تازہ ترین

پیروکاری:لیڈرشپ کا دوسرا نام

فہم و فصاحت

تاریخ    2 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ہلال احمد تانترے
تعارف :ایک ہوتا ہے لیڈر لیکن دوسرا ہوتا ہے پیروکار (Follower)۔ من پسند لیڈر کی تلاش میں یا موجودہ لیڈر کو من پسند بنانے میںہم اُن لوگو ں کو بھول جاتے ہیں جو کسی لیڈر کے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، یا چلنا چاہتے ہیں، یا چلنے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کا لیڈر کے پیچھے چلنا پیرو کاری (Followership)کہلاتا ہے۔ لیڈرشپ اور پیروکاری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ لیکن دنیا کی کثیر آبادی سکے کے اِس رُخ سے بے خبر ہے۔ لیڈران کو ہی اکثر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جب کہ لوگ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ اسے پہلے کہ وہ اپنے لیڈر پر کوئی سوال کریں ، انہیں چاہیے کہ خود کا بھی محاسبہ کریں کہ لیڈرشپ کے مقابلے میں ہم نے بطور پیروکار کتنا کام کیا ہے۔ دونوں کو متوازن طور پر چلنا ہوتاہے، دونوں کی ذمہ داریاں گر چہ الگ الگ ہیں، لیکن ہیں تو برابر کی اہمیت کی حامل۔ چلیے، آج تھوڑا سا وقفہ نکال کر ہم سکے کے اِس نایاب رُخ کی سرسری سیر پر جائیں اور دیکھنے کی کوشش کریں کہ یہ پیروکاری ہے کیا، اس کی اہمیت کیا ہے اور، اس کے تقاضے کیا ہیں، یہ کیسے ہمیں مقصد کو حاصل کرنے میں اتنی ہی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے، جتنی کہ لیڈرشپ ؟۔
لیڈر شپ :لیڈر شپ کا ہونا انتہا درجے کی معنی خیز بات ہے۔ لیڈر شپ کو لیڈر سے موسوم کیا جاتا ہے اور لیڈر کے بغیر منزل کو پار نہیںکیا جاسکتا۔ لیڈر کا ہونا ہر اُس جگہ پر ضروری بن جاتا ہے، جہاں ایک سے زیادہ اشخاص ایک ساتھ کسی کام کے واسطے جڑے ہوں۔ ایسا اگر نہ کیا جائے تو نہ امن رہے گا اور نہ ہی امن حاصل کرنے کا طریقہ کار۔ ہمیں کوئی مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی ایک شخص کے ہاتھ میں اپنا اعتماد ضرور دینا ہوتا ہے، جس پر ہمیں بھروسہ ہو کہ وہ مقصد کو حاصل کرنے کی راہ میںہمارے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائے گا۔ لیکن اعتماد دینا ہی پیروکاروں کا کام نہیں ہے، بلکہ اعتماد دینے کے بعد اُس اعتماد کے متقضیات کی پاسداری کرنا بدرجہ اُتم ضروری بن جاتا ہے۔ ہم نے اپنے گھر میں بزرگ و تجربہ کار فرد کے ہاتھ گھر کی رزم گاہ تھما دی، وہ ہماری ہر ایک ضرورت کو پورا کر رہے ہیں، بچوں کی تعلم و تربیت کا خاص خیال کر رہے ہیں، ہمارے لئے باقی اشیائے ضروریہ مہیا ر کر رہے ہیں ، لیکن ہم اُن کی ایک نہ سنتے ہوئے اپنی من مانیا ں کر رہے ہیں، ہروقت لڑائیاں اور جھگڑے کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں گھر کا کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، گھر کو آباد کرنے کی خاطر اپنی ذ مہ واریاں تن دہی سے پوری کرنے کی ہدایا ت دے رہے ہیں، ایک دوسرے سے محبت و الفت کے ساتھ پیش آنے کا سبق سکھلا رہے ہیں، لیکن ہم اُن پر بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ الزامات کی بارش کر رہے ہیں ۔ ذرا تصورکریں کیا ایسا گھر آباد ہو سکتا ہے؟ کیا ایسے گھر میںکوئی سکھ شانتی کے ساتھ جی پائے گا؟ کیا ایسے گھر میں کوئی ترقی ہو سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔ 
