تازہ ترین

نیا بجلی کٹوتی شیڈول … اندھیرا قائم رہے !

تاریخ    1 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔سیول سیکریٹریٹ کی جموں منتقلی کیا ہوئی ،وادی میں عملی طور اندھیرے کا راج قائم ہوگیاہے۔دربار مو دفاتر سرینگر میں بند ہونے کے بعد محکمہ بجلی نے پہلے ایک اوراس کے بعد اب نیا کٹوتی شیڈول مشتہر کیا جس میں اعلانیہ طور کہاگیا کہ میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں32گھنٹے بجلی نہیں رہے گی جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں یہ دورانیہ53گھنٹوں پر مشتمل ہوگا۔یوں نئے شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں اعلانیہ روزانہ ساڑھے چارگھنٹوں جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوںمیں روزانہ ساڑھے سات گھنٹوں کی کٹوتی ہوناتھی تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ جہاں میٹر والے علاقوں میں ان ساڑھے چار گھنٹوں کے علاوہ غیر اعلانیہ طور کم ازکم مزیدچار سے پانچ گھنٹوںکی کٹوتی ہورہی ہے وہیں بغیر میٹر والے علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال یہ ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ یہ کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے اور یوں عملی طور ان علاقوں میں سپلایوں سے کئی گنا زیادہ بجلی کٹوتی ہورہی ہے ۔
نئے کٹوتی شیڈول کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ خصوصی طور صبح اور شام کے اوقات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور نئے شیڈول کے مطابق دو نوں زمروں میں صبح ایک سے دو گھنٹے بجلی گل رہے گی ۔جہاں تک عقل و فہم کا تقاضا ہے تو یہ ایسے اوقات ہیں جب صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔شام کے وقت بجلی کا استعمال تو ویسے بھی عام ہے لیکن جب سردی کا موسم ہو تو صبح اور شام کے اوقات پر بجلی کی ضرورت اور زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔اب اگر اس شیڈول پر بھی عملدرآمد ہوتا تو بجلی کبھی کبھار درشن دیتی لیکن اس کے برعکس غیر اعلانیہ طور اس سے دوگنی کٹوتی کی جاتی ہے اور یوں عملی طور لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیاگیا ہے ۔
محکمہ بجلی نے حسب روایت اس بے تحاشا کٹوتی کیلئے وہی عذر پیش کیا ،جو وہ ہرسال پیش کرتے آرہے ہیں ،یعنی طلب اور سپلائی میں وسیع خلیج ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے ۔محکمہ بجلی کشمیر کی چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب بڑھ چکی ہے۔غور طلب ہے کہ طلب اور سپلائی میں موجود اس خلیج کوپاٹنے کیلئے کٹوتی شیڈول میں غیر میٹر یافتہ صارفین کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں پہلے سے ہی کٹوتی شیڈول پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔7لاکھ سے زائد بجلی صارفین میں سے 80فیصد کے قریب صارفین ایسے ہیں جو میٹریافتہ زمرے میں نہیں آرہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے کیلئے انہی80 فیصد صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ صارفین ،جو میٹر یا ایگریمنٹ کے تحت باضابطہ فیس اداکررہے ہیں ،ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بوقت ضرورت وافر مقدار میں بجلی فراہم کی جائے اور موسمِ سرما سے زیادہ صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت کب پڑ سکتی ہے۔
مانا کہ بجلی کی چوری بھی ہوتی ہے تاہم وہ بجلی کہاں سے آتی ہے جو  خاص الخاص افراد کیلئے چوبیسوں گھنٹے چالو رہتی ہے ۔کٹوتی شیڈول تو صرف عام لوگوں کیلئے ہے جبکہ وی آئی پی لائنیں ہمہ وقت چالو رہتی ہیںاور یوں کٹوتی شیڈول کے شکار صرف عام صارفین ہی بن جاتے ہیں جنہیں ارباب اختیار جموں روانہ ہوتے ہی سرما کے کٹھن موسم میں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
  بجلی بحران کیلئے خود محکمہ بجلی بھی کم ذمہ دار نہیںہے۔جہاں تک بجلی کے ترسیلی نظام کا تعلق ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ جموںوکشمیر کو صرف ناقص ترسیلی شعبہ کی وجہ سے سالانہ کروڑ وںروپے کے خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔سروے کے مطابق بجلی کی ترسیل کے دوران بوسیدہ اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے اس وقت بھی50فیصد کے قریب بجلی ضائع ہورہی ہے۔ایسے میں بجلی خسارے اور بجلی بحران کیلئے اکیلے صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ صارفین پر الزام لگانے کی بجائے محکمہ بجلی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کامکمل پوسٹ مارٹم کریں۔اس ضمن میں جہاں محکمہ میں موجود افرادی قوت کو جوابدہ بنانا ناگزیر بن چکا ہے وہیں محکمہ کی مشینری اور ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔جب بجلی شعبہ کی زبوں حالی کیلئے خود محکمہ ذمہ دار ہے تو محض بجلی چوری کا بہانہ بنا کر صارفین کو بجلی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ محکمہ بجلی کے حکام کو اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے اپنی خامیوں کو سدھارنا چاہئے،اس کے بعد ہی صارفین کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