی ‘‘
’’ ارے یہ۔۔۔ چھی چھی چھی۔۔ ۔پھر سعادت حسن منٹو۔۔۔یہ کیا پڑھتی ہو بلورین؟ ‘‘  
 ’’او ہو شفق دیدی ۔۔۔ بتایا تھا  نا  تیرے مزاج کی چیز نہیں ہے  ۔‘‘ 
 ’’ کتنی بار کہا اسے مت پڑھا کر ۔ اس کو پھر پڑھا تو امی کو بتا دوں گی۔ ‘‘
بلورین اپنی معصوم بہن شفق کو یاد کرتے ہی رو پڑی ۔ شفق شادی کے بعد صرف  پندرہ دن زندہ رہی۔اس کی موت سے سارے علاقے میں  صف ماتم بچھ گئی تھی ۔ لوگوں کے دلوں میں اس کے شوہر گاما کے لئے نفرت بھری کیونکہ تھی کیونکہ انہیں شفق کی بے وقت موت نے دکھی کر دیا تھا۔ کھرچنا ، پھاڑنا ، اتارنا گاما کا شیوہ تھا۔ جو اس کے پنجے میں پھنس جاتی تھی جیسے چیل کے پنجے میں چوزہ ۔ تڑپتی پھڑپھڑاتی رہ جاتی تھی یا پھر جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتی تھی ۔ گاما پڑوس کی بستی کا  بدمست غنڈہ تھا۔ اصل نام گلاب چند ۔خصلت ببول جیسی  ۔نہ عقل کا نہ شکل کا۔ بس سانڈجیسے قد وکاٹھ کا۔جاہل اتنا کہ کوئی قریب نہ پھٹکتا ۔ سرکش اتنا کہ حاکم بھی سر پر ہاتھ رکھ کر فخر کرے۔ شریف اسے دور بھاگتے تو نیتا اسے سر پہ بٹھاتے۔ بے وجہ لڑائی جھگڑے میںپڑنا ، کبڈی کھیلنا اس کے خاص مشغلے۔ کبڈی میں اتنا پھرتیلا کہ سامنے والوں کو خاک چٹائے۔اگلی ٹیم کے دو دو بندے ہاتھوں میں اٹھا کر لائے اور اپنی بونڈری میں پٹک دے۔ تماشہ گیر گاما گاما چلاتے تو لوگ اصل نام گلاب چند بھول گئے اور یہ گاما پہلوان ہوکر رہ گیا۔ غرور گھمنڈ میں اندھا اتنا کہ ماں بہن کا کوئی لحاظ نہیں۔  بدمذاق  چمچوں کی ٹولی میں خود کو راجہ سمجھتا۔اس کے چمچے  اس کی راہ میں کیلے کے چھلکے اور زبانی خرچ والی مکھن کی چکنا ئی سے پھسلن بنانے کا ہنر جانتے تھے اور گاما کو پھسلنے میںمزا آتاتھا۔ پہلے پہل نشہ کرکے سیدھاکوٹھے پہنچتا۔ٹولی کے ایک بدخواہ نے راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنے کی ترغیب دی۔ اس کام کو کرنے میں اتنا مزا آیا کہ اپنا مشغلہ  ہی بنادیا ۔ کسی بھی باکرہ کو اٹھالینا اور دو چار دن کے بعد واپس پھینکنا  اس کا معمول بن گیا۔ آس پاس کے لوگ اتنے پریشان کہ  بستی چھوڑ کے جانے کو تیار۔ کہاں کہاں گاما کی شکایت نہ لگائی ۔ پولیس کے پاس گئے۔ اعلیٰ حاکموں کے در کھٹکھٹائے۔لیکن کہیں بھی سنوائی نہ ہوئی ۔الٹا  شکایت کرنے والوں کو سزا بھگتنی پڑتی ۔ خوف سے کوئی سر نہیں اٹھاتا تھا۔۔۔ 
عمر چالیس بیالیس کو آئی تو شادی کرنے کا شوق چرایا۔ اس کے سارے ہر کارے اچھی لڑکی کی تلاش میں نکل پڑے ۔ کئی بستیاں چھان ماریں۔ گھر کھنگالے۔ لڑکیاں دیکھی ں لیکن کسی پر گاما کادل نہیں بیٹھا ۔ ایک دن راہ چلتے شفق اور ربلورین کو دیکھا۔  دونوں خوبصورت  تھیں ۔ شفق کا بھولاپن  اور بلورین کا چنچلاپن من کو بھاگیا ۔  ایک موالی کوان کی ماں راحیلہ باجی کے گھربھیجا ۔ شفق اور بلورین نے کھری کھری سنائی ۔ راحیلہ باجی نے موالی کو دھتکار کر گھر سے نکالا۔ اسی شام کو گاما نے ہلہ بول دیا۔ شفق کو اٹھا کر لے گیا۔ پوری بستی میں ہاہا کار مچی ۔ کوئی گاما کے پاس جانے کے لئے تیار ہی نہیں ہو رہا تھا۔ پھر بڑی مشکل سے اس کی ذات کے کچھ لوگ  تیار ہوگئے۔وہ بھی جیسے اپنے سر پر کفن باندھے نکلے ۔ ڈرے سہمے پڑوسی گاما کے گھر پہنچے ۔ اس کے بھائیوں بھابیوں کے پیر پکڑ لئے۔ لیکن وہ بھی گاما کے منہ نہیں لگنا  چاہتے تھے۔ بڑی منت سماجت بعد آخر مجبور ہوکر وہ بستی والوں کے ساتھ گاما کے پاس  چلے گئے۔ گاما نے لڑکی کو کو ئی نقصان پہنچائے  بغیر چھوڑنے کی بات تومان لی ۔ لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ  لی کہ وہ لوگ شفق کو اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار کریں ۔ لوگوں نے منت سماجت کی، ہاتھ جوڑے، مذہبی بھائی چارے کی دہائی دی لیکن وہ ایک بات بھی نہ مانا۔ مرغے کی ایک ٹانگ ،
’’ میں لڑکی کو ایسے ہی بنا کچھ کئے  اس شرط پر چھوڑ رہا ہوں کہ یہ میری  بیوی بنے۔ میں کسی اور کے لئے تھوڑی اس کو پوتّر چھوڑ دوں گا۔  اس کو اگر لے جانا ہے تو یہ سوچ کے لے جائو کہ اس کو میری ہی بیوی بننا ہے ۔‘‘
بستی کے لوگ شفق کو لے کر آ  توگئے تھے لیکن کسی کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ معاملہ کیسے سلجھائیں۔ جب راحیلہ باجی نے یہ سنا تو جیسے آسمان  اس کے سر پر ٹوٹ پڑا۔  اسے جب کوئی راستہ نہ سوجھا  تو اس نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا کہ دونوں بیٹیوں کو زہر دے کر  وہ بھی خودکشی کر لے گی ۔۔۔ لیکن گاما نے اتنی مہلت ہی نہ دی ۔ صبح ہی شادی کا سارا سامان  لے کر گھرآگیا۔ جس میں کپڑے ، مہندی ، کچھ سونے کے زیورات تھے اور شام تک شادی کی پوری تیاری کرنے کا آدیش دے دیا۔ ساتھ ہی ساری بستی میں اعلان کردیا ۔ 
’’ اگر تم اپنی بہو بیٹیوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہو تو شفق کو میری  دلہن  بنانے میں  مدد کرو۔  ساری بستی کا کھانا آج میری طرف سے، اس لئے بے فکر ہوکر میری  شادی میں  شریک ہو جائو۔  شادی کے لئے چاہے پنڈت کو بلائو یا مولوی کو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ویسے بھی میں دونوں کو نہیں مانتا ہوں ۔ بس یہ تم ذی عزت بستی والوں کے لئے کر رہاہوں۔  اپنی بہو بیٹیوں کو یہاں بلائو۔ دلہن کو تیار کرو ۔  اور ہاں اپنی بیٹیوں سے کہہ دو میری  دلہن کو سجانے سنوارنے میں کوئی کمی نہ  چھوڑیں ۔ ابھی میں سدھرا نہیں ہوں ہااااں ۔۔۔‘‘
