تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | قرآن، نفسیات اور سائنس

تحقیق

تاریخ    23 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


شہباز رشید بہورو
انسان مختلف اعتبارات سے ایک پیچیدہ مخلوق ہے۔ اس کی جسمانی، نفسیاتی اور روحانی تنظیم کا حقیقی جائزہ لینے سے انسان خود قاصر ہے۔جسمانی پہلو کی طرف جہاں بیشمار محققین متوجہ ہیں وہیں نفسیاتی اور روحانی پہلو پر بھی بڑے پیمانے پہ علمی و تحقیقی کام جاری ہے۔آج کے مضمون میں ہم انسان کی نفسیاتی پہلو کا علوم جدیدہ اور قرآن کی روشنی میں مختصر جائزہ لینے کی سعی کرتے ہیں۔انسان کے نفسیاتی پہلو کی تفہیم کے لئے موجودہ دور میں اس حوالے سے محققین کی ایک قطار کھڑی ہے لیکن اختلاف رائے کا یہ عالم ہے کہ کسی ایک نتیجہ پر یہ حضرات متفق نہیں۔ایک ایک موضوع پر بے شمار مفکرین کے آراء نے تضادات کی ایک ایسی دنیا قائم کی ہے کہ جس کا مشاہدہ کرنا بھی پریشان کن ہے۔قرآن مجید نے انسان کی نفسیات کے اہم ترین گوشوں کا اس قدر عمیق اور جامع جائزہ لیا ہے کہ انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔انسان کے لئے اس معاملے سوائے حیرت کے اور کوئی اوپشن بھی نہیں کیونکہ قرآن کے بیان میں وہ قطعیت اور جامعیت ہے کہ جس کو پڑھ کر انسان صرف اسے الہامی کلام قرار دے کر اطمینان حاصل کر پاتا ہے۔بعض معاملات میں انسان کی تلاش و جستجو کا جواب سوائے حیرت و تعجب کے اور کسی شکل میں حاصل نہیں ہوتا جیسے کہ اللہ کے وجود کے ضمن میں انسان کو صرف حیرت و استعجاب حاصل ہے۔اسی طرح سے قرآن کریم کے بیانات پڑھ کر انسان کو اپنی کم مائیگی اور کم علمی کا ایسا احساس ہوتا ہے کہ سوائے حیرت کے اس کے پاس اسے سہارا دینے کے اور کچھ نہیں بچتا اور لامحالہ اسے قرآن کو ایک خدائی کلام تسلیم کرنے کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔
علم النفسیات بھی انسان کی نفسیات کا حقیقی اور حتمی طور پر احاطہ نہیں کر پایا ہے۔ایک ایک موضوع پر سینکڑوں مختلف مباحث موجود ہیں ان مباحث میں کسی خاص موضوع پر کس کے خیال و تصور کو ترجیح دی جائے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے۔قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ متعلقہ موضوع پر حتمی و آخری بات بیان کرتا ہے جس سے بہتر ممکن نہیں۔قرآن مجید نے نفسیات کے حوالے سے جو اصول1400سال پہلے بیان کئے ہیں ان کی تصدیق آج کا علم النفسیات طویل غورو فکر اور تجربہ کرنے کے بعد کر رہا ہے۔اگرچہ قرآن مجید کسی بھی دوسرے شعبہ علم کی تصدیق و توثیق کا محتاج نہیںبلکہ قرآن مجید خود جس کی تصدیق کرے،وہی معتبر و مستند ٹھہرائے جانے کا حامل ہے۔جدید علم النفسیات کی ارتقاء کے ضمن میں زیادہ صحیح بات اسطرح ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ علم النفسیات بھی تحقیق و ترقی کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچنے کے قریب ہے جہاں پر 1400سال پہلے قرآن نے انسان کو پہنچایا تھا۔اگرچہ یہ بات واضح ہے کہ قرآن مجید نفسیات کی کتاب نہیں البتہ قرآن مجید نے ایمان، توحید، رسالت، وحی، آخرت، رسول، نبی، صدیقین، شہدا ، مومنین، کفر، شرک، نفاق ،طاغوت ،حرام و حلال، غفلت وغیرہ کی نفسیات سے انسان کو آگاہ کیا ہے۔ان خصائص سے متصف اور تصورات سے متصور اشخاص کی نفسیات کا بیّن نقشہ قرآن مجید نے کھینچ کے رکھ دیا ہے۔
