کانگڑی ثقافت کا حصہ،اس سے کورونا نہیں پھیلتا؛ طبی ماہرین

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر //جموں و کشمیر سمیت بھارت کے دیگر مرکزی زیر انتظام علاقوں اور ریاستوں میں سردی کے ایام کے دوران کورونا وائرس کو روکنے کیلئے بدھ کو نئے رہنما خطوط جاری کئے گئے ، جن میںکورونا وائرس متاثرین کو قرنطین کرنے اور اُن کے رابطوں کا پتہ لگانے کیلئے 72گھنٹوں کا وقت مقررکیا گیا ہے ۔وہیں وادی میں وبائی بیماری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دوران قرنطین کورونا وائرس مریضوں کوگرمی کیلئے ایئر کنڈیشنروں اور بلووروں کا استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے تاہم کورونا وائرس مریض گرمی کیلئے کشمیر کانگڑی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیری کانگڑی ثقافت کا حصہ ہے اور اس سے کورونا وائرس بھی نہیں پھیلاتا ہے۔کشمیر میں وبائی بیماریوں کے ماہر اور ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارلحسن کہتے ہیں کہ کانگڑی ثقافت کا حصہ ہے اور سردیوں میں گرمی فراہم کرکے یہ لوگوں کی جان بچاتی ہے۔ڈاکٹر نثارالحسن  نے کہا کہ موجودہ وبائی صورتحال میںاگر لوگ ایئر کنڈیشنروں اور بلووروں کے استعمال سے گریز کرسکتے ہیں کیونکہ ایئر کنڈیشنروں اور بلووروں سے نکلنے والی گرم ہوا وائرس کو دور پھینک سکتی ہے لیکن کانگڑی کا استعمال کرنے میں کوئی بھی دشواری نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کانگڑی  سخت سردیوں کے دوران انہتائی علیل مریضوں اور بزرگوں کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھ کر انہیں زندہ رکھنے میں کلیدی رول ادا کرتی ہے۔ شیر کشمیرانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے معروف ڈاکٹر اور وبائی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر پرویز احمد کول نے بتایا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کانگڑی سے کمرے کی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جو چھاتی کے امراض میں مبتلا لوگوں کو تکلیف دے سکتا ہے لیکن اس سے ہرگز کرونا وائرس نہیں پھیلتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وباء کے دوران آنے والی سردیوں میں لوگوں کو گھروں میں بھی سماجی دوری برقرار رکھنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ایک ہی کمرے میں سبھی لوگ نہ بیٹھیں‘‘۔ڈاکٹر پرویز کول نے کہا کہ اس کے علاوہ لوگوں کو کمروں میں تازہ ہوا آنے کیلئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔ 
 

تازہ ترین