تازہ ترین

شہر میں گو شت نایاب

قصا بوں کی دکانوں پر مرغ آویزان

تاریخ    27 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//گو شت کی نایابی کے بعد قصا بوں کی دکانوں پر مرغ آویزان نظر آ رہے ہیں جبکہ گوشت نایاب ہونے کے بعد مرغ فروشوں کی من مانیوں کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔شہرسرینگر کے مختلف علاقوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے گو شت نا یاب ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں مرغ فروشوں کی من مانیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں جن دکانوں پر سے گو شت دستیاب رہتا تھا وہ اب مرغ فروخت کیے جارہے ہیں اوریوں پوری وادی میں گو شت کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ادھر ڈی ڈی سی انتخابی گہماگہمی کے دوران گراں فروشوںصارفین کو دودوہاتھوں لوٹنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ محکمہ امور صارفین کے ایک آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کو بتایا کہ مرغ کی قیمتیں آئے روز بدلتی رہتی ہیں لہٰذا اسے قابو کرناانتہائی مشکل ہے تاہم محکمہ مارکیٹ چیکنگ سکارڑ متحرک کرکے گراں فروشی کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی کرنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مرغ اور گوشت کی قیمتوں کے متعلق حکومت کو نئی پالیسی وضع کرنی چاہئے تاکہ صارفین کو استحصال سے بچایا جاسکے۔عوامی حلقوں کے مطابق شہر سرینگر سمیت وادی بھرمیں سبزی فروشوں اور غذائی اجناس کے علاوہ اشیائے ضروریہ رفروخت کرنے والے افراد نے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے نرخ ناموں کو بالائے طاق رکھ کر از خود تمام اشیائے ضروریہ کے دام مقرر کر لئے ہیںجسکی وجہ سے عام شہریوں کو اضافی داموں سبزیاں اور دیگر ضروریات فروخت کرکے انکو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔عوامی حلقوںنے الزام لگایاکہ برف باری کے بعد مختلف قسم کی سبزیوں کی قیمتوں میں دس سے بیس روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ مرغوں کی قیمتیں بھی پندرہ سے بیس روپے بڑھائی گئی ہیں۔ عام آ دمی کا مطالبہ ہے کہ کمر توڑ مہنگائی کو قابو میں کرنے کیلئے ایک واضح پالیسی مرتب کی جائے اور گراں فروشوں کیخلاف قانونی کاروائی کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے ۔(سی این ایس)