انسان کی نفسیات پر غور کر کے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جب اسے خوشحالی حاصل ہوتی ہے یہ اپنے خالق کو بھول جاتا ہے اور جب اسے دنیا میں مصیبت پیش آتی ہے تو وہ اپنے خالق کی طرف مڑتا ہے۔قرآن مجید انسان کے اس نفسیاتی رویے کو اسطرح بیان کرتا ہے:"حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ،اور وہ خود اس پر گواہ ہے ،اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔"(العادیات)۔اس بات کا تجربہ عام و خاص سب کو حاصل ہے۔اس نفسیاتی رویے کا جیتا جاگتا ثبوت آج کے سیاستدانوں اور اہل اقتدار کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں پایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوام الناس کا عام رویہ بھی اسی آیت کا ترجمان ہے۔ہماری اکثریت مذکورہ نفسیاتی بیماری سے دوچار ہے۔یہ ایک عام سماجی تجربہ ( Experiment  Social) ہے جو ہر ذی شعور شخص کے دسترس میں ہے۔ناشکری کا یہ رجحان ہمارے معاشرے میں اس قدر گہرا ہے کہ انسان اپنے سب سے بڑے محسن اور خالق کے خلاف بغاوت کا الم لئے ہوئے ہے۔خدا کی اسی ناشکری کا سبب عالمی بدامنی ہے۔چین اور سکون جس کے لئے ہر انسان تڑپتا ہے آج کسی کو حاصل نہیں۔قرآن مجید نے انسان کو اپنے خالق کا ہر حال مطیع و فرمانبردار اور مشکور رہنے کی تلقین کی ہے۔کیونکہ خدا کی شکرگزاری سے ہی انسان ڈپرشن سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اور نتیجتاً خوشی سے مسرور ہو کر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں شکر کے متعلق بہت سی آیات آئی ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں زندگی دی تاکہ شکر ادا کرو : (بَعَثنَاکْم مِن بَعدِ مَوتِکْم لَعَلّکْم تَشکْرْونَ) اور کبھی فرمایا کہ : تمہیں آنکھ ،کان ،دل دیے لیکن پھر بھی شکر کرنے والے کم ہیں : (اٗنشَاَ لَکْمْ السَمعَ و الاَبصَارَ وَ الاَفئِدَۃَ قلیلاً ما تَشکْرونَ).مزید فرمایا (وَ مَن شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشکْرْ لِنَفسِہ)۔جو کوئی شکر کرے گا اس کا شکر اس کے لئے مفید ہے۔آج سائکولوجی سائنس کے اتحاد سے اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ"جب انسان شکر گذار بنتا ہے تو اس کا دماغ دو نیورو ٹرانسمیٹر (Neurotransmitter) ریلیز کرتا ہے ڈوپامین (Dopamine )اور سیروٹونن (Serotonin)۔یہ دونوں اسے اندرونی فرحت دستیاب کرتے ہیں ۔‘‘اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "اگر ہم شکرگزاری کے عادی ہوں تو اس سے ہم نیورل پاتھویز ( pathways  Neural) کو مضبوط کرکے اپنے اندر مکمل شکرگزاری اور مثبت رویہ قائم کر سکتے ہیں ‘‘۔اسلام نے خدا کا شکرگذار ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں کا شکرگزار بننے کی بھی تلقین کی ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بندوں کا شکر یہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بھی نہیں بن سکتا‘‘۔شکر گذاری بمعنی فرمانبرداری اور احسان شناسی انسان کو روحانی و جسمانی سکون فراہم کرتا ہے۔علم النفسیات اور سائنس دونوں قرآن مجید کی حقانیت کو مشاہدات اور تجربات کرنے بعد ثابت کر چکے ہیں۔
