روشنی ایکٹ کی منسوخی کیخلاف عدالت عظمیٰ میں متعدد عرضیاں دائر

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
نئی دہلی// جموں کشمیر ہائی کورٹ کے روشنی ایکٹ، جس کے تحت سرکاری اراضی کے قابضین کومالکانہ حقوق دیئے گئے، کومنسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں متعددخصوصی عرضیاں دائر کی گئی ہیں جن میں عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سرکاری زمین پرتجاوزنہیں کیااورانہیں کبھی اس معاملے میں فریق نہیں بنایا گیا۔یہ عرضیاں سابق افسراں،تاجروں اور ریٹائرڈججوں نے دائر کی ہیںجن میں 19اکتوبر کے عدالت عالیہ کے حکم کو چیلینج کیا گیا ہے جس کے تحت روشنی ایکٹ کو ’’غیرقانونی،غیرآئینی اورناقابل برادشت ‘‘قراردیتے ہوئے اس قانون کے تحت اِن الاٹمنٹوں کی مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرنے کاحکم دیاگیا۔  عرضی گزاروں نے کہا ہے کہ ان کیخلاف غیرقانونیت کا کوئی الزام نہیں ہے اوروہ عوامی اراضی پر قبضہ کرنیوالے نہیں ہیں اوراس سلسلے میں کہیںکوئی الزام ،دعوی یاکھوج نہیں ہے۔ 26دائر کی گئی عرضیوں میں سابق چیف کنسرویٹر جنگلات آر کے مٹو،سابق جج خالق الزماں،سابق چیف سیکریٹری محمدشفیع پنڈت،سابق پاورڈیولپمنٹ کمشنرنثارحسین،تاجربھارت ملہوترہ اوروکاس کھنہ اورریٹائرڈ کمشنر بشیراحمدکی عرضیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مجازقابض تھے اور ’’ہائی کورٹ نے عمومی ردکرنے کاحکم کسی بنیاد کے بغیرجاری کیا ہے ۔درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ وہ عام شہری ہیں اورخلوص نیت سے قیمت کے خریدارہیں اورمنتخب قانون سازیہ کے ذریعے پاس کئے گئے قانون کے بنانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے نہ ایگزیکیٹوکی طرف سے اس کے نفاذ میں ان کا کوئی رول ہے۔ عرضیوں میں کہاگیا ہے کہ ’’ہائی کورٹ کے عمومی حکم ‘‘ نے سرکاری ویب سائٹ پرمستفیدین کی تفاصیل ظاہر کرنے  ،ایکٹ کے تحت کی گئی تمام کارروائیوں کو منسوخ کرنے اور من جملہ اس کی سی بی آئی کے ذریعے تحقیقات کرنے نے انہیں متاثر کیا ہے اورزمین کی واپسی سے عرضیوں گزاروں کی رہائشی گنجائش کیلئے خطرہ پیدا گیا ہے.۔عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایات اس مفروضہ پر جاری کی گئیں ہیں کہ لیزحقوق کو مالکانہ حقوق میں  روشنی ایکٹ کے تحت تبدیل کرنے والاہرکوئی ریاستی اراضی پر تجاوزکرنے والا ہے  جبکہ درخواست دہندہ ’’مجاز قابض ‘‘ ہیںجنہیں قانون نے تسلیم کیا ہے جن کے پاس جائز اور قانونی لیزہے اورقانون کے تحت ہی انہوں نے لیزحقوق کو مالکانہ حقوق میں تبدیل کرنے کیلئے درخواست دی تھی۔عرضیوں گزاروں کو مداخلت بے جا کرنے والوں کے مساوی قرارنہیں دیاجاسکتا کوحقوق کی دفعہ14کے خلاف ہے ۔
 

تازہ ترین