برفباری اورمکرّر تجربہ

حکومتی دعوئوں کی پول کھل گئی!

تاریخ    7 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 رواں موسم کی اب تک کی سب سے بڑی برفباری کی وجہ سے وادی میں ایک بار پھر نظام ِزندگی تقریباً تھم کررہ گیااور آخری اطلاعات ملنے تک اس برف باری کی وجہ سے وادی کے یمین و یسار میں تباہی مچ گئی ہے ۔وادی کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مسلسل مسدو د ہے کیونکہ جہاںجموں سرینگر قومی شاہراہ مسلسل بند پڑی ہوئی ہے وہیں سرینگر ایئرپورٹ پر مسلسل تیسرے روز نہ کوئی پرواز لینڈ کرسکی اور نہ ہی کوئی پروا زاُڑان بھرسکی۔بھاری برف باری کی وجہ سے معمولات ٹھپ ہیں اور گوکہ انتظامیہ اپنی طرف سے عوام کو ہر ممکن راحت پہنچانے کی کوشش کررہی ہے تاہم مسلسل برف باری حکومتی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر برف با ری کے باوجود بھی یہ امر اطمینان بخش ہے کہ انتظامی مشینری نے تقریباًسبھی اہم شاہرائوں کو کھلا رکھا ہے اور بجلی کا نظام بھی کسی حد تک سالم ہی ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں بجلی کاسپلائی نظام تہس نہس ہوچکا ہے ۔بھاری برف باری کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ بھی تشویش میں پڑ گئی ہے اور اب اشیائے ضروریہ کی سٹاک پوزیشن یقینی بنانے کیلئے بھی صوبائی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ صو بائی انتظامیہ کو برف باری کے پیش نظر ضلعی ترقیاتی کمشنروں کو حکم دینا پڑا کہ وہ پیٹرول پمپوں سے صرف فی گاڑی دس لیٹر پیٹرول کی فروخت یقینی بنائیں اور گیس سیلنڈر بھی ایک ہی فی کنبہ فراہم کیاجائے ۔ گوکہ کچھ لوگ انتظامیہ کے اس تازہ اقدام کو وادی میں سٹاک پوزیشن کی پتلی حالت کی عکا سی قرار دے رہے ہیں تاہم غور سے دیکھا جاائے تو اس میںدانائی نظر آرہی ہے اور حکومت نہیں چاہتی ہے کہ عوام کو ایندھن یا رسوئی یا اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا ہو اور نہ برف باری کے پیش نظر کالابازاری کی صورت درپیش ہو۔یہ ایسے بر وقت اقدامات ہیں جن سے کافی حد تک عوامی مشکلات کو کم کیاجاسکتا ہے ۔
بلاشبہ بڑی سڑکوں پر برف ہٹانے کی کارروائی شروع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی آمد ورفت بحال ہے تاہم اندرونی رابطہ سڑکوں سے تاحال برف نہیں ہٹائی گئی ہے اور جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقے ہنوز ضلع و تحصیل صدر مقامات سے کٹے ہوئے ہیں ،یہاں تک کہ شہر کے مضافات میں بھی لوگوں کو عبورومرورکے حوالے سے نہایت ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
 اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ایسی صورتحال کو ٹالنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے تاہم پیشگی تیاریوں اور قبل از وقت منصوبہ بندی سے نقصان کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے ۔تازہ برف باری سے قبل نہ صرف صوبائی سطح پر صوبائی کمشنر نے امکانی برفباری سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا تھا جبکہ ضلعی سطح پر تمام ڈپٹی کمشنروں نے امکانی برف باری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے دوران اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاتھا کہ سرکاری مشینری برف باری سے نمٹنے کیلئے بالکل تیار ہے ۔اس کے بعد لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کے مشیروںنے بھی سرینگر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرکے تیاریوں کا جائزہ لیاتھا جس میں انہیں افسران کی جانب سے یہ یقین دہانی فراہم کی گئی تھی کہ سرکار بالکل تیارہے اور اگر برفباری ہوتی ہے تو مشینری بناء وقت ضائع کئے میدان عمل میں جھونک دی جائے گی اور بجلی و پانی کی سپلائی فوری طور بحال کرنے کے علاوہ تمام بڑی و چھوٹی سڑکوں پر ٹریفک کی مسلسل روانی یقینی بنائی جائے گی۔مذکورہ میٹنگوںکی روائیداد جب اخبارات کے ذریعے عوام تک پہنچیں تو انہوں نے اطمینان کی سانس لی اور وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ اب کی بار انہیں شاید برف باری کی صورت میں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا تاہم جب برف باری ہوئی تو تمام انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے ،بنیادی سہولیات کی بنا خلل دستیابی کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے اور محض چندانچ برف انتظامیہ کیلئے حقیقی معنوں میں سونامی ثابت ہوئی ،نہ کہیں بجلی رہی ،نہ پانی ،سڑکیں بند ،نظام مواصلات ٹھپ اور لوگ گھروں میں محصور۔
حکومتی محکموں نے گزشتہ روز ٹول فری نمبر بھی مشتہر کئے تھے تاکہ لوگ بوقت مجبوری ان نمبرات پر حکام سے رابطہ کرکے اپنی مشکلات کا سدباب کراسکیں تاہم عمومی شکایت یہ ہے کہ یہ نمبرات کام نہیں کررہے ہیں اور اب تو حد یہ ہے کہ حکام بھی عوام کے فون نہیں اٹھارہے ہیں۔اس طرح کا اپروچ مستحسن قرا ر نہیں دیاجاسکتا ہے بلکہ یہ عوامی خدمت کے بنیادی جذبے کے ہی منافی ہے ۔عوام کو مشکل وقت میں ہی سرکار کی ضرورت ہے اور اگر سرکاری کارندے اسی وقت میں عوام کو پیٹھ دکھائیں تو یہ افسوسناک صورتحال ہی قرار دی جاسکتی ہے ۔
لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ برف باری روکنا سرکار کے بس میں نہیں ہے اور برف باری سے پیدا شدہ مسائل حل ہونے میں بھی وقت لگنا فطری ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سرکاری مشینری سے وابستہ لوگ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ نہ سمجھتے ہوئے اُنہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔بلا شبہ سرکاری مشینری عوامی مسائل کے حل میں منہمک ہے اور ہر سطح پر ان مشکلات کے ازالہ کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کیلئے دستیاب رکھیں اور اُنہیں یہ تاثر دیں کہ وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔حکومت اور عوام مل کر اس بحرانی صورتحال سے نکل سکتے ہیں اور پھر چند ایک روز میں حالات معمول پر آجائیں گے تاہم لازمی یہی ہے کہ سرکاری مشینری سے جڑ ے لوگ اپنے آپ کو لوگوںکے ساتھ جوڑ کررکھیں اور انہیں کسی بھی طور احساس تنہائی سے دوچار نہ کریں کیونکہ وہ سرکار کی ناکامی تصور کی جائے گی اور سرکار قطعی طور ایسا نہیں چاہے گی ۔اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ سرکاری مشینری سے جڑے سبھی لوگ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے عوام کو اس موڑ پر تنہا نہیںچھوڑیں گے اور مل کر اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے جتن کئے جائیں گے۔

تازہ ترین