شفق دلہن بنی اپنی سہیلوں میں گھری تھی۔ کوئی اسے ابٹن  لگا رہی تھی توکوئی مہندی ۔ کوئی اس کے ماتھے کو چھوٹے جھومر سے سجارہی تھی تو کوئی ہاتھوں میں چوڑیاں پہنا رہی تھیں ۔ کچھ اس کے کپڑے پریس کر  رہی تھیں تو دو تین لڑکیاں اس کے بال بنا رہی تھیں ۔۔۔ سارے گھر کے اندر باہر گہما گہمی تھی لیکن کسی کے بھی چہرے پر خوشی کا شائبہ تک نہ تھا۔  شفق کا چہرا اترا ہوا تھا ۔ اس کی کسی بھی سہیلی  کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ تھی۔ شفق کی چھوٹی بہن بلورین غصے سے ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔ وہ بار بار مٹھیاں بھنچ رہی تھی۔
اس شادی سے بس گاما اور اس کے دوست ہی خوش تھے  اور ناچے بھی وہی لوگ  تھے۔ گاما کے گھر والوں میں بھی کوئی خوش نہیں لگ رہا تھا اور نہ وہ اس شادی میں شریک ہوئے تھے۔۔۔  لیکن شادی کے بعد صرف پندرہ دن میں شفق مرگئی تھی۔  
شفق اور بلوریں جب کالج  جانے لگیں تھیں تو  راحیلہ باجی کے ساتھ ساتھ پوری بستی خوش تھی۔ دونوں بہنیں پڑوسیوں کی چہیتی تھیں۔  شفق  خوبصورت تھی لیکن  سیدھی سادی اور شریف بھی بہت تھی۔ پوری بستی میں اس کی اچھائیوں کا ذکر ہوتا تھا۔ جبکہ بلورین بہت تیز اور منہ پھٹ واقع ہوئی تھی ۔ کسی کو بھی سامنے جواب دے دیتی تھی۔ لیکن وہ پڑوس کی تمام عورتوں کے کام بھی آتی تھی۔ کسی کو  بازار سے کوئی ذاتی سامان لانا ہوتا تو اسی سے ہی منگواتی تھی۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو مشکل ا وقات میں انہی دو بہنوں کے پاس بھیجتی تھیں تاکہ وہ انہیں سنبھال لیں۔ اور وہ دونوں بہنیں نرسوں کی طرح ان کاخیال رکھتی تھیں ۔ 
بلورین ناول ، کہانیاں اور افسانوں کی دلدادہ تھی۔ خاص کر وہ منٹو کی کہانیوں کی دیوانی تھی ۔۔۔  اسے منٹو کے افسانوں کے کئی کردار  اپنی ذات کا حصہ لگتے تھے۔ ایسے کئے کردار تھے جو اسے اپنی نس نس میں اتارنے کا  دل چاہتا تھا۔ 
شفق کی موت کو ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا  تھا کہ بلورین کے لئے گاما کا پیغام آگیا۔ اب تو پورا محلہ ہی بپھر گیا تھا۔ گاما کی برادری کے لوگوں کو بھی غصہ آرہا تھالیکن سب ہاتھ ہی ملتے رہ گئے اور گاما بلورین کو لے گیا ۔ بلورین مٹھیاں بھینچ رہی تھیں۔ وہ منٹو کے ایک ایک کردار کو یاد کرکے جانے کیا کیا سوچتی رہتی تھی۔
  ’’ اری سنو تو ثمرہ ۔گاما  تھا ہی سانڈ جیسا آدمی ۔ اسی کی طرح  وحشی بھی۔  پہلی رات کو میں اس سے ڈر جاتی۔ لیکن میں من بنا چکی تھی وہ ہارا ہوا ایشر سنگھ ہے اور میں بڑے دھڑلے والی کلونت کور ۔‘‘
 ’’  پھینک پتے ۔۔۔ پتے پھینک ۔۔۔ اور پھینک ۔۔۔ ‘‘  ایک رات گئی، دوسری، تیسری رات تک اس کی ساری اتر گئی تھی اور چوتھی رات وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔ شاید کسی حکیم وید سے مل کر آیا تھا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں ڈر اور خوف صاف جھلکتا تھا ۔ کئی دائو آزمائے ۔ کلونت کور کے سامنے اس کے سارے دائو ٹوٹکے پھس ہوگئے۔ وہ بے حد ڈرا  اور سہما ہوا  تھا۔ کلونت کور تیزی سے چیخی ۔
