ایچ ایم ٹی میں گشتی پارٹی پرحملہ، 2فوجی اہلکار ہلاک

کارمیں سوار جنگجوفرار،تلاش جاری،رائفل گم،جیش یالشکر ملوث:پولیس

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


ارشاداحمد
سرینگر//ایچ ایم ٹی سرینگر کے قریبی علاقہ آبان شاہ چوک خوشی پورہ میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ماروتی کار میں سوار جنگجوئوں نے فوج کی گشتی پارٹی پر حملہ کیا جس کے سبب دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ جنگجوئوں کے حملہ کے فورا بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر تلاشی مہم شروع کردی تاہم اس موقع پر کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔جو دو فوجی اہلکار ہلاک ہوئے وہ 2 آر آر کیمپ سے منسلک تھے جن کی شناخت سپاہی رتن لال 163 ٹیرٹوریل آرمی اورسپاہی دیش مکھ 101 ٹیرٹوریل آرمی بتائی جاتی ہے۔اس حملہ کے بارے میںصوبائی پولیس سربراہ نے کہا کہ تین جنگجوجوایک کارمیں سوارتھے،نے شہرکے مضافات پارمپورہ میں کوئک ری ایکشن ٹیم پرجمعرات کوحملہ کیا۔جس میں فوج کے دوسپاہی ہلاک ہوگئے ۔
انہوں نے کہا کہ حفاظتی فورسز واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کررہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکے ۔انہوں نے کہا جنگجوئوں نے خوشی پورہ میں حفاظتی فورسزپر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں دوسپاہی زخمی ہوگئے ۔زخمی سپاہیوں کو نزدیکی شریف آباد کیمپ کے اسپتال لیجایا گیا جہاں انہوں نے دم توڑ دیا۔جائے واردات پر صوبائی پولیس سربراہ وجے کمار نے ذرائع ابلاغ نمائندوں کو بتایا کہ تین جنگجوجوکار میں سوار تھے،نے فوجی اہلکاروں پر اندھادھندگولیاں چلائیں جس سے دواہلکارزخمی ہوگئے جوبعدمیں دم توڑ بیٹھے۔انہوں نے کہا کہ حفاظتی فورسز کار کاپیچھاکررہے ہیںجوحملے میں استعمال ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ لگتاہے کہ حملہ یالشکر طیبہ یاجیش محمد نے انجام دیا ۔انہوں نے مزیدکہا کہ شام تک ہم حملہ کرنے والے گروپ کی شناخت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ تین جنگجوئوں میں دوغیرملکی اور ایک مقامی جنگجو ہوسکتا ہے اورہم سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کررہے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ایچ ایم ٹی سرینگر کے قریب آبان شاہ چوک خوشی پورہ کے مقام پر اس وقت سنسنی پھیل گئی جب اچانک گولیوں کی گھن گرج سنائی دی جب ماورتی کارمیں سوار نامعلوم جنگجوئوں نے علاقے میں موجود فوج کی گشتی پارٹی کو نشانہ بناکر ان پراندھا دھند فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔اس موقع پر گولیوں کی آواز سنتے ہی لوگ سہم کر رہ گئے اور اپنی جانوں کو بچانے کیلئے محفوظ مقامات کی جانب دوڑ پڑے۔اس حملہ کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر پولیس کی اضافی نفری جائے واردات پر پہنچ گئی جنہوں نے دو فوجی اہلکاروں کو شدید زخمی حالت میں علاج و معالجہ کیلئے فوجی اسپتال سرینگر منتقل کر دیا گیا جہاں دونوں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔اس موقع پرفوج ،سیکورٹی فورسز اور جموں کشمیر پولیس نے جنگجوئوں کو ڈھونڈنے کے لئے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر تلاشی مہم شروع کردی.تاہم جنگجوئوں اور فورسز کا کہیں بھی آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ ہی کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ سرینگر میں مقیم فوج کے دفاعی ترجمان راجیش کالیہ نے دونوں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ ایم ٹی سرینگر علاقے میں جنگجوئوں نے فوج کی گشتی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ دفاعی ترجمان کے مطابق حملے کے بعد فوجی اہلکاروں نے شہری آبادی والے علاقے کو مد نظر رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور جوابی کارورائی نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں فوجی اہلکاروں کو 92بیس اسپتال علاج معالجہ کیلئے داخل کیا گیا تاہم دونوں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کی ایک رائفل بھی حملے کے دوران لاپتہ ہوئی ہے۔ادھرپولیس بیان کے مطابق 1بجکر15منٹ پر پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ شریف آباد ایچ ایم ٹی علاقے میں جنگجوئوں نے فوج کی گشتی پارٹی پرحملہ کیا ہے۔ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جنگجو جو ماروتی کارمیں سوار تھے،نے علاقہ میں ہجوم ہونے کا ناجائزفائدہ اُٹھاتے ہوئے فوج پر بے تحاشہ گولیاں چلائیںجس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکارزخمی ہوگئے ۔دونوں زخمی اہلکاروں کو اسپتال لیجایا گیا لیکن وہ دونوں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ان کی شناخت ٹیری ٹوریل آرمی 163بٹالین کے سپاہی رتن اور101بٹالین کے سپاہی دیش مکھ کے طور ہوئی ۔پولیس بیان کے مطابق علاقہ میں لوگوں کا ہجوم ہونے کی وجہ سے فوج نے صبروتحمل سے کام لیاتاکہ کسی شہری کو گزندنہ پہنچے۔پولیس نے اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ 
 

