تازہ ترین

خالی دامانِ حیات

افسانہ

تاریخ    29 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ناصر ضمیر
"کون ؟"
"میں" 
"میں کون ؟"
"ارے میں ہوں" 
تھوڑی خاموشی کے بعد
"اوووو تم! "
"کیسے فون کیا ؟"
روکھا لہجہ 
"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔بات کرنی تھی"
"کیا بات ،کونسی بات، اتنی مدت کے بعد ! اتنے برسوں کے بعد ۔۔۔اب کونسی بات کرنی ہے؟"
"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانسی کا ایک ہلکا سا وقفہ 
"وہ۔۔۔۔۔کیا ہے کہ "
"ہاں کیا ۔۔۔۔پیسے چاہیں؟۔ صاف صاف کہو، خیر کوئی نہیں؛  اپنا اکونٹ نمبر بولو ،میں ٹرانسفر کر دوں گی ۔"
"نہیں نہیں ۔۔۔۔۔پیسے نہیں چاہیں "
"تو پھر ؟"
"وہ۔۔۔۔۔وہ تم سے بات کرنی ہے "۔
"ہاں۔ کہو میں سن رہی ہوں۔ پر جلدی کہو مجھے اور بھی بہت سارے کام ہیں ۔"
سرد مہری سے جواب 
"نہیں ایسے نہیں کہہ پاوں گا"
"پھر ؟"
"وہ۔۔۔۔
 وہ ملنا ہے تم سے" 
"ملنا ہے ؟"
اونچی آواز گونجی
"ممکن نہیں" 
"میرا مطلب۔ مجھے فرصت نہیں ہے" 
"پلیز ۔۔میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ میں سمجھ سکتا ہوں ۔تمہیں بھی ۔تمہاری مجبوریاں بھی"
کھانسی کا ایک اور وقفہ
پھر خاموشی 
ذرا وقفے کے بعد 
"کہاں سے بول رہے ہو؟" 
"پبلک ٹیلی فون بوتھ سے" 
"کیوں اپنا فون نہیں ہے ؟"
"نہیں ۔۔۔۔۔"
"کیوں؟"
"بس نہیں ہے" 
"بڑی مشکل سے  تمہارا نمبر ڈھونڈا ہے۔" پھر کچھ خاموشی کے بعد
"یہاں کب سے ہو ؟"
"بس کچھ دن سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دن  سے تمہارے شہر میں ہوں "۔
"کوئی آفس کا  کام تھا ؟"
"نہیں ۔۔۔۔۔وہ آفس۔۔۔۔۔آفس کا کام نہیں تھا ؛ میں اب کام نہیں کرتا"۔ 
"مطلب ' ریٹائر ہوگئے ہو!" پر ابھی تو تمہارے ریٹائیرمنٹ میں ٹائم ہے شاید!"
"ہاں ابھی ٹائم تھا"
"تو پھر؟"
"وہ۔۔۔۔۔خیر کوئی اور بات کریں؟" 
"چھوڑ دی؟" 
"نہیں ۔۔۔۔۔۔۔چھوڑی نہیں ۔۔۔۔"
"تو پھر ؟"
"نکال دیا گیا"۔ 
"کیوں ۔۔کوئی غبن یا فراڈ کیا تھا ؟"
"نہیں تو ۔۔۔۔ایسا کیوں کرتا بھلا ۔؟"
"نہیں وہ میں نے سوچا تم ہمیشہ تنگ دست رہتے ہو۔ تمہیں ہر وقت روپے پیسوں کی ضرورت رہتی ہے اسی لیے کہا "
 "تم اچھی طرح جانتی ہو۔ بھلے  ہی میرا ہاتھ کتنا تنگ رہا ہو ۔پر۔۔۔ پر میں کبھی بھی ایسا ویسا کام نہیں کرتا، جس کے کرنے پر شرمندگی ہو"۔
"پھر یہاں کیسے ؟"
"بس یوں ہی گھومنے آیا تھا "۔
"گھومنے ! یا پھر کسی بہانے مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ کہو؟"
پھر دونوں اطراف خاموشی 
"ایڈمٹ تھا "
"کہاں ؟"
"یہ۔۔یہاں سٹی ہسپتال میں"
"بیمار تھے؟"
"ہاں۔"
"کیا بیماری تھی؟"
"کچھ نہیں بس تھوڑی سی کمزوری اور ۔۔۔   خیررہنے دو"
"کب ڈس چارج ملا؟"
:سچ کہوں؟" 
"ہاں بالکل  تمہیں معلوم ہے مجھے جھوٹ سے نفرت ہے" 
"ڈس چارج ملا نہیں! 