   ’’ایشر سائیاں ، کافی پھینٹ چکاہے ،  اب پتا پھینک‘‘ کلونت کور نے اسے پرے پھینک دیا اور دھتکار کر بھگا دیا۔۔۔۔۔  تھوووو و  ‘‘   
       پانچویں صبح،  ابھی بستی کی لڑکیوں کے ہونٹ سلے ہی تھے۔ ابھی لڑکوں کے دلوں میں گاما کا ڈر بیٹھا ہوا ہی تھا۔ ابھی بزرگ مرد عورتیں افسوس کے ساتھ ہاتھ ہی مل رہے تھے کہ شادی کی پانچویں  صبح بستی میں اچانک بھنبھناہٹ سی پھیل گئی ۔ سبھی لوگ ایک ایک کرکے گھروں سے باہر آگئے ۔ کچھ لوگ دوسری بستی کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ہر کوئی دوسرے سے پوچھ رہا تھا کیا ہوا۔ دوڑتے دوڑتے لوگوں کی بھیڑ گاما کے آنگن میں جمع ہوگئی ، اب وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی تھی۔ کیا ہوگیا ، سب کو ایک ہی بات کا خدشہ تھا کہ اب وہ بلورین کی لاش دیکھیں گے۔ پہلا دوسرے سے پوچھ رہا تھا۔ 
 ’’ کیا ہوا ۔‘‘  اور دوسرا  ا ٓنگن کے بڑے پیڑ  کی طرف  اشارہ کرتا تھا۔ جو بھی اس طر ف دیکھتا تھا۔ ہکا بکا ہوکر رہ جاتاتھا۔ آناََ فاناََ بات چارسو پھیل گئی  ۔ بستی میں پولیس پہنچ گئی ۔ پنچ سرپنچ سب جمع تھے۔ پولیس نے پیڑ سے گاما کی لٹکتی لاش اتار دی۔  پولیس کے لئے معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں تھا، خودکشی کے سارے ثبوت صاف تھے۔  گاما نے پیڈ کی جس شاخ کو خود کشی کے لئے منتخب کیا تھا  وہ شاخ اس چھپر کی  عین سیدھ میں تھی جس کے نیچے جانوروں کو  چارہ ڈالا جاتا تھا۔ اسی چھپر پر چڑھ کر گاما نے رسی کا پھندہ اپنے گلے میں ڈالا تھا۔ چھپر کے پاس ہی اس کے چپل کا ایک پیر سیدھا اور ایک الٹا پڑا تھا۔پولیس نے پنچوں اور سر پنچ کے دستخط ،  انگوٹھے لئے اور فائل بند کرکے  بغل میں دبادی ۔ لاش کے وارثوں کو بلایا گیا۔ کوئی سامنے نہیں آرہا تھا۔ کوئی موالی مشٹنڈا بھی نہیں آیا۔  پولیس نے کچھ منت سماجت کرکے اور کچھ ڈرا دھمکاکر گاما کی لاش اس کے بھائیوں کے سپردکر دی۔ 
کئی دنوں کی گہما گہمی کے بعد آج راحیلہ باجی کے گھر میں تھوڑی خاموشی تھی۔ بلورین کی آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں اور وہ بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی ۔ ماں نے اس پر کمبل ڈال دیا۔ بلورین کو پتا بھی نہیں چلا کہ وہ کتنی دیر تک سوتی رہی ۔ جب جاگی تو اس کی خاص سہیلی ثمرہ اس کے پاس بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ مسکرائی اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔اس کے سرہانے رکھی کتاب ثمرہ نے اٹھا لی ۔
 کتاب وہیں کھل گئی جہاں کے ورق فولڈ کئے ہوئے تھے۔ کلونت کور
 ’’ سن ثمرہ ۔۔۔  پانچویں رات گاما آیا ہی نہیں ۔مجھے فیصلے کا انتظار تھا۔۔۔ اور فیصلہ ہو بھی چکا تھا۔ ‘‘بلورین کتاب کے اس پنے پر آہستہ آہستہ انگلیاں پھر رہی تھیں جہاں کلونت کور تھی۔ 
���
اننت ناگ ، فون نمبر9419734234