تازہ ترین

جموں کشمیر میں اراضی خریدنے کا مرکزی قانون

تاریگامی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا، عرضی دائر

تاریخ    2 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دلی//سی پی آئی ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے آج پارٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کے اُس حکم نامہ کو چیلنج کردیا ہے جس میں تمام ملک کے لوگوں کو جموں و کشمیر میںزرعی خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔ درخواست دہندہ نے عدالت عظمیٰ سے مداخلت کرنے کی مانگ کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے حکم نامہ کے خلاف امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ آرٹیکل 32کے تحت دائرکی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں جاری کی گئی نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کیونکہ یہ اگست 2019کے جموں و کشمیر تشکیل نو قانون کے تحت دائر کی گئی ہے جس کے خلاف عدالت عظمیٰ میں کئی درخواستیں زیر سماعت ہیں اور ان کے بارے میں عدالت عظمیٰ کو علم ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1966کو تبدیل کیا جو جموں و کشمیر میں زرعی زمین کی دیکھ ریکھ اورجے کے ڈیولپمنٹ ایکٹ 1970کو تبدیل کرتا ہے جس میں زونل ترقیاتی منصوبے، تعمیرات کیلئے زمین کے استعمال، روڈ، ہائوسنگ ، صنعت، تجارت، بازار ، سکول، اسپتالوں، پبلک اور پرایئویٹ جگہوں اور کھلے میدانوں کے استعمال کیلئے قوائد و ضوابط وضع کرتا ہے۔ جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1966 میں کی گئی تبدیلوں کا تذکرہ کرتے ہوئے درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے مطابق زرعی زمین کو غیر زرعی سرگرمیوں کیلئے فروخت نہیں کیا جاسکتا لیکن اس میں سرکار یا سرکاری افسر ان زرعی زمین کو اپنی مرضی سے غیر زرعی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت، فروخت، زمین کی تبدیلی یا گروی رکھی گئی زمین کے اگریمنٹ پر تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔درخواست دہندہ نے لکھا ہے کہ زمین کے استعمال کا فیصلہ بیروکریٹوں کی مرضی پر نہیں چھوڑا جاسکتا ۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ قوانین میں ان تبدیلوں سے زمین کے استعمال کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان سے جموں و کشمیر میں فوڈ سیکورٹی کو زبردست خطرہ لاحق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق جموں و کشمیر ریاست کے زرعی قوانین زرعی زمین کو بچانے کیلئے بنائے گئے تاکہ جموں و کشمیر کے زمین کو کمرشل استعمال سے روکا جاسکے۔ انہوں نے درخواست میں لکھا ہے کہ وزارت داخلہ نے نئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ان  معاملات کو نظر انداز کیا ۔ انگریزی اور ہندی میں 111اوراق پر مشتمل نوٹیفکیشن میں وزارت داخلہ نے قوانین میں کئی تبدیلیاں لائیں ، جس میں جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ 1966 بھی شامل ہے۔ دفع 370کی تنسیخ اور آرٹیکل 35ائے کے خاتمے سے قبل جموں و کشمیر میں کوئی بھی سرکاری زمین نہیں خرید سکتا تھا لیکن نئے ترامیم سے غیر ریاستی باشندہ بھی زمین خرید سکتا ہے۔