جدید علم النفسیات گہری تحقیق و تدقیق کے بعد انسان کے اندر نفسیاتی طور چند سطحیں دریافت کر چکا ہے جو انسان کے اعمال و افعال اور برتاو و معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات ابراھم میسلیو (Maslov  Abraham ) نے اس حوالے سے پانچ سطحی نفسیاتی تقسیم کا تصور پیش کیا۔سب سے نچلی دو سطحیں قرآن مجید کے "نفس امارہ"کے ذیل آتی ہیں، وسط کی دو سطحیں "نفس لوامہ "کی زیر تعبیر ہیں اور سب سے اعلی سطح جسے میسلیو نے خود شناسی ( actualization  Self) سے موسوم کیا ہے یہ سطح قرآن مجید کے "نفس مطمئنہ "کی ہے۔اس مقام پر پہنچ کر انسان اپنی انا کو ختم کرکے زندگی کے اصل مقصد کو سمجھ پا کے حقیقی اطمینان حاصل کرتا ہے۔اَلَّذِینَ اٰمَنْوا وَ تَطمَئِنّْ قْلْوبْہْم بِذِکرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطَمئِنّْ القْلْوبْ 
 ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے ایمان لایا اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔  خبردار رہو ! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے ۔
انسان کی نفسیاتی تنظیم میں علم النفسیات نے آج بیسویں صدی میں انا (Ego)کی اہمیت کو دریافت کیا جبکہ قرآن مجید نے اس کا واضح اور صحیح اشارہ آج سے ساڑھے چودہ سال پہلے دیا تھا۔فرائڈ کا تصور ایگو ،ایڈ اور سپر ایگو بھی قرآن کی تقسیم نفس کے عین مطابق ہے۔
یہ انسان کی نفسیاتی تنظیم کے مختلف پہلو ہیں جو اسے بدی کے کاموں پر اکساتے اور راغب کرتے ہیں۔ان تمام پہلوؤں کو متوازن خطوط پر رکھنے کے لئے نفس لوامہ اور مطمئنہ کی اہمیت مسلَم۔انسانی نفس کے ان مذکورہ رویوں ہی کا اثر اس کی سیرت وکردار پر پڑتا ہے۔ سائنس نے تو حال ہی میں دماغ کے فرنٹل پورشن ( portion  Frontal) میں ایک چھوٹا سا حصہ سیٹ آف ایگو (Ego) دریافت کیا ہے۔ان تمام رویوں کا مرکز دماغ کے اگلے حصے میں موجود ہے۔جدید سائنسی تحقیق نے دماغ کے فرنٹل لوب کو ہی انسانی جذبات پر قابو اور انسان ہونے کے احساس کا مرکز کے طور پر متحقق کیا ہے۔انسان کے اندر بھلائی اور برائی کا فیصلہ دماغ کے اسی حصہ میں ہوتا ہے۔قرآن مجید نے دماغ کے اس حصے کی موجودگی کا اشارہ آج سے چودہ سو سال پہلے فراہم کیا تھا:" ہرگز نہیں ، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے ‘‘۔قرآن مجید نے خاص طور پر اسی حصے کی نشاندہی کرکے نافرمانوں کو وعید سنائی ہے۔قرآن کے اس بیان سے دماغ کے اس اگلے حصہ کی اہمیت واضح ہے۔پروفیسر کیتھ موری اس حوالے سے کہتے ہیں :"جو جانکاری دماغ کے بارے میں آج ہم حاصل کر پائے ہیں اس کا ذکر نہ تاریخ کی کسی کتاب میں ہے اور نہ ہی کسی طبی کتاب میں تھا۔اگر ہم پیغمبر صاحب کے زمانے اور اس کے بعد کئی صدیوں کے تمام میڈیکل لیٹریچر کو کھنگالیں گے تو "ناصیۃ "کی تفصیل تو دور کی بات ہے اشارہ بھی تلاش نہیں کرسکتے ہیں سوائے اس کے کہ اس کا ذکر صرف قرآن مجید میں آیا ہے۔جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ باتیں صرف اللہ کے علم میں ہیں اور وہی سب کچھ جانتا ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
