تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    4 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

ہیلو کہنے پہ اعتراض…کوئی شرعی جواز نہیں 

سوال :-بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ فون پر ’’ہیلو ‘‘ کہناسخت غلط ہے۔ وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ انگریزی لفظ "HELL"سے مشتق ہے ۔ گویا اس کے معنی یہ ہیں  کہ ہم ہیلو کہہ کر اپنے مخاطب کو جہنمی کہتے ہیں۔اس کی کیا حقیقت ہے ؟کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ’’ہیلو‘‘ کہنا حدیث کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ حدیث میں ہے : السلام قبل الکلام ۔ پہلے سلام پھر کلام کا حکم ہے ۔کیا یہ واقعتاً حدیث کے خلاف ہے ۔کچھ حضرات نے یہ بھی کہاکہ سعودی عرب کے نوّے یا ستّر علماء نے اس کو حرام قرار دیاہے ۔ کیا یہ دُرست ہے ۔ ضرور آپ کا جواب انشاء اللہ سب کے لئے تشفی بخش ہوگا ۔
خورشید احمد میر …سرینگر
جواب:-فو ن پر ہیلو سے آغاز کرنا بالکل دُرست ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیلو کہہ کر فون کرنے والا صرف یہ جاننا چاہتاہے کہ مخاطب تک میری آواز پہنچ رہی ہے یا نہیں ۔اسی وجہ سے دوران گفتگو بھی بولنے والے کو اگر یہ شک ہو جائے کہ نہ معلوم مخاطب سُن رہاہے یا نہیں اور لائن کٹ تو نہیں گئی تو بات چیت چھوڑ کر ہیلوہیلو کہتاہے۔گویا ہیلو کہہ کر وہ یہ معلوم کرنا چاہتاہے کہ مخاطب تک آواز پہنچ رہی ہے یا نہیں ۔
اب جب حقیقت یہ ہے کہ ہیلو کہہ کر بولنے والا صرف یہ جاننا چاہتاہے کہ مخاطب تک میری آواز پہنچ گئی تو اب سلسلۂ کلام شروع کرنا ہے۔لہٰذا حدیث کے حکم کے مطابق اب پہلے سلام کرکے پھر بات چیت شروع کرے۔
اس طرح کلام سے پہلے سلام پایا گیا ۔ ہیلو کوئی کلام ہے نہیں بلکہ صرف متوجہ کرنے ، مخاطب بنانے اورآواز پہنچنے کے متعلق جاننے کا ایک تمہیدی لفظ ہے ۔ 
سعودی عربیہ کے ستّر یا نوّے علماء کا ناجائز قرار دینا تو حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ اس طرح کا کوئی فتویٰ ہمارے علم میں نہیں آیاہے اور خود سعودی عرب میں اس سلسلے میں جو معلومات مل سکیں اُن سے بھی یہی پتہ چلا کہ ایسا کوئی فتویٰ کسی ایک شخص نے بھی نہیں دیا۔ ستّریا نوّے علماء کی تو بات ہی نہیں ہے اور یہ کہنا کہ ہیلو کا لفظ انگزیزی کے"HELL"سے ماخوذ ہے ،جس کے معنی جہنم کے ہیں ، یہ بھی سراسر غلط ہے ۔اس میں شک نہیں کہ HELL کے معنی جہنم کے ہی ہیں مگر کیا ہیلو اسی سے ماخوذ ہے ؟ یہ صریحاً غلط ہے ۔ دراصل جو شخص دور ہوتاہے اُس کو مخاطب بنانے اور اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہر زبان میں کوئی لفظ ہوتاہے جس کو بول کر انسان دوسرے کو مخاطب اور متوجہ کرنے کا کام لیتاہے ۔ مثلاًکشمیری میں ’’ہیو‘‘ بولتے ہیں اسی طرح عربی میں الا یا ھلّابولتے ہیں ۔اسی ھلّا سے ہیلو بنایا گیا ہے ۔پھر غورکرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہیلو کہنے والا اپنے ذہن میں یہ تصوررکھتاہے کہ وہ اپنے مخاطب کو جہنمی کہے؟آخرانسان اپنے والدین ، اپنے احباب واقارب ،اپنے اساتذہ ومشائخ ، اپنے اعزہ ومتعلقین کو بھی ہیلو کہہ کر ہی بات شروع کرتاہے تواس کے حاشیۂ خیال میں بھی اس کا شائبہ نہیں ہوتا کہ وہ اِن کو ہیلو کہہ کر جہنمی کہنا چاہتاہے ۔
خلاصہ یہ کہ ہیلو کا لفظ صرف کسی شخص کو مخاطب بنانے ،متوجہ کرنے او راُس تک آواز پہنچانے کا پتہ کرنے کے لئے مستعمل ہے اور یہ خود کوئی مستقل کلام نہیں ہے ۔ صرف او رصرف استفہام ہے ۔ اس لئے پہلے ہیلو کہنا پھر سلام کرنا دُرست ہے ۔اگر مخاطب اجنبی ہو تو اپنا تعارف کرانا اور اُس کے بعد بات چیت کرنا صحیح ہے ۔   lll