پھر ؟"
"بھاگ نکلا "
"ہیں! ۔۔۔۔حسب عادت۔۔۔"طنز بھرا لہجہ 
"ٹھیک کہا" 
" سچ پوچھو تو مجھے کوفت ہو رہی تھی ۔ہسپتال میں ساتھ مریضوں سے,وہاں کے ڈاکٹروں سے سٹاف سے،وہاں کی بو سے ۔۔۔۔۔ اسی لیے ۔۔۔۔بھاگ کھڑا ہوا" 
 پیر کانپنے لگے 
"کہاں انتظار کروں؟"
’’نہیں آسکتی ۔وہ ڈرائیور گاڑی ٹھیک کرانے لے گیا ہے" 
"پر ۔۔۔۔۔پر مجھے ضروری بات کرنی ہے"
"میں نے کہا نا ۔۔۔۔۔نہیں آسکتی بعد میں کبھی ملیں گے تو بات کر لیں گے ۔۔۔۔۔۔ "
۔۔۔ٹالتے ہوئے
"پر۔۔۔۔۔!
"پر کیا ؟"
"پر۔۔۔میرے پاس وقت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔"
کھانسی کا ایک اور زوردار جھٹکا
پھر کچھ خاموشی ۔۔۔۔۔۔  
دم سنبھالتے ہی ۔۔۔"میں تمہارا وہیں انتظار کروں گا ۔"
تھوڑے تؤقف کے بعد،
"جہاں ہم ملا کرتے تھے۔  مجھے نہیں پتا وہ جگہ ابھی ۔۔۔ویسی ہی ہے یا پھر ۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔ وہ ریستورنٹ ہے بھی یا نہیں۔  پر میں اسی عمارت کے سامنے تمہارا  انتظار کروں گا۔۔۔۔۔بس تمہارا انتظار کروں گا۔ آؤ گی نا ،؟"
"میرے پاس فون نہیں ہے۔۔ پر مجھے امید ہے ۔ہم دونوں کو ایک دوسرے کو پہچانے میں دقّت نہیں ہوگی، خاص کر مجھے۔۔۔۔میں تصّور کرسکتا ہوں کہ تم اب کیسی دکھتی ہونگی۔"
"اچھا رکھتی ہوں "۔۔۔۔بات کاٹتے ہوئے ۔۔۔
"کیوں ؟"
"وہ۔۔۔وہ نمّو آتی ہوگی" 
"نمّو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
"ہاں میری بیٹی" 
"اچّھا بیٹی ہے؟" 
"ہاں اور ایک بیٹا بھی ،دونوں ماشااللہ اب جوان ہوگئے ہیں ۔"
"اور تمہارے؟‘‘
"کیا ؟"
"تمہارے کتنے بچے ہیں ؟"
خاموشی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
  سانس پھول رہی ہے اور صرف اُسی کی ہی آواز آرہی ہے کچھ وقفہ بعد 
"نہیں ۔۔۔۔شادی نہیں کی میں نے"
"کیا ؟"
"ہاں"
"او ہو عین اپنی طبعیت کے مطابق۔! ویسے اچھا کیا،برا نہ مانو تو ایک بات کہوں ۔؟"
"ہاں کہو"
"تم سے کوئی شادی کر بھی نہیں سکتی تھی ۔"
طنزیہ مسکراہٹ 
پھر ایک اورخاموشی کا وقفہ 
"شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو ،تم سے بہتر مجھے کوئی  سمجھ  نہیں سکتا ہے، کوئی  جان نہیں سکتا ۔میرا یقین مانو میں اتنا کم عقل بھی نہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچاؤں پر۔ مجبوری ہے۔۔۔  بات بہت اہم ہے۔ بے حد ضروری۔۔۔۔" 
پھر شدید کھانسی کا دورہ
"بس جلدی آجانا ۔۔۔ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔۔"فون کٹ جانے کی آواز۔۔۔۔