اعتراضات :ہمارے ہاں عوامی حلقوں میں لیڈر شپ کے بارے میں جب کہ بہت کچھ بولا اور کُریدا جارہا ہے، پیرو کاری اور اِ س سے وابستہ اعمال کو سِرے سے ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جیسے کہ وہ کہیں وجود تک میں نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں یہاں تو ہر کوئی اپنی انفرادی لیڈری کی دکان چمکانے پر تُلا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ ایک منطقی بات ہے کہ پیر وکاری کے بغیر کوئی لیڈر شپ وجود میں نہیں آسکتی اور کسی ایک مقصد کولے کر ایک سے زیادہ لیڈروں کا ہونا خروج کے مترادف ہے ۔ لیڈر او ر پیروکار ایک ہی سکے کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنا یا صرف ایک ہی رُخ کے اوپر زیادہ زُور دینا سکے کے وجود کو ہی ختم کر دیتا ہے۔ اس طرح سے دونوں میں مساوات اور باہمی ربط ہونا بھی لازمی ہے۔ سکے کے ایک رُخ کے متعلق اگر سوالات اٹھائے جائیں، لامحالہ دوسرے رُخ کو بھی اُسی سوالی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اِس سکے کی مثال کھلی فضا میں لٹکائی ہوئی اُس نادرتصویر کی سی ہے، جسے ہر روز ہزاروں کی تعدار میں لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہوں۔ اِس تصوریر کے دونوں رُخ باہم اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ایک رُخ کو سنوارا جائے لیکن دوسرے رُخ کو جوں کا توں چھوڑا جائے تو یہ پوری تصور کی بد صورتی کا ضامن بن جائے گا۔
پیروکاری :پیروکاری لیڈرشب کا دوسرا نام ہے۔ کسی مقصد کو پار کرنے کے لئے لیڈر کا ہونا ضروری ہے، لیکن لیڈر کا ہونا بذات خود پیروکاوں کو جنم دیتا ہے۔ اس طر ح سے لیڈر کو اپنے پیروکاروں کی راہنمائی کرنے کی ذمہ واری ہوتی ہے وہیں پیروکاروں کو بھی کچھ مخصوص ذمہ واریاں انجام دینی ہوتی ہیں۔ جبھی پیروکار اپنی ذمہ واریوں کو سمجھ سکیں تبھی مقصد کے تئیں کچھ حاصل کرنے کی آس باندھی جاسکتی ہے۔ عظیم لیڈر ہمیشہ باصلاحیت و باہمت پیروکاروں کے بیچ میں ہوتے ہیں۔ یہی وہ اشخاص ہوتے ہیں جو اپنے لیڈر کو کسی ناگہانی آفت سے بچنے کی سبیلیں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ موقع و محل کو دیکھتے ہوئے اپنے لیڈر کا ساتھ دے کر اپنے مقصد کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں۔یہ باہمت پیروکار ہی ہوتے ہیں جو مخدوش حالات میں اپنے لیڈر کو آئینہ دکھا کر اِس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ اُن سب میں سے نمایاں ہے۔ایسے پیروکاروں کا ربط و تعلق اپنے لیڈر سے کھبی نہیں ٹوٹتا، چاہے حالات کتنے بھی خطر ناک ہو۔ اُن کی مخلصی و جانفشانی ہی لیڈر کو اُنہیں مقصد کے قریب لانے میں معاون و مدد گار ثابت ہو تی ہیں۔ بھروسے مند پیروکار اچھے سننے والے ہوتے ہیں۔ اُن کی چاہت ہمیشہ امیدوں، معیاری خواہشات اور نقطہ نظر کو یکسر تبدیل کرنے والے بیانیوںکی ہوتی ہے۔اُن کی توجہ زبانی کلامی سے زیادہ عملی اقدامات پر ہوتی ہے۔ اپنے مقرر کئے ہوئے دستور سے وہ رُوح کی غذا حاصل کرتے ہوئے جذباتوں سے سرشار اپنے مشن کی آبیاری کرنے میں محو تن ہوتے ہیں۔ اُن کے اندر صبر اور نظم و ضبط کا مادہ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اُنہیں نہ اپنے چھوٹے رہنے کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی بڑا بننے کی خواہش۔ اپنے لیڈر کو ساتھ لے کر وہ جس مقام پر ہوتے ہیں ،بس اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی فکر کر رہے ہوتے ۔ 
