آئینی حقوق کی بحالی سے ہی غیر یقینیت کے ماحول کا خاتمہ ہوگا

این سی ہیڈ کوارٹر پر ڈاکٹرمصطفٰے کمال کا پارٹی کارکنوں سے خطاب

تاریخ    24 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


سرینگر // نیشنل کانفرنس کے معاون سیکرٹری ڈاکٹر شیخ مصطفے کمال نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو 5اگست 2019کے بعد غیر قانونی اور غیر جمہورری طور پر ایک تباہ کن ناگفتہ اور مشکل ترین دور سے دوچار کردیا گیا ہے جبکہ عوام کو اپنے جمہوری ،آئینی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی اور پریس پلیٹ فارم کی آزادی سے بھی محروم کردیا گیا ہے ۔سرینگر میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پارٹی کارکنوں اور عہدایداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مرکز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور وقت غنیمت اور سنہری جان کر جموں و کشمیر کے عوام کو وہ جمہوری اور آئینی حقوق جو دفعہ370اور 35اے کے تحت حاصل تھے ،واپس کئے جانے چاہیں اوریہاں غیر یقینیت ،تشدد کے ماحول اور طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا لیڈران اپنے غیر ذمہ دارنہ اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف الفاظ اور بیانات دیکر جموں و کشمیر میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دے رہے ہیں جبکہ ان کے بقول بی جے پی کی یہاں نفی بھر ساکھ نہیں ہے ۔ادھر پارٹی کے سنئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ محمد اکبر لون نے کہا کہ بھاجپا لیڈران کشمیر میں آکر بے بنیاد اور حقیقت سے بعید بیانات دے رہے ہیں ۔انہوں نے ڈی ڈی سی چنائو کو صاف ستھرے ماحول میں کرانے اور امیدواروں کو عوام کو ملنے جلنے اور اظہار رائے کو یقینی بنانے کی تاکید کی ۔انہوں نے کہا کہ این سی نے ہی جموں و کشمیر میں پنچایتی راج اور جمہوریت کی بنیاد ڈالی۔
 

تازہ ترین