تازہ ترین

کیا انتظامیہ کو ڈائٹنگ کی ضرورت ہے؟

درجنوں محکمے اور اربوں روپے کے مصارف ، کچھ تو بھلا ہو عوام کا

تاریخ    1 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
جموں کشمیر ہندوستان میں واحد خطہ ہے جہاں سرکاری ملازمین کی فی کس نسبت (Per Capita Ratio) سبھی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بِہار جیسی ریاستوں میں ہر سرکاری ملازم کے مقابلے شہریوں کی تعداد3500 سے 4000 کے آس پاس ہے جبکہ ہمارے یہاں ہر800 شہریوں کے مقابلے ایک سرکاری ملازم ہے۔ جموں کشمیر میں ہر شہری کے مقابلے  ملازمین ہیں اور جموں کشمیر مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بہار وغیرہ سے نہ صرف رقبہ بلکہ آبادی کے لحاظ سے بھی بڑی ریاستیں ہیں۔ اور اْدھر شہری۔ملازم کی نسبت ہمارے سے بہت کم کے باوجود وہاں انتظامیہ کا یہ حال نہیں جو ہمارے یہاں ہے۔ 
جموں کشمیر کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ تک ہے اور اْس میں سے ہم40 ہزار کروڑ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ بتایا تو جاتا ہے کہ بہت بڑی رقم تعمیراتی کاموں کے لئے مختص ہے۔ لیکن دلچسپ بات ہے کہ دفتروں کے رکھ رکھاو، نئے دفاتر کی تعمیر، گاڑیوں کی خریداری، فرنیچر وغیرہ سب کیپیٹل مصارف میں درج کیا جاتا ہے، جبکہ یہ سب بھی ملازمین کی سہولات اور اْن کی آسائش کے لئے ہوتا ہے۔ 
رواں مالی سال کے دوران سڑکوں کی مرمت اور تعمیر پر 200 کروڑ روپے سے بھی کم رقم خرچ کی گئی ، اور اْن سڑکوں میں بھی بیشتر ایسی تھیں جو یا تو فوجی اہمیت کی تھیں یا پھر سرکاری دفاتر اور اعلیٰ حکام کے محلات کی طرف عبور و مرور کی خاطر۔بیشتر سٹرکیں یا تو خستہ ہیں یا اْن پر سفر اپنی ہڈیوں کی خبر لینے کے مترادف ہوتا ہے، حالانکہ ہر کمرشل یا نجی گاڑی سے باقاعدہ روڑ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔  
بجلی محکمہ اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے عام لوگوں پر چوری کا الزام عائد کرتا ہے، حالانکہ لاکھوں صارفین بلاناغہ فیس ادا کرتے ہیں اور اربوں روپے کے بقایا جات سیکورٹی فورسز اور سرکاری محکموں کے پاس واجب الادا ہیں۔پینے کے صاف پانی کی صد فی صد فراہمی کے وعدے اب مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ 
چالیس ہزار کروڑ کا چارہ کھانے والا ہمارا ہاتھی نْما انتظامیہ جب ہر محاذ پر ناکام ہوجائے تو ایسے میں عام شہری یہی سوچے گا کہ ہماری انتظامیہ کا حد سے زیادہ وزن بڑھ گیا ہے، یہ اب ہل نہیں سکتا ہے، اسیڈائٹنگ کی ضرورت ہے۔ قوانین منظور ہوتے ہیں، اْن کے تحت وعدے کئے جاتے ہیں کہ نااہل اور غیرپیداوری افسروں کو فارغ کیا جائے گا تاکہ انتظامیہ جوابدہ ہو، فعال ہو، شفاف ہو۔ میں نے بار بار یہ لکھا ہے کہ سرکاری ملازم لوگوں کا نوکر ہے اسی لئے اْسے پبلک سرونٹ کہتے ہیں اور ملازمت کو پبلک سروس کہتے ہیں۔ لیکن یہ سب محض اصطلاحات ہیں، اصل میں انتظامیہ مجموعی طور پر ایک ایسا گورکھ دھندا بن گیا ہے جس سے عام شہری کو کوئی توقعہ نہیں۔ 
انتظامیہ کو چور سمجھنے کا رْحجان پھر حکومت بیزاری کے احساس کو جنم دیتا ہے اور اسی احساس سے لاقانونیت اور خلاف ورزیوں کے جرثومے پھْوٹتے ہیں۔ لوگ جب قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو راشی افسران اسے مٹھی گرم کرنے کا خْداداد موقعہ سمجھ کر اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں۔ ایسے میں پرنالہ پرنالے کی جگہ رہتا ہے۔ 
حساس حلقے تجاویز دیتے دیتے اوب گئے ہیں، اور افسروں کو بھی اب لگتا ہے کہ موٹی تنخواہیں اور مرعات لینے کے لئے ہی وہ کْرسی پر بیٹھے ہیں۔ مرکزی حکومت درجنوں منصوبوں اور سکیموں کا اعلان کرتی ہے، یہی افسران جْھوٹی رپورٹس بھیج کر مرکزی سرکار کو یہ باور کرواتے ہیں کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔ 