پیروکاروں کی خصوصیات :ایسی بہت ساری خصوصیات جو ہم لیڈر کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں، پہلے ہمیں اپنے اندر لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثبت اقدامات، آزادی اظہار، اپنے مقصد کے تئیں مخلصی، ہمت و حوصلہ، وغیرہ کچھ ایسی جانفشانی سے لبریز امدادی خصوصیات ہو سکتی ہیں، جن سے سرشار ہو کر ایک مامور اپنے لیڈر کے ہاتھ پائوں بننے پر فخر محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اپنے مقصد کے حصول میں جتنے زیادہ سوالات ایک لیڈر کے اورپر کئے جا سکتے ہیں، اُسے کئی زیادہ اشکالات مامورین پر بھی وارد ہو جاتے ہیں۔ بات یہی پر ختم نہیںہو تی، اپنے لیڈر کو مثبت اسپورٹ دینے کے علاوہ اُسے لائحہ عمل فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرکہیںلیڈراپنے مقصد سے ہٹ جائے، اُسے بر وقت سیدھے راستے کی طرف موڑ دینا ہی مامورین کا کام ہوتا ہے۔ عوام سے رابطہ کٹ جانے کی صورت میں احتمال ہو سکتا ہے کہ لیڈر کچھ ایسی ہدایات جاری کرے ، جو عوامی مفاد کے برخلاف ہو، اُس وقت یہ اُس کے مامورین کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ اپنے لیڈر کو اصل راہ کی طرف گامزن کریں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ملک کے ذہین و فطین لوگ لیڈری کو پسند نہیںکرتے، اس طرح سے مسندِ لیڈری پر وہ لوگ فائز ہو جاتے ہیں، جنہیں عوامی مفاد کا ذرا سا بھی ادراک نہیںہوتا۔ وہاںپر ذمہ داری عالم و فطین لوگوں کے اوپر پڑ جاتی ہے کہ لیڈر کو روحانی غذا فراہم کر کے اُسے سیدھے راستے کی طرف موڑ دیں۔ لیڈر ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ عمومی طور یہ اللہ کی طرف سے عنایت کردہ ایک گُن ہوتا ہے، جسے کم ہی لوگوں کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اِ س گُن کو اخلاقی حدوں ، دیانت داری اور خشیت الٰہی کے رموزات سے سر شار کرانا ملک کے اہلِ دماغ پیروکاروں کا کام ہوتاہے۔ غلط اقدام اُٹھاتے وقت لیڈر کو ٹوکنا، پالیسی بناتے وقت راہنمائی کرنا، عوامی مفاد کو برقرار رکھنے میں اُن کی مدد کرنا ہر ایک پیروکار کا کام ہوتاہے۔ ایسا قطعی طور پر نہیںہو سکتا کہ کسی ایک انسان کی اندھی تقلید کر کے اُسے لیڈری کا تاج پہنا کر رابطہ منقطع کیا جائے اور اُس کے بعد یہ امید رکھنا کہ وہ ہمارا کوئی بھلا کرے۔  
منفی اپروچ: موجودہ دور کے تناظر میں ہمیں سمجھنا چاہے کہ کہ وہ دن اب اِس دنیا سے رحلت کر چکے ہیں جب پیروکاروں کا مطلب اپنے لیڈر کے سامنے سر جھکائے اور اُس کی ہر بات پر سمع وطاعت کرنا ہوتا تھا، اب زمانہ آچکا ہے کہ لیڈر کے اوپر اُس کے سامنے سوالات کئے جائیں، اسے اپنے اعتماد کی رکھوالی میں ایک ایک پَل کا حساب مانگا جائے، اُس کی جانبدارانہ باتوں پر اعتراضات اُٹھائے جائیں، اور اُسے واپس اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹنے کو کہیں۔ اپنے اندر ایسا شعو ر نہ لانے کے بعد کیوں کر یہ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے لیڈر کو کوستے رہیں۔ تب تک وہ آپ کے اعتماد کی چوری کرتے ہوئے آپ کی نظروں سے غائب ہو چکا ہوتا ہے اور آپ کو کفِ افسوس مَلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ لیڈری اس طرح سے بس یہی نہیں ہے کہ کسی ایک انسان کو لیڈر بنا کر اُسے ہر وقت سوالات و اعتراضات کئے جائیں، سوشل میڈیا پر یا اخباری بیانوں میں اُن پر تنقید کی جائے، لیڈری کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ پیروکار کتنے ہوشیار ہیں اور وہ اپنے لیڈر کو کتنا جواب دہ ٹھہر اتے ، جس کے لئے پیروکاروں کا لیڈر کے ساتھ عملی زندگی میں رابطہ استوار کرنا ضروری ہے۔ لیڈر سے رابطہ اختیار کئے بغیر، اُنہیں اُن کے پیچھے اپنی پیروکاری کا ثبوت فراہم کئے بغیر یہ بڑی حماقت ہوگی کہ اُن کے خلاف پروپگنڈے کئے جائیں، اُن کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اختلاف و اعتراضات تو ہونے چاہیں ، لیکن اس سے پہلے کہ اُن اختلافات سے متعلقہ لیڈر کواحسن طریقے سے آگاہ کرانا اور اُن کی بھی رائے جاننا ضروری بن جاتا ہے۔ پسِ منظر کو پسِ پشت ڈال کر اپنی فوری رائے کسی پر مسلط کرنا سب سے بڑی منافقی ہے۔نہ صرف دوہرے پن بلکہ یہ انسان کے علمی و اخلاقی دیوالیہ پن کا بین ثبوت پیش کرتا ہے۔
لیڈری گو کہ ایک اعزاز ہوتا ہے، لیکن سمجھنا چاہے کہ یہ اصل میںذمہ واریوں کا سنگین بوجھ ہوتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ پیروکاراپنے لیڈر کو جواب دہی کا احساس نہ دلاتے ہوں اور وہ اُنہی کے حق پر شب و خون مار تا ہو اور جس کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا کہ لیڈر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہوتا۔ اگر لیڈر کو یہ احساس دلایا جائے کہ آپ ایک کثیر آبادی کے نمائندہ ہو اور ٓپ سے عوامی عدالت میں ہر ایک بات پر باز پُرس ہوگی، ہماری نگاہیں آپ کے ہر ایک کام پر لگی ہوئی ہیں، اُس کے بعد ہی عوام کے بھلے کی امید کی جا سکتی ہے ۔
خاتمہ: مندرجہ بالا بحث ہمیں پیروکاری کے کچھ اہم نقطوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ پیروکار بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں؟ ایک، بھیڑ بکریوں کی طرح، جو ہر ایک بات پر بلا چون و چرا آمنا و صدقنا کرتے ہیں۔ دوسرا، چمچے لوگ جو ہر ایک بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور ہمیشہ اپنے لیڈر کو صحیح ثابت کرنے کی محنت میں مصروفِ عمل ہوتے ہیں ۔ تیسرا، خوارج جو روٹھے بلکتے اپنی ایک الگ فکر لے کر لیڈر سے اختلافِ رائے رکھتے ہوئے تخریبی کاروائیاں عمل میں لاتے ہیں۔ چوتھا، مفاد پرست جو موقع کو پاتے ہوئے اپنے آرام و صوبدید کے مطابق باتیں کرنے والے اور اپنی ہانڈی گرامانے والے ہوتے ہیں۔ چوتھا، ایسے خورد بین والے لوگ جو خود بھی سوچتے ہیں اور دوسروں کو بھی سوچنے کی دعوت دیتے ہوئے ہمہ و قت اور ہمہ تن اپنے لیڈر کا ساتھ دئے اُس کو وقت وقت پر صحیح مشورے دینے والے ہوتے ہیں۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ہم کون سی پیروی اختیار کرنے والے لوگ ہیں اور ہمیں کون سا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے؟۔
پسِ تحریر:اس تحریر کا کسی بھی سیاسی ،سماجی یا مذہبی نقطہ نگاہ سے دور کا تعلق تک نہیں ہے۔ متعلقہ اقتباسات سے کوئی بھی فرد اپنی صوابدید و فکر کے مطابق اتفاق و اختلاف رکھنے کا معقول حق رکھتا ہے۔  
(مضمون نگار جامعہ کشمیر میں شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں)
 ای میل۔ hilal.nzm@gmail.com