تازہ ترین

سُلگتے ارمان

افسانہ

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
صبح کی فضا سورج کی کنواری کرنوں میں نہا رہی تھی،خوش لہن پرندوں کی سریلی آوازیں ماحول میں ترنم پیدا کر رہی تھیں۔ رشید بستر پر لیٹے اس پر کیف منظر سے محظوظ ہوتے ہوئے نہ جانے کن سوچوں میں گُم تھا کہ سرہانے رکھااس کا موبائیل فون بج اٹھا ۔اس نے آنکھیں ملتے ہوئے فون اٹھا یا۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔دل افروزبات کرو۔۔۔۔ کل پرسوں تک میں آجائوںگا۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور فون منقطع ہوگیا۔اس نے کئی بار واپس فون کیا لیکن جواب ندار۔ پہلے سے ہی پریشان رشید کواب گھر کی یادوں نے بری طرح گھیر کر بے چین کردیا۔اپنی گھروالی دل افروز کا شکوہ بھرا چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیااور بچوں کی میٹھی توتلی آوازیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔
’’ہائے میرے ارمان ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
کہتے ہوئے وہ بستر سے اٹھ کر دیوار پر آویزان کلینڈر کو دیکھنے لگا تو اس کا جگر چھلنی ہوگیا ،دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور بے قراری کے عالم میں مُنہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ۔
’’ نوکری چاکری پس از گدا گری‘‘ ۔
’’شبیر ۔۔۔۔۔۔تمہاری ڈیوٹی کا وقت ہوگیا‘‘۔
’’ جناب‘‘۔
اسی وقت آفیسر نے حکم سنایا اور وہ تیار ہو کر اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے سوچوں کی بھول بھلیوں میں گُم کوٹھی کے صدر دروازے پر کھڑاپنی ڈیوٹی کرنے میں مصروف ہو گیا۔عید کی آمد میں اب صرف دو ہی دن بچے تھے اور وہ اس تہوار کے موقعے پر کسی بھی قیمت پر گھر جانا چاہتا تھا کیوں کہ بیوی بچوں کی یادیں اسے زہریلے سانپ بن کر ڈس رہی تھیں ۔ایک دور دراز علاقے میں تعینات ہونے کے سبب وہ لگا تار پچھلے کئی مہینوں سے گھر سے باہر تھا ۔کافی تک و دو کے بعد خدا خدا کرکے اگر چہ اس کا تبادلہ عمل میں آیا اور اپنے ہی قصبہ کے مضافات میں اس کی تعیناتی ہوگئی لیکن آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق اسے چھٹی ملنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے ۔اس نئی جگہ پر ڈیوٹی کرتے ہوئے ابھی اس کا تیسرا ہی دن تھا ،ساتھیوں نے اس کو بتایا تھا کہ یہاں بڑے صاحب کی اجازت کے بغیر کوئی بھی چھٹی پر نہیں جا سکتا اور صاحب کم سے کم ایک مہینے کی ڈیوٹی کرنے کے بعد ہی چند ایک دن کے لئے کسی لڑکے کی چھٹی منظور کرتا ہے ۔بڑی پریشانی یہ تھی کہ صاحب اتنا کڑک اور سخت تھا کہ کوئی بھی لڑکا یہاں تک کہ ان کا انچارج آفیسر بھی اس کے سامنے جانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا ۔
شبیردل ہی دل میں پیچ تاب کھاتے ہوئے چھٹی منظور کرانے کے لئے ترکیبوں پر غور کر رہا تھاکہ ایک نوکر کتوں کو سیر کراکے واپس لایا اور واش روم میں لے جاکر شمپو سے ان کو نہانے لگا ۔وہ اس نیت سے اس کے پاس گیا کہ شاید اس کی وساطت سے کوئی راہ نکل آئے ۔
’’ بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔اعلیٰ نسل کے کتے ہیں ،کہاں سے لائے ہیں‘‘ ۔
’’مجھے نہیں معلوم‘‘۔
اس نے کسی بد مزاج ساس کی طرