تازہ ترین

عجم پر عالمِ عرب کی سرگرمیوں کے اثرات

کیا مسلم دنیا کی نئی صف بندی ہورہی ہے؟

تاریخ    1 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
دنیائے عرب کے اندر ماضی قریب میں دو ایسی پیش رفت وقوع پذیر ہوئیں جن کے اثرات سے جنوب ایشیا ،خاص طور سے بر صغیر ہند و پاک کا خطہ بہت حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ20ریال کے اُس کرنسی نوٹ کو تبدیل کررہا ہے جس میں آر پارجموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان سے الگ خطہ دکھایا گیا تھا ۔مذکورہ کرنسی نوٹ کے اُلٹے طرف بنے اس نقشے کو لیکر نئی دلی نے سخت ناراضگی جتائی تھی۔اس نوٹ کی اجرائی سعودی عرب نے حالیہ جی۔20اجلاس کے موقع پر یادگار کے طور پرکیا تھا۔
 ادھر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کی باضابطہ استواری کے بعد اسلام آباد پر بھی ایسا ہی کرنے کا دبائو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاں کے قوانین تک کو بدلنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ماہ ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے اندر اسرائیل کی نیم برہنہ ماڈلز کو اپنے ملک کا پر چم لہراتے ہوئے پایا گیا ۔ بعد ازاں شائع اطلاعات کے مطابق وہاں ملک بدر کئے گئے لوگوں کو شہریت فراہم کرنے کا قانون پاس کیا گیا اور اکتوبر کے آخر میںملک کی سر زمین پر اسرائیل کا پہلا مسافر طیارہ اُترنے کے بعد ماہ نومبر کے پہلے ہی ہفتے میں ناجائز جنسی تعلقات (Live in relations )کی اجازت اور شراب کی پابندیوں میں نرمی کے قوانین بھی پاس کرلئے گئے۔
ادھربھارت اور سعودی عرب کے رشتے بھی نئے منازل طے کررہے ہیں یہاں تک کہ حالیہ ایام میں دونوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔امریکہ ،نئی دلی ،اسرائیل اور سعودی عرب کے بڑھتے مراسم کی بنا پر بھارت کو توقع ہے کہ تل ابیب اور وائٹ ہائوس کی ایما پر ریاض مستقبل قریب میں کشمیر سے متعلق اُس کے دعویٰ اور پالیسی کی حمایت کرے گا۔اگر سعودی عرب نے  نئی دلی کو راضی کیا، جیسا کہ آثار و قرائن سے ظاہر ہے، تو تجزیہ نگاروں کے مطابق اُس صورت میں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کا دیرینہ رشتہ ٹوٹنے کی حد تک متاثر ہوسکتا ہے جس سے مسلم دنیا کے اندر بھی نمایاں تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کا قوی امکان ہے جو اپنی جگہ ایک الگ اور وسیع موضوع ہے۔قابل ذکر ہے کہ بھارت اور سعودی عرب کے مابین ’ویژن2030ـ‘ کے تحت سٹریٹیجک معاہدہ ہے جس پر نئی دلی اور ریاض میں خوب بغلیں بجائی جارہی ہیں۔ 
سعودی عرب نے پہلے ہی اپنی ترجیحات کے سلسلے میں واضح اشارے دئے ہیں۔سلطنت سعودیہ کو اطلاعات کے مطابق بھارت کے اندر صرف ریلائنس انڈسٹریزپرکم و بیش60بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کرنی ہے۔اُسے یہاں تیل صاف کرنے پر بھی60بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھاری منصوبہ ہے۔
اس کے برعکس سعودی اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی سطح بہت ہی نیچے تک گر گئی ہے۔سعودی عرب نے حالیہ ایام میںبار بار کشمیر سے متعلق پاکستان کی پالیسی کی حمایت سے انکار کیا ہے۔حالانکہ ماضی قریب تک یہی سعودی عرب پاکستان کی کشمیر پالیسی کا زبردست حمایتی رہا ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلامی دنیا کی سربراہی کا دعویٰ کرنے والے سعودی عرب کی پالیسی کسی منفرد فکر کے بجائے دوسرے عام ممالک کی طرح اپنے مفادات کے ہی تابع ہے ۔خاص طور سے ایک مسلمان ملک کے بارے میں سعودی عرب کا یہ رویہ بے شک مسلم دنیا کیلئے باعث تشویش ہے۔
 یہ امر قابل غور ہے کہ حال ہی میں منعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے ایک اجلاس میں جب اسلام آباد نے سعودی عرب کے کشمیر سے متعلق سٹینڈ کو ہدف تنقید بنایا تو سعودی نے پاکستان کیلئے تیل سپلائی سے متعلق بھاری قرضے کی فراہمی کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔تجزیہ نگاروںکا ماننا ہے کہ سعودی کی دیرینہ پالیسی تبدیل ہونے کے پیچھے واشنگٹن اور تل ابیب کا اثر و رسوخ کارفرما ہے جن کے ساتھ اس کے مراسم ناقابل یقین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ 
سعودی عرب حکومتی پالیسی کی یہ تبدیلی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل  کے مابین اُس اہم معاہدے کے بعد کھل کر سامنے آئی ہے جس کو یورپ’امن معاہدہ‘ کہہ کر پکارتا ہے اور جس نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے بہت بڑے مارکیٹ کو تل ابیب کی جھولی میں ڈالدیا ہے۔یو اے ای ۔اسرائیل معاہدے کے بعد یو اے ای میں گذشتہ کئی ماہ سے اب اسرائیل میں تیار کی گئی اشیاء ہی بیچی جارہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق امارات کا رخ کرنے والے اسرائیلیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظروہاں کے ہوٹلوں اور ریستورانٹوںمیں اب’ کوشیر‘تیار کرنے کی جیسے دوڑ لگ گئی ہے، جو اسرائیل کا روایتی پکوان ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ مسلم سلطنت یو اے ای اور یہودی ملک اسرائیل کے مابین رشتوں کی استواری سعودی عرب کی ایما پر ہی عمل میں آئی ہے۔