زرعی قوانین کے خلاف ’بھارت بند‘ کا وسیع اثر | دہلی، ہریانہ، پنجاب، بہار، مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میںاحتجاجی مظاہرے

تاریخ    9 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دلی //زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے ’بھارت بند‘ کا وسیع اثر دیکھنے کو ملا۔ منگل کی صبح سے ہی دہلی، ہریانہ، پنجاب، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال سمیت کئی ریاستوں میں بند زبردست طریقے سے کامیاب رہا۔مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف تحریک چلا رہے کسانوں کا ’بھارت بند‘ پورے ملک میں اثرانداز نظر آیا۔ ملک بھر میں کسانوں کی حمایت میں سیاسی پارٹیاں اور دیگر تنظیمیں کھڑی نظر آئیں۔ راجدھانی دہلی سے لے کر اتر پردیش، ہریانہ، بہار، مغربی بنگال سمیت جنوبی ہندوستان تک بند کا زوردار اثر رہا۔ دکانیں، بازار اور یہاں تک کہ عام گلی محلوں کی سڑکیں بھی سنسان نظر آئیں۔ صبح سے سڑکوں پر ڈٹے کسان اپنے وعدے کے مطابق 3 بجتے ہی سڑکوں سے ہٹنے لگے اور سبھی راستوں کو کھول دیا۔ہریانہ پردیش ویاپارمنڈل کے اعلان پر ، تاجروں ، کسانوں اور ملازمین نے کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ریاست میں ایک زبردست دھرنا مظاہرہ کیا۔ احتجاج کے بعد ، وزیر اعظم نریندر مودی کے، امبانی اور اڈانی کے پتلے جلاکر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ویاپار منڈل کے صوبائی صدر بجرنگ گرگ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ، آج پورے ملک کے کسان ، نوکر ، مزدور اور عام آبادی سڑکوں پر ہے ، جو ان داتا ملک اور بیرون ملک کے عوام کو کھلاتا ہے۔
 
 
 

 دہلی خواتین کانگریس کے احتجاجی مارچ پر پولیس کی بریک

نئی دہلی//ستمبر میں پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کی بھارت بند کی اپیل حمایت کرتے ہوئے دہلی خواتین کانگریس نے اپنی صدر امرتا دھون کی قیادت میں کل منڈی ہاؤس سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا اور کچھ خواتین کو کچھ دیر کے لئے حراست میں لے لیا۔اس موقع پر محترمہ امرتا دھون نے کہاکہ دہلی خواتین کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج کا مارچ کسانوں کی حمایت اور ان کی بھارت بند کی اپیل کی حمایت کے لئے منعقد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کسانوں میں تباہ و برباد کرکے کارپوریٹ گھرانوں کو آباد کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ اس لئے مودی حکومت کسان مخالف تین زرعی قوانین پاس کروائی ہے تاکہ وہ اپنے کارپوریٹ دوستوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ کسان گزشتہ 20ستمبر سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت کی نیند نہیں کھلی اور وہ ہر بڑے احتجاج کو نظرانداز کرتی رہی اور وہ گزشتہ دس بارہ دنوں سے دہلی کے بارڈروں پر کسان احتجاج اور دھرنا دے رہے ہیں لیکن اب تک حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے اور کسانوں کو مجبور ہوکر بھارت بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس میں آر ایس ایس کے منسلک بھارتی کسان سنگھ کے علاوہ تمام کسان تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
 
 

 سیاسی جماعتوں کی حمایت منافقت  :جاوڈیکر

نئی دہلی// وزیر اطلاعات ونشریات پرکاش جاوڈیکر نے کہا ہے کہ کسانوں کے ذریعہ کیے گئے 'بھارت بند' کو سیاسی جماعتوں کی حمایت ایک منافقت ہے ۔مسٹر جاوڈیکر نے ٹویٹ کرکے کہاکہ "کانگریس کی زیرقیادت ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت زراعتی پیداوار منڈی کمیٹی (اے پی ایم سی) کو ختم کرنے کے لئے قانون لائی تھی۔ ٹھیکے پرکھیتی باڑی بھی ان پارٹیوں کے زیر اقتدار کئی ریاستوں میں نافذ کی گئی تھی۔ یہ ہے منافقت کا انکشاف"۔انہوں نے کہا کہ "میں ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کاشتکاروں کو کم از کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) لاگو تھی، ہے اور رہے گی"۔ جس طرح پچھلے 55 سالوں سے کسانوں کو ایم ایس پی کا فائدہ مل رہا ہے ، اسی طرح یہ جاری رہے گا۔
 
 
 

کسان تحریک: تھالی اورتھیلی بھرنے والوں کی لڑائی :پرینکا

لکھن// مرکز کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ زرعی اصلاحات کے نام پربنائے گئے نئے تین زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں کے بھارت بند کی حمایت میں سڑکوں پر اترے کانگریسی لیڈروں و کارکنوں کی گرفتاری پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو کہا کہ'کسانوں کی یہ تحریک آپ کی تھالی اور اپنی تھیلی بھرنے والوں کے درمیان کی لڑائی ہے '۔
 
 

 کیجریوال کی خانہ نظری بندی،پولیس نے دعوے کو خارج کیا

نئی دہلی// دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔ دہلی پولیس کے اسپیشل کمشنر ستیش گولچہ نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے آنے جانے پر پابندی ہے۔
 

تازہ ترین