روشنی ایکٹ| سی بی آئی کا سابق وزیر اوردیگراں کیخلاف معاملہ درج

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی//حکام کے مطابق مرکزی تفتیشی ادارے ’سی بی آئی‘نے جموں کشمیرکے سابق وزیرتاج محی الدین کو مبینہ طور تجاوزکی گئی جنگلاتی اراضی کو غیرقانونی طور روشنی ایکٹ قانون کے تحت اپنے نام کرانے پر کیس درج کیا ہے۔تاج محی الدین کے علاوہ سابق ریاست جموں کشمیرکے سابق کانگریسی وزیرمحمدرمضان ٹھوکر،شوپیان کے سابق ڈپٹی کمشنرمحمدیوسف زرگر،اس وقت کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرحفیظ اللہ شاہ،اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنرمال غلام حسن راتھراور اس وقت کے تحصیلدار کے خلاف بھی معاملہ درج کیاگیا ہے۔ حکام کے مطابق سی بی آئی کومرکزی زیرانتظام علاقہ جموں کشمیرکے انسدادرشوت خوری ادارے اینٹی کورپشن بیوروکی طرف سے ایک شکایت موصول ہوئی،جو اب ایف آئی آرکاحصہ ہے ۔اس وقت کے شوپیان کے تحصیلدار نے 16جون2007کوریاستی اراضی کے قابضین کومالکانہ حقوق دینے کے 190معاملات کوپروسیس کرکے ٹھاکور کی سربراہی میں ایک کمیٹی کوپیش کیا۔کمیٹی نے ان میں سے صرف17کو منظوری دی جن میں سے تاج محی الدین نے13کنال اراضی کوغیرقانونی طورتجاوزکیاتھا،بھی شامل ہے۔یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ تاج محی الدین نے جس اراضی پر تجاوزکیا ہے وہ محکمہ جنگلات کی ہے جس نے روشنی ایکٹ کے تحت اس کے مالکانہ حقوق تاج محی الدین کو دینے پر اعتراض کیاتھا۔کمیٹی نے مبینہ طور محکمہ جنگلات کے اعتراضات کو نظراندازکیا۔ علاقہ کے ڈویژنل فاریسٹ افسرنے ایک بار پھراعتراض اُٹھا کرفائل کو واپس کیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ محکمہ مال کے متعلقہ حکام نے غلط طور سے تاج محی الدین کے غیرقانونی دعوے کو پروسیس کیااورمحکمہ جنگلات کی اراضی کواُن کے نام کرنے کیلئے راہ ہموارکی۔ 
 
 

تازہ ترین