یہاں تک بھی اطلاعات ہیں کہ اسلامی دنیا کا مرکز کہلانے والے سعودی عرب اور یہودی ملک اسرائیل کے مابین بھی ساری دوریاں مٹنا بھی اب محض ایک اعلان کی دوری پر ہیں۔اسلامی دنیا کے اندر تقسیم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یو اے ای نے18نومبر کو اچانک پاکستانی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کی۔پاکستان کے ساتھ ساتھ یمن،شام،عراق، سومالیہ،لیبیا، کینیا اور افغانستان کے شہریوں پر عائد یہ پابندی کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے نام پر عمل میں لائی گئی لیکن حقائق ان دعوئوں کے حق میں نہیں ہیں۔امریکہ اوربھارت میں تو روزانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس ظاہر ہورہے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات میں ان ممالک کے شہریوں کے داخلے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی! صاف طور سے واضح ہے کہ یو اے ای کی پابندی اُنہی ممالک تک محدود تھی جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔مبصرین کہتے ہیں کہ اسلامی دنیا کے اندرتقسیم کی یہ پہلی عملی صورت تھی جو واشنگٹن کے کہنے پر عرب ۔ اسرائیل رشتوں کی استواری کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔بعد ازاں گذشتہ ہفتے کے دوران منعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم کے اجلاس کے ایجنڈا میں شاید پہلی بار کشمیر شامل نہیں تھا۔27نومبر کو  نائجر کی دارالحکومت نیامی میں منعقدہ اس دورزہ اجلاس کا یجنڈا ریاض میں جاری کیا گیا تھا اور جب اُس میں لفظ ’کشمیر‘ غائب تھا تو مبصرین نے اس کو عرب۔ اسرائیل دوستی سے عجم پر پڑنے والے اثرات کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ 
حقائق چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ’تاریخی معاہدے‘ کے بعد سے یو اے ای اور پاکستان کے درمیان کشیدگی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔اس معاہدے کے بعد یو اے ای نے اسرائیل کی اعانت سے یمن کے جزیرہ سوکوترا میں خفیہ بیس قائم کیا تاکہ بلوچستان پاکستان میں واقع اہمیت کی حامل گوادھر بندرگاہ پر قریبی نظر رکھی جا سکے۔گوادھر چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا گیٹ وے ہے جہاں سے بیجنگ اپنی مصنوعات بحیرہ روم، یورپ اور امریکہ تک پہنچانے کا خواہشمند ہے ۔امریکہ اس اہم تجارتی راہداری کو بند کرنا چاہتا ہے اور اس کیلئے اُس نے اسرائیل کی مدد حاصل کر رکھی ہے۔امریکہ نے ایسے ہی اقدامات کرکے پہلے چین کا راستہ ابنائے ما لاکا میں روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 
ظاہر ہے کہ پاکستان کو اس بات کا علم ہے کہ اصل میں یہ خفیہ بیس اسرائیل کا اڈہ ہے جو خطے کی ’نگرانی‘ کررہا ہے ،اس لئے اسلام آبادنے حالات کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگاتے ہوئے ابھی یو اے ای کے شہریوں پر اپنے ملک میں داخلے کی پابندی کا ادلا بدلی کا فیصلہ بھی نہیں کیا۔بلکہ ایسا کرنا اسلام آباد کیلئے اس لئے بھی کافی مشکل ہے کیونکہ پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد حصول روززگار کیلئے یو اے ای میں موجود ہے اور اقتصادی طور کمزور پاکستان اس وقت نہیں چاہے گا کہ اُس کو اضافی مشکلات کا سامنا ہو، وہ بھی تب جب پوری دنیا کے اندر روزگار کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے جارہے ہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام آباد اپنی نظریاتی و فکری پالیسی پر نظر ثانی کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اُس کے ہاں مذہبی قوتیں ملک کے اندر ہنگامہ کریں گی جو اس کی داخلی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔پھر ایسا کرکے پاکستان کو کشمیر سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑے گی جو وہاں کے سیاست دانوں کیلئے سم قاتل سے کم نہیں ہوسکتا ہے، البتہ اگر اندرون ریاست(ڈیپ سٹیٹ) کو ملک کا مستقبل خطرے میں نظر آئے تو اُس صورت میں کچھ بھی خارج از امکان نہیں  ہے۔پاکستان کے سامنے بھارت کا یہ فیصلہ بھی ہے جس میں اس کے قریبی حریف ،جو امریکہ۔اسرائیل دوستی کا تیسرا سرا ہے، نے پہلے ہی یو اے ای کو انسانی وسائل بھاری تعداد میں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔
بالفاظ دیگر عرب۔اسرائیل دوستی کے اثرات محض عالمِ عرب تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ عالمِ عجم خاص کر اسلامی ممالک اور خطوںپر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔ کسے پتہ کہ ان میں کتنے اثرات مثبت اور کتنے منفی ہونگے ؟تاہم تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل و عرب کے مابین رشتوں کی تیزی سے استواری مسلم دنیا کے اندر نئی صف بندی کا مؤجب بنے گی کیونکہ اسلامی دنیا کے مزاحمتی ممالک بشمول پاکستان،ترکی ، ایران اور ملیشیا ہاتھ باندھے نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔لیکن یہ دیکھنا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ ان ممالک کی مزاحمت کی حد کیا ہوگی اور وہ اپنے اپنے داخلی و خارجی معاملات کا سامنا کس طرح کریں گے؟۔
���������������