وہ ٹیلی فون بوتھ چھوڑ کر آٹو رکشا میں بیٹھا اور چل پڑا۔ ٹیلی فون بوتھ ہی کیوں۔ وہ  ہسپتال ہی کیوں  بیڈ ,انجکشن ,ڈرپ کی بوتلیں ہی کیوں ۔وہ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ،بہت کچھ چھوڑ آیا تھا۔ خواب،ارمان،خواہشیں،امیدیں  خوشیاں ، ہنسی ، راحتیں ،چاہتیں، اپنے ،پرائے ۔۔۔۔۔۔۔ بہت کچھ چھوڑ آیا تھا۔
ہلکی چادر نما شال لپیٹ کر پھٹی پرانی گھسی ہوئی چپّل، بنا شیو کیا ہوا چہرا وقت کی خاک ماتھے پر ملے ہوئے,ایک ہارا ہوا سپاہی جیسے،ایک مات کھایا ہوا جواری جیسے، تھکا ہوا مسافر، جیسے بہت کچھ بدلا بدلا سا ،بہت زیادہ تھکا تھکا سا ۔۔۔۔۔  وہ سچ میں پیچھے بہت کچھ چھوڑ آیا تھا ۔
اس کی آنکھیں آبدیدہ اور ویران تھیں ,آٹو رکشا میں بیٹھے اس شہر کو دیکھ رہا تھا ,جہاں اس نے جوانی گزاری تھی ۔ زندگی کے خوشیوں بھرے سال گزارے تھے۔ بہت ساری آوارہ گردیاں کیں تھیں۔ تب کہیں ایک دن اس کی اپنی سچّی محبت سے ملاقات ہوئی۔ پر اس کی قسمت میں وہ محّبت نہیں تھی۔ بلکہ اس کی جدائی اور اس کا غم نصیب میں تھا اور پھر وہ ناکام ہوکر بھاگ گیا شہر سے، اپنوں سے, یہاں تک کہ اپنی محبت سے بھی ۔۔۔۔۔آج جب وہ برسوں بعد واپس لوٹا تو ۔۔۔۔۔
اتنا سب کچھ ہوا، کتنا وقت گزرا۔۔۔۔۔اور میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔ 
چوکیدار نے مطّلع کیا کہ کوئی صاحب ملنا چاہتے ہیں ۔
اس کی ہمت یہاں چلا آیا ! ۔بڑا دم بھرتا تھا کہ میری عزّت کا بڑا خیال ہے ۔میری بڑی پروا کرتا ہے۔ پر اس کی ہمّت تو دیکھو ۔ کل ملنے کیا نہیں گئی، آج گھر چلا آیا۔۔۔۔۔ ایک لمحے کو بھی یہ نہیں سوچا کہ میں اپنے شوہر سے کیا کہوں گی!۔
ہمیشہ کی طرح لاپرواہ۔
پر جلدی ہی اس نے اپنے آپ کو سنبھالے ہوے چوکیدار سےکہا "جاؤ
ان کو بٹھاؤ۔۔ میں ابھی آتی ہوں  ۔"
"جی بتایئے" 
اس نے اطمینان کا سانس لیا یہ دیکھ کر کہ یہ وہ نہیں کوئی اور ہے 
"میڈم کل شام سے کئی بار فون کئے پر کوئی ریسپانس نہ ملا"
"اچھّا تو وہ آپ کا نمبر تھا میں کسی اور کا نمبر سمجھی تھی!"راحت کی لمبی سانس لے کر
" خیر بتائے میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟"  
"کل سڑک پر ملی ایک  نامعلوم    لاش سے، یہ آپ کے موبایل نمبر کی پرچی ملی ہے "
"کیا آپ لاش کی شناخت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئیں گی ؟؟"
 
���
جلال آباد سوپور 193201
nasirzameer77@gmail.com.
7780889616،9419031183