قرآن مجید نے مرد کے مزاج و طبیعت کو لفظ "قوام "میں سمیٹ کر اس کی گھر میں قوامیت کا اعلان کیا ہے۔قوام اس کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز مضبوط و مستحکم رہ سکے۔مرد کی نفسیات میں قوامیت ہے۔دور جدید میں تحریک نسواں کے پجاریوں نے مرد کے برابر عورت کو لانے کا جو گھناونہ اور قاتلانہ کھیل کھیلا ہے اس سے انسانی خاندان کا نظام بگڑ چکا ہے۔مغرب اس بگڑتے معاشرے کی بہترین مثال ہے۔نہ ہی مرد کے برابری میں عورت کو کھڑا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عورت کو مرد پر حاکم ٹھہرایا جا سکتا ہے۔کیونکہ ہر مرد کی نفسیات اس کے برعکس ہے۔ایسا اقدام کرنے سے تو عورت عزت کے بدلے مزید ذلت حاصل کررہی ہے۔جارڈن پیٹرسن ایک کینڈین ماہر نفسیات ہیں ۔ان کے مطابق "مغرب کو مرد کی قوامیت پر اعتماد نہیں۔نسوانیت کا رجحان قوامیت پر حملہ ہے جس کی وجہ سے مرد ظالمانہ رویہ اختیار کرتا ہے".وہ مزید کہتے ہیں کہ مردو زن کے مساوت قاتلانہ مساوات ہیں جن کا مطالبہ خواتین کر رہی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مرد کی قوامیت پر اگر حملہ ہوتا ہے تو مرد ردعمل میں کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔اس بات کا تجربہ عام طور پر ہر ایک کو حاصل ہے۔مغرب میں نسوانیت کا بڑھتا رجحان اسے ایک شدید قسم کے نفسیاتی عذاب میں دھکیل چکا ہے۔یہ اسی تحریک کا بدترین نتیجہ ہے کہ مغرب میں میاں بیوی کے درمیان اعتماد کا سرے سے فقدان ہے۔مرد و زن کے مابین یہ حیاتیاتی فرق ہوتا ہے جو معاشرے میں مرد کے فطری غلبہ کو وجود بخشتا ہے۔قرآن مجید نے مرد کی نفسیاتی اور حیاتیاتی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرے میں اسے ایک مقام عنایت کیا ہے جس مقام سے اگر وہ خود ہٹے یا ہٹایا جائے تو نتیجتاً فساد برپا ہوگا۔امریکہ کے پروفیسر اسٹیون گولڈ برگ نے "نظام سردادی کی ناگریزیت "کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے "معاشرہ میں مرد اور عورت کے مابین فرق کی بنیاد سماجی دباو نہیں ہے بلکہ حیاتیاتی اور اور فطری ہے‘‘۔قرآن مجید نے مرد کی حیثیت کو جس طرح پیش کیا ہے تمام متعلقہ علوم اور سائنس بھی قرآن کی پوزیشن کو تسلیم کر رہے ہیں۔سائنس نے مرد کے جسم کے اندر مردانہ ہارمون (hormone  Male ) کا انکشاف کیا ہے جو مرد میں عورت کے مقابلے جارحیت پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ مرد اور عورت کی یاداشت میں فرق  کے حوالے سے قرآن مجید کا جو بیان ہے اس کو آج سائنس نے ثابت کیا کہ واقعی عورت کی یاداشت مرد سے عمومی طور کمزور ہوتی ہے۔مردوں کے دماغ کے قشری حصہ میں زیادہ اعصابی خلیہ ہوتے ہیں ، وہیں عورتوں کے دماغ کے قشری حصہ میں نیوٹروفل (Neutrophil) زیادہ ہوتے ہیں جو خلیوں کے بیچ نظام ترسیل ( System  Communication) کو کنٹرول رکھتے ہیں جس کی وجہ سے عورتوں کی یاداشت زیادہ معتبر نہیں ہوتی ہے۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلی سوموار کوشائع کی جائے گی)
رابطہ۔shabazrashid.470@gmail.com