اس بھاری بھرکم انتظامیہ پر عوامی خزانے سے چالیس ہزار کروڑ روپے کی وہی رقم خرچ ہورہی ہے جو ہر شہری کی کمائی سے کاٹی گئی  ٹیکس سے جمع ہوتی ہے۔ لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انتظامیہ فعال کیوں نہیں، کیوں کام نہیں ہورہا ہے یا اگر کہیں ہورہا ہے تو وہ غیرمعیاری اور ناقص کیوں ہے؟ لیکن یہ پوچھے گا کون؟ 
کشمیر میں سماجی سطح پر سرگرم ہونا ہمیشہ سیاست کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ کسی بھی طرح کے انتخابات ہوں تو چند ماہ قبل مختلف علاقوں میں کچھ انجمنیں پیدا ہوجاتی ہیں، اْن کے کارکن تعمیروترقی کے وعدے کرتے ہیں، گلی کوچوں میں چند ایک بلب لگواتے ہیں، کوئی نالی ٹھیک کروا دیتے ہیں اور بس۔ کیا چالیس ہزار کروڑ روپے انتظامیہ کو فعال کرنے کے لئے کم ہیں جو ہر محلے اور ہر بستی میں ایک کھڑپینچ کی ضرورت ہے جو افسر کو یہ یاد دلائے کہ فلاں جگہ پر فلاں کام برسوں سے معطل ہے اْس کو مکمل کرو؟ 
یہ ساری صورتحال انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کشمیر میں حکومت کو اعتباریت کے بحران کا سامنا ہے اور گزشتہ سات دہائیوں سے اسی اعتباریت کی بحالی کے لئے افسروں کو پالا پوسا جارہا ہے۔ اعتباریت افسروں کی خوشامد اور اْن کی نااہلیوں پر پردہ ڈالنے سے بحال نہیں ہوتی۔ اعتباریت عوام کو یہ احساس دلانے سے بحال ہوتی ہے کہ حکومت واقعی عوام دوست ہے، اس کے افسروں اور ملازمین کو لوگوں کی فکر ہے، وہ لوگوں کی خدمت کے لئے وقف ہے۔ 
ہمارے یہاں تین مرتبہ بڑے طمطراق سے ’بیک ٹْو ولیج‘ اور شہر میں ’بیک ٹْو وارڈ‘ کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پھر ایک بار حکامِ بالا ’عوامی دربار‘ لگاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ  ابھی تک حکومت یہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ چالیس ہزار کروڑ کی خوراک کھانے والی انتظامیہ ہِل ڈْل کیوں نہیں رہی؟ انتظامیہ کبھی کوئی فیصلہ بھی کرلے تو لوگوں کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا ہے۔ 
گوشت کا معاملہ ہی لیجئے۔ تاجروں اور قصابوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کئے بغیر اچانک ایک نرخ مقرار کیا جاتا ہے، قصاب ہڑتال کرتے ہیں، پنیر اور مرغ کے نرخ بڑھ جاتے ہیں۔ کیا اسے انتظامیہ کہتے ہیں؟ یہ سمجھے بغیر کہ راجستھان اور دلی سے بھیڑوں کی ٹرکیں کون کون سی مصیبتیں جھیل کر یہاں پہنچتی ہیں اور تھوک میں اس کے کا دام کیا ہیں، حکومت بے تْکے اعلانات کرتی ہے۔ اگر سات دہائیوں سے گوشت کے نرخ نہیں سمجھ پائے تو باقی معاملات کا کیا حال ہوگا۔
 اگر واقعی حکومت کو بہت تکلیف ہے کہ گوشت مہنگا بِک رہا ہے تو سینکڑوں کروڑ روپے سے چلنے والا امورِ صارفین محکمہ کیوں بے کار ہے۔ اسی محکمے کے ذمے گوشت کی سپلائی اور ٹرانسپورٹیشن دی جائے، پھر اگر قصاب نکھرے کریں گے تو عوام کی حمایت حکومت کی جانب ہوگی۔ یہی محکمہ پہلے پہل کپڑا، ایندھن، چینی، تیل خاکی، کھانے کا تیل ، کاغذ، کاپیاں وغیر تقسیم کرتا تھا۔ گوشت میں کیا پرابلم ہے؟ 
عوام فی الوقت ہر سطح پر پریشان ہیں۔ سڑکیں خستہ، پانی کا نکاس فرسودہ، پینے کے پانی کی سکیمیں ٹھپ، بجلی کے معنی ہی کٹوتی ، اشیائے خوردنی میں کوالٹی کنٹرول نایاب۔ اس سب کے بیچ تعمیروترقی کے نام پر سیاسی کنکشن رکھنے والے ٹھیکیدار عیش کررہے ہیں اور انتظامیہ اپنے موٹاپے کو اینجوائے کررہی ہے۔
 اگر واقعی بڑے حاکم چاہتے ہیں کہ انتظامیہ بہتر ہو تو اس کی فوراً ڈائٹنگ شروع کی جائے، افسروں کے مرعات، الاونس اور ترقیاں اْن کی کارکردگی کی باقاعدہ رپورٹ کے ساتھ مشروط کی جائے، اور عوام کے اس اہم سوال کا جواب سامنے لایا جائے کہ چالیس ہزار کروڑ روپے جس کام پر خرچ ہورہے ہیں وہ ہو کیوں نہیں رہا؟ 
(کالم نویس سینئرسماجی کارکن ہیں، رابطہ۔ 9469679449، abdulqayoomshah57@gmail.com)