تازہ ترین

موبائل انٹرنیٹ … اب اور کتنا انتظار ؟

تاریخ    28 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


  جموںوکشمیر حکومت  کے محکمہ داخلہ نے اپنے ایک تازہ ترین حکم نامہ میں اس یونین ٹریٹری میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی میں مزید توسیع کرکے اس کو11دسمبر تک بڑھادیا ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ضلع ترقیاتی کونسل کے الیکشن اور پنچوں و سرپنچوں کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جموں کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیںاور دوسری جانب سرحد پار سے انتخابی عمل میں خلل ڈالنے اور سلامتی ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس بات کے خدشات ہیںکہ پاکستان کی جانب سے افراتفری کی کوششوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ عسکری صفوںمیں نوجوانوں کی بھرتی اوردراندازی کی کوششیںبھی ہونگی۔جنگجویانہ سرگرمیاں جاری ہیں، بن ٹول پلازہ اور ایچ ایم ٹی حملے اس کا واضح ثبوت ہیں،لہٰذا ناگزیر ہے کہ موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار پر بندشیں جاری رکھی جائیں۔
 انٹرنیٹ رفتار پر قدغن کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ جواز زمینی سطح پر حقیقت ہوسکتے ہیں، لیکن اس کو بنیاد بنا کر انٹرنیٹ رفتار پر قدغن لگانے سے جو مجموعی نقصان درپیش ہورہاہے، اُس کا اندازہ لگانے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کا غلط استعمال دنیا میں کہاں نہیں ہوتا، لیکن کیا ہر جگہ یہی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ ؟ظاہر بات ہے کہ ٹیکنالوجی کا مقابلہ ٹیکنالوجی سے کیا جاسکتا ہے نہ کہ سوا کروڑ کی آبادی کو یرغمال بنایا جائے اور لوگوں کوجدید دور کی اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جائے۔
سپریم کورٹ نے بھی کشمیر انٹرنیٹ بندش کیس میں حکومت سے کہا تھا کہ غیر معینہ مدت کیلئے انٹرنیٹ پر پابندی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور یہ ضوا بط کے منافی ہی نہیں بلکہ دورِ جدید میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے مترادف بھی ہے ۔گوکہ حکومت نے تب کہاتھا کہ انٹرنیٹ بحال کیاجارہا ہے لیکن بعد میںجس طرح محض دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بحالی کے ساتھ ہی اس کیس کو نپٹایاگیا ،وہ حیرت میں ڈالنے والاہے ۔ظاہر ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی ٹھوس بیان نہیںدیاتھا تو ایسے میں کیس کو ہی داخل دفتر کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔بہر حال عدالتی منطق کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور یقینی طور پر حکومتی دلائل سے اتفاق کرکے ہی عدلیہ نے کیس نپٹایاہوگا لیکن حکومت کو عدلیہ کے سابق احکامات کی روشنی میں اب پورے جموںوکشمیر میں انٹرنیٹ کی مکمل بحالی میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
پہلے ہی مفصل تحقیقی رپورٹوں سے واضح کیاجاچکا ہے کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے جموںوکشمیر کی معیشت ہی نہیں بلکہ تعلیمی شعبہ کو بے پناہ نقصانات سے دوچار ہونا پرا،ایسے میں ارباب بست و کشاد کو اُن تحقیقی رپورٹوں کو خاطر میں لاتے ہوئے آزمائشی بنیادوں پرفقط دو اضلاع میں فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کا چکر ختم کرکے پورے جموںوکشمیر میں برق رفتار انٹرنیٹ بحال کرنا چاہئے ۔بلا شبہ سیکورٹی معاملات پر حکام ہی بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں کیونکہ معاملات پر ان کی عقابی نگاہ ہوتی ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو اس بنیادی سے مسلسل محروم کیا جائے ۔ٹیکنالوجی کے دور میں انٹرنیٹ بنیادی ضرورت بن چکا ہے اور آپ لوگوںکو اس ضرورت سے کب تک یونہی محروم رکھیں گے۔
کورونا وبا جاری ہے ۔تجارت کی چال بے ڈھنگی سی ہے ۔درس د و تدریس کا نظام تقریباً مفلوج ہے ۔ای کامرس ٹھپ ہے کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے ۔محدود رفتار کے انٹرنیٹ سے ہونے والے نقصانات کا اگر شمار کرنے بیٹھیں تو فہرست بہت طویل ہوجائے گی اور اس سہولت کو محدود کرنے کے عذرات محدود ہی ہونگے ۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے ہورہے نقصانات کو ملحوظ خاطر رکھ کر حکام بالا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔ادہم پور اور گاندربل اضلاع میں یہ آزمائشی سلسلہ ختم کرکے انٹرنیٹ سروس کو مستقل بنیادوںپر چلانے کے علاوہ جموںوکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اس سروس کو بحال کیاجائے کیونکہ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے دور میں آپ سیکورٹی کے حوالے سے خدشات کو دیگرذرائع سے بھی ایڈرس کرسکتے ہیں۔
اس ضمن میں لیفٹنٹ گورنر سے کچھ مثبت فیصلہ کی امید کی جاسکتی ہے کیونکہ تاحال اُن کا اپروچ مثبت ہی رہا ہے اور اُن کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ اُنہیں عوامی معا ملات کافہم ہے اور وہ وسیع سیاسی تجربہ رکھتے ہوئے لوگوں کے مسائل سے بالکل غافل نہیں ہیں ۔چونکہ انٹرنیٹ سروس کا معاملہ کورونا وبا کی وجہ سے بند پڑے تعلیمی اداروں کو دیکھتے ہوئے ہمارے مستقبل کے ساتھ براہ راست جڑا ہوا ہے ،تو امید راسخ ہے کہ لیفٹنٹ گورنر ترجیحی بنیادوں پرصرف دو اضلاع میں آزمائشی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کا ورد کروانا بند کریں گے اور جموںوکشمیر کے عوام کو فور جی انٹرنیٹ سروس فراہم کروائیں گے جس سے وہ اب گزشتہ تقریباًڈیڑھ برس سے محروم ہیں۔