روشنی ایکٹ جائزہ عرضی سماعت اب 11دسمبر کو| عدالت عالیہ چن چن کر نشانہ بنانے پر برہم

سی بی آئی سے ابتک کی کارروائی کی رپورٹ طلب

تاریخ    9 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


سیدامجدشاہ
جموں //جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے منگل کو جموں کشمیر حکومت کی ایک عرضی کی سماعت کی جس میں روشنی اراضی گھپلا کادوبارہ جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے۔اس کیس کی سماعت جو16دسمبر2020کو مقرر کی گئی ہے،کواس سے قبل ہی زیر غور لانے کی درخواست کی گئی ہے ۔چیف جسٹس ،جسٹس گیتا متل اور جسٹس راجیش بندل پر مشتمل بنچ نے ورچیول طریقہ سے جموں کشمیرحکومت کی تاریخ سماعت کو نزدیک لانے کی عرضی کو مفادعامہ کی عرضی اور دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کے ساتھ نتھی کرنے کی اجازت دی اور 16دسمبر کے بجائے اب اس کی سماعت11دسمبر کو کرنے کوکہا۔اس دوران طرفین کے وکلاء نے گرماگرم بحث کی اور دلائل پیش کئے ۔ سماعت کے دوران ڈویژن بنچ نے زبانی طور منتخب طور نشانہ بنائے جانے پر ناراضگی کااظہار کیااورسی بی آئی پرزوردیا کہ وہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات کرے۔بنچ نے اس بات کوصاف کیا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کا مقصد غیرضروری طور لوگوں کو نشانہ بنانا نہیں تھااور ’’فیصلہ کسی تہذیب،خطے ،مذہب اور سٹیٹس کے خلاف نہیں تھا‘‘۔سماعت کی تاریخ کو نزیک لانے کی درخواست جب بنچ کے سامنے پیش کی گئی تو چیف جسٹس ،گیتا متل نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اسیم ساہنی سے سوال پوچھا،’’اس معاملے میں جلدی کیاہے؟‘‘ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ سی بی آئی نے تحقیقات شروع کی ہے اور اس نے اپنی تحقیقات اُن ایف آئی آرز،تک محدودرکھی ہے جن کا پہلے ہی اینٹی کورپشن بیوروتحقیقات کررہا تھا۔اسلئے یہ حکومتی افسروں کیلئے مشکلات پیداکررہا ہے اوراگر سی بی آئی کی تحقیقات کوجاری رہنے دیا جائے تو اس سے پہلے سے ہی تصفیہ ہوئے معاملات بگڑجائیں گے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے مزیدکہا کہ مرکزی زیرانتظام علاقہ کی انتظامیہ ایک پالیسی مرتب کرے گی جس میں غریب کسانوں کو 9اکتوبر2020کے فیصلے منشاء قانون سے الگ رکھا جائے۔ اس موقعہ پرایڈوکیٹ شیخ شکیل احمد نے ،جو عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہورہے ہیں،نے کہا ،’’ڈویژن بنچ کا جب سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے ،ایک غلط بیانیہ جو حقائق اورریکارڈ کے برخلاف ہے،خودغرض عناصر کی طرف سے پیش کیا جارہا ہے ،جو عدالتی ہدایات کے مقاصد کو شکست دے رہا ہے‘‘ ۔انہوں نے مزید کہا ،’’ ایک مخصوص فرقے کو تالابوں،دریائوں،ریاستی اراضی اور جنگلات کی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے نشانہ بنایا جارہا ہے ‘‘جبکہ ڈویژن بنچ کے فیصلے میں ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈویژن بنچ کے فیصلے کی غلط تاویل دے کر بے بنیاد بیانیہ قائم کرکے عام لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اور مرکزی زیرانتظام علاقہ کے امن پسند لوگوں میں دراڑیںپیدا کی جارہی ہیں۔ ایڈوکیٹ شیخ شکیل احمد نے زوردے کر کہا ِ’’جموں کی صوبائی انتظامیہ روشنی مستفیدین کے نام چن چن کر ذرائع ابلاغ کو فراہم کررہی ہیں تاکہ ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنایا جائے اورڈویژن بنچ کی ہدایات کی آڑ میں غلط تاثر دیا جارہا ہے جو 9اکتوبر کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کا کبھی مدعاومقصد نہیں تھا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ حال ہی میں جموں کے ایک نیوزپورٹل نے بھالول تحصیل کے گھینک گائوں میں مستفیدین کی فہرست شائع کی جس میں ایک سابق نائب وزیراعلیٰ کا نام بھی سامنے آیا لیکن صوبائی انتظامیہ جموں نے اس معاملے کو گول کیا اوراس میں مبینہ ملوث سیاسی شخصیت کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔ڈویژن بنچ نے چیف جسٹس گیتا متل کی سربراہی میں زبانی طور اس معاملے پرناراضگی کااظہار کیااور کہا ،’’ہم تہذیب ،مذہب ،خطے اور سٹیٹس کے نام پر کسی امتیاز کونہیں چاہتے‘‘۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہم ناہموارتحقیقات نہیں بلکہ منصفانہ تحقیقات چاہتے ہیں ،فیصلے کا کبھی یہ مقصد نہیں تھا کہ لوگوں کو غیرضروری طورنشانہ بنایا جائے‘‘۔عدالت نے سی بی آئی کے وکیل کو بھی ہدایت دی کہ وہ اگلی سماعت کے دن ایکشن ٹیکن رپورٹ ایک بند لفافے میں عدالت میں پیش کریں ۔

تازہ ترین