غزلیات

تاریخ    6 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


 
طرحی غزل
 
غریبی کا ستم نادار سے پوچھ،
"حقیقت درد کی بیمار سے پوچھ"
 
سناؤں روز و شب کا ماجرا کیا
مرے اِحبا مرے اغیار سے پوچھ
 
مقام مصطفےﷺہم کیا بتائیں
مدینے کے کسی انصار سے پوچھ
 
نہ مجھ سے پوچھ کیا ہے حال میرا
کبھی آکر در و دیوار سے پوچھ
 
 مسلماں کیا تری اوقات ہے آج
اگر ہو جاننا سنسار سے پوچھ
 
 میں ہوں کشمیر،میرا کرب کیا ہے
یہ قصہ روز کے اخبار سے پوچھ
 
زمیں تنگ اور فلک آتش فشاں ہے
مرے دریا مرے کوہسار سے پوچھ
 
سمجھنا ہے جو بسملؔ رازِ ہستی 
حقائق سب شہِ ابرار سے پوچھ
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری جموں کشمیر 
موبائل نمبر؛9086395995
 
 
 
ہماری انا کے ٹھکانے بہت ہیں
 ہمیں شہر دل کے جلانے بہت 
 
ہمیں خوشبوؤں کی تجارت ہے کرنی 
ہمیں پھول دل کے کِھلانے بہت ہیں 
 
کوئی سنگ دشمن کا بھی کام آئے 
محل دوستی کے بنانے بہت ہیں 
 
کسانوں سے چُھوٹی ہے دھرتی کی اُلفت 
زمینوں کے نیچے خزانے بہت ہیں 
 
سماعت کی دنیا اندھیری ہے جن کی 
ہمیں شعر اُن کو سنانے بہت ہیں 
 
کوئی کام کرنا ہے اُلفت سے بڑھ کر 
محبت کے ورنہ فسانے بہت ہیں 
 
خیالوں کو دینا نیا رنگ عادلؔ
 پرندے فضا میں اُڑانے بہت ہیں 
 
اشرف عادلؔ
 کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر 
کشمیر یونیورسٹی، موبائل نمبر؛7780806455
 
 
تاحدِ نظر کوئی پشیمان نہیں ہے
اِس شہر میں کیا ایک بھی انسان نہیں ہے
تنہائیاں ڈھونڈیں گی نیا مشغلہ لیکن 
موسم یہ جدائی کا اب آسان نہیں ہے
اُس زخم کی گہرائیاں آنکھوں میں دِکھیں گی
جس زخم کا اب تک کوئی عنوان نہیں ہے
یہ لاشیں ہیں ، اِن کا یہاں پر اب بھلا کیا کام 
یہ گھر ہے ہمارا کوئی شمشان نہیں ہے
دل پوچھتا ہے پھر سے تری زندہ دلی کو
مجھ کو یقیں ہے اب کہ یہ بے جان نہیں ہے 
جو تیرے محافظ تھے وہی ٹھگ گئے تجھ کو
حیرت ہے ! تو اِتنا سابھی حیران نہیں ہے
جس درد نے بخشی تھی ہمیں زندگی عذراؔ
کیا پھر سے اُسی درد کا امکان نہیں ہے؟
 
 عذراؔحکاک
سرینگر، کشمیر
bintegulzaar@gmail.com
 
 
لطفِ دنیا داری ہے
سب کو یہ  بیماری ہے
شہروں میں بمباری ہے 
امن کی خدمت جاری ہے
خاموشی ہے دروازوں پر 
اندر آہ  و زاری ہے   
جوش ہے ٹھنڈا یاروں کا
بس، لہجہ ہی تاتاری ہے
شمعِ محبت روشن ہو
یہ سب کی ذمہ داری ہے
دل آئینہ رکھ اپنا رئیسؔ
سب کی صورت پیاری ہے
 
رئیس صِدّیقی
پرسار بھارتی کے سابق آئی بی ایس افسر
rais.siddiqui.ibs@gmail.com
 
 
 
وہ تیرے ثبات اور اثبات نقلی
یہ میرے روات اورروایات نقلی
یہ کیا کہہ رہاہے کہ توہے قلندر
ہیں تیرے منّات اوردرجات نقلی
بغل میں ترے ہے وہ بھوکوں کامارا 
ہے تیری زکواة اور خیرات نقلی
کدورت،عداوت،یہ رنجش تمہاری
ترے سب فُرات اورسوغات نقلی
مرے شہر کےسارے غمخوارلیڈر
ہیں ان کے صفات اور خدمات نقلی 
گلی میں وہ دیکھو ہے تاجر متقّی
مگرہیں بسات اورتجارات نقلی
توشاعرتری نظم ہو یاغزل ہو
دوات و لغّات اور صفحات نقلی
مجروحؔ کیسے تو محفل میں ٹپکا
واہ واہ کے اثرات اور عادات نقلی
 
علی محمد مجروحؔ
بٹہ پورہ کرالہ پورہ کپوارہ 
موبائل نمبر؛9858372141
 

تازہ ترین