غسل کی فرضیت اور مسائل

سوال:-غسل میں نیت کیا کرنی چاہئے؟غسل کن کن چیزوں سے فرض ہوتاہے ؟غسل میں کتنے فرض ، سنت اور مکروہ ہیں ؟کیا فرض چھوٹ جانے سے غسل ہوتاہے ؟غسل کا صحیح (مسنون)طریقہ کیاہے ؟کیا عورت کے بال بھی غسل میں دھونے ہیں؟ روزے میں کس طرح غسل کریں ؟جمعہ دن غسل کرنا کیساہے ؟اس کاثواب بتائیں ۔
شبیر احمد …اسلام آباد ،کشمیر
جواب:-کسی مسلمان کو جب ناپاکی لاحق ہوجائے جس کی بناء پر وہ نماز پڑھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے لائق نہیں رہتا۔ اُس ناپاکی سے پاک ہوکر نماز کے قابل بننے کے لئے بھی غسل لازم ہوتاہے اور کبھی وضو لازم ہوتاہے ۔ اب چاہے وضو کرنا ہو یا غسل دونوں میں ایک ہی نیت کرنی ہوتی ہے ۔
غسل کرنے میں دل سے یہ ارادہ کریں کہ میں اپنے جسم کو شریعت اسلامیہ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق پاک کرتاہوں تاکہ میں نماز کے قابل ہوجائوں ۔یہی غسل کی نیت ہے ۔
غسل لازم ہونے کی وجوہات یہ ہیں : احتلام ہونا ۔ یہ مرد کوہو یا عورت کو ۔ اگلی شرمگاہ سے شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے کواحتلام کہتے ہیں ۔ اس سے غسل کرنا فرض ہوجاتاہے ۔ دوسرے مرد وعورت کا ہمبسترہونا۔اس میں صرف دخول کرنے سے دونوں پر غسل لازم ہوتاہے چاہے انزال ہوا یا نہ ہوا ہو۔
ان دوامور کے علاوہ عورتوں پر غسل لازم ہونے کی دو وجوہات اور بھی ہیں ۔ ایک حیض آنا ، دوسرے نفاس آنا۔
حیض ہرماہ آنے والے نسوانی عذر کو کہاجاتاہے اور نفاس اُس خون کو کہتے ہیں جو بچہ پیدا ہونے کے بعد آتاہے ۔اس حیض ونفاس میں حکم یہ ہے کہ اس خون کے ختم ہونے کے بعد غسل کرنا لازم ہوتاہے ۔ حیض زیادہ سے زیادہ دس دن اور یا پھرعادت کے ایام کے بقدر ہوتاہے اور نفاس زیادہ سے زیادہ چالیس دن ایامِ عادت کے بقدر ہوتاہے ۔ 
غسل میں تین فرض ہیں ۔ اچھی طرح غرغرہ کے ساتھ کلی کرنا ، ناک میں نرم ہڈی تک پانی پہنچانا،سارے جسم کے ہر ہر حصے کو پانی سے تر کرنا ۔ 
غسل میں یہ چیزیں سنتیں ہیں ۔ بسم اللہ پڑھنا ، دونوں ہاتھوں کو دھونا پھر استنجاء کرنا ۔جسم پر اگر ناپاکی لگی ہو تو اُس کو دھونا پھر پورا وضو کرنا ۔پھر سر پر پانی بہانا ۔ اُس کے بعد پہلے دایاں کندھاں پھر بایاں کندھا دھونا۔ پھر پورے جسم پرپانی بہانا ۔ تسلسل کے ساتھ غسل کرنا۔ جسم کو رگڑنا اور مَل مَل کردھونا۔ پورے جسم پر تین بار پانی بہانا ۔ کم سے کم پانی خرچ کرنا یعنی پانی کے اسراف سے بچنا ۔
غسل کرنے کا مسنون طریقہ یہی ہے جیسے غسل کی سنتیں بیان ہوئیں ۔ اسی ترتیب کے مطابق غسل کرنا سنت ہے ۔ 
غسل کے اخیر میں پھر دوبارہ وضو کرنا ہرگز لازم نہیں ہے ۔ ہاں اگر غسل کے فارغ ہونے پر پیشاب کا قطرے نکل آئیں تو پھر غسل کرنے کے بعد وضو بھی لازم ہوگا ۔
عورت کو اپنے غسل میں سارے جسم کے ساتھ سراور سر کے سارے بال دھونا بھی لازم ہے ۔ ایک بار بھی یا اُس کی جڑ بھی اگر خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہربال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتاہے ۔
البتہ اگر عورت نے بالوں میں بہت ساری مینڈیاں گندھی ہوں جن کو کھولنا دقت طلب بھی ہو اور وقت طلب بھی جیسے کہ عام طور ہمارے کشمیر میں بکروالوں کی خواتین کرتی ہیں تو اس صورت میں وہ مینڈیاں(لٹیں) کھولنا ضروری نہیں ۔البتہ بالوں کی جڑوں کو ترکرنا ضروری ہے اور یہ ہرحال میں ضروری ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔ 
روزے میں غسل اُسی طرح کرناہے جس طرح باقی ایام میں ۔ البتہ کلی میں غرارہ ضروری نہیں ہے ۔ اس لئے جب روزے کی حالت میں غسل کیا جائے تو غرارہ نہ کیا جائے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پانی حلق سے نیچے چلا جائے اور روزہ فاسد ہوجائے ۔ 
جمعہ کے دن غسل کی بہت فضیلت ہے اور تاکید کے ساتھ غسل کرنے کا حکم احادیث میں موجود ہے ۔ چنانچہ ایک حدیث حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا غسل ہرمسلمان بالغ پر لازم ہے ۔ (بخاری ومسلم)
اس لئے حدیث پر عمل کرنے اور سنت انجام دینے کی نیت سے جمعہ کے دن ضرور غسل کرنا چاہئے ۔ ہاں بیماری ، سفر یاپانی سرد ہونے کے باعث غسل نہ کرپائیں تو  کم ازکم اس کا احساس اور افسوس ہونا چاہئے کہ ایک سنت پر عمل نہ ہوپایا۔  lll

عیبوں کی پردہ پوشی کرنا رسول مقبولؐ کا فرمان 

میرے خاندان کی ایک لڑکی غلط راستے پر پڑگئی ہے ۔اس کے گھروالوں کو اس بارے میں اب تک کچھ پتہ نہیں ہے ۔ اب کبھی مجھے خیال آتاہے کہ میں تمام لوگوں کو بتادوں ،شاید اس سے وہ غلط راستہ چھوڑ دے ۔مجھے کیا کرناچاہئے ؟
مسرت حسین شاہ……سرینگر
جواب : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے جرم پر پردہ کرے اللہ تعالیٰ اس کا دنیاوآخرت میں پردہ کریں گے ۔ یہ حدیث بخاری ومسلم میں ہے ۔ اس لئے اس مسلمان بیٹی کے متعلق تمام لوگوں کو یہ ساری صورتحال بتانا اس حدیث کے خلاف ہے ۔لہٰذا پہلے مرحلے پر کسی کو ہرگز نہ بتائیں اور عیب پوشی کریں ۔
اس کے بعد قرآن کریم کا حکم ہے کہ نہی عن المنکر کرو۔ اس لئے اس بُرے اور غیر شرعی راستے اور حرام تعلقات سے اُسے روکنا لازم ہے ۔لہٰذا نہی عن المنکر کے حکم قرآنی پر عمل کرنے کے لئے نہایت ہمدردی اور شفقت سے اُسے بتائیں کہ اس غلط تعلق کو ختم کریں ۔متعدد مرتبہ حکمت، دعوت کے مشفقانہ جذبہ اور رحمدلی ودلسوزی کے ساتھ سمجھائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے آپ کو سدھار پر نہ لائے تو اخیر میں مجبور ہوکر صرف اُس کے والدین کو بہت دکھ ،حسرت اور افسوس کے ساتھ ہمدردانہ لہجہ میں بیٹی کی صورتحال ایک مرتبہ بتادیں ، طعن وطنز وتشنیع سے بچ کر یہ کہنے کے بعد آپ بری ہوجائیں گے ۔   lll
سوال:- اگرکسی ماں باپ کی اولاد،خاص کر بالغ بیٹا یا بیٹی ، نافرمانی کے سبب ان کی بدنامی کا باعث بن جائے تو والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
عمرمختار…سرینگر 

اولاد نافرمان ہوجائے تو والدین کیا کریں 

جواب:-نافرمان اور بدنامی کا باعث بننے والی اولاد کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اُن کو دیندارصالح اور بااخلاق بنانے کی سعی کرنے کے ساتھ بُری صحبت سے دور رکھا جائے ۔ یہ لڑکا ہو تو دعوت کے کام کے ساتھ جوڑ ا جائے تاکہ اُس میں اطاعت والدین کی فرمان برداری کا مزاج پیدا ہو ۔
کوئی بھی انتقامی کارروائی اُس کی خرابی کی اصلاح نہیں بلکہ اُس کے مزید خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔ اصلاحی کتابیں پڑھانے کا اہتمام بھی مفید ہے ۔مثلاً ’’مثالی نوجوان‘‘ ،’’نوجوان تباہی کے راستے پر‘‘ ، ’’عمل سے زندگی بنتی ہے‘‘ اور’’ حیا وپاکدامنی ‘‘ایسے نوجوانوں کے لئے مفید ہیں۔ lll
������������������