کپوارہ اور بڈگام میں حادثاتی فائر ،3اہلکارزخمی

 ارشاداحمد+اشرف چراغ
 
کپوارہ+بڈگام//کپوارہ اور بڈگام میں فورسزکیمپوں میں حادثاتی طور گولیاں چلنے کے دوالگ الگ واقعات میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ ہمہامہ بڈگام میں سی آرپی ایف کیمپ میں اپنے ہی سروس رائفل سے گولی نکلنے سے ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔پولیس نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سی آر پی ایف 25بٹالین سے وابستہ ہیڈکانسٹیبل ایس برالی کے سروس رائفل سے حادثاتی طور گولی نکلی جسے وہ شدیدزخمی ہوگیا۔اُسے سرینگر کے92بیس اسپتال منتقل کیاگیا جہاں اُس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ادھر کپوارہ کے کنڈی خاص علاقہ میں ایک فوجی کیمپ میں ایک اہلکار کی بندوق سے حادثاتی طور چلی جس دوران دو فوجی اہلکارزخمی ہوگئے جن کی شناخت لکھویندرسنگھ اورمہندرسنگھ کے طور ہوئی ہے اوران کاتعلق 47آر آر سے ہے۔دونوں کو درگمولہ میں فوجی اسپتال لیجایا گیا جہاں سے انہیں سرینگر میں بادامی باغ کے فوجی اسپتال منتقل کیاگیا۔
 

جنگجوحملے کے بعد شہر سمیت دیگرعلاقوں میں سیکورٹی متحرک

بلال فرقانی
 
سرینگر// سرینگر کے مضافات ایچ ایم ٹی میں جمعرات کو فوج پر جنگجویانہ حملے کے بعد شہر سمیت دیگر علاقوں میں سیکورٹی کو متحرک کیا گیاہے،جبکہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات سے دو روز قبل ہوئے حملے کے بعد حساس ترین علاقوں میں فورسز و پولیس کی اضافی نفری تعینات کی جارہی ہے۔ 28نومبر سنیچر سے شروع ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات سے دو روز قبل ایچ ایم ٹی میں ہوئے عسکری حملے کے بعد شہر میں سیکورٹی کو سریع الحرکت کیا گیا،جبکہ جگہ جگہ اضافی ناکے لگائے گئے جہاں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشیاں لی گئیں۔ شہر میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد خصوصی ناکوں پر جامہ تلاشیوں کے علاوہ راہگیروں اور مسافروں کی شناختی کارڑوں کی بھی جانچ کی گئی۔شہر میں داخل اور شہر سے باہر جانے والے راستوں پر خصوصی نظر رکھی گئی اور پوچھ تاچھ کا عمل تیز کیا گیا۔انتخابات کیلئے سرکاری سطح پر تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ انتخابات کو پُرامن اور خوشگوارماحول میں منعقد کرنے کیلئے حفاظتی اقدامات مکمل کرلئے گئے ہیں ۔سرکار ی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حساس علاقوں میں قائم انتخابی مراکز میں فورسز اور پولیس کی ضافی نفری تعینات کی جارہی ہے۔ ذرائع  کا کہنا ہے کہ حساس ترین علاقوں میں جہاںپر پولنگ بوتھ قائم ہیں ان پولنگ مراکز کی نگرانی ڈرونوں کے ذریعے کی جائے گی ۔ انتظامیہ نے پہلے ہی حفاظتی ایجنسیو ں کو ہدایت دی ہے کہ امن و قانون کی صورتحال برقراررکھنے اور انتخابات کوخوشگوارماحول میں منعقد کرنے کیلئے تمام تر بنیادی ضروریات کو پوراکیا جائے ۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں جموں کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے گزشتہ ہفتے پولیس افسران پر زور دیا تھا کہ وہ چوکس رہیں اور کسی بھی شرپسندعنصر کو صاف و شفاف انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہ دیں۔ جموں کشمیر میں 28نومبر سے8مراحل پر ڈی ڈی سی انتخابات شروع ہورہے ہیں اور سرکار کی یہ کوشش ہے کہ ہر کوئی شہری اپنی رائے دہی کا استعمال کرکے جمہوری عمل کا حصہ بنیں ۔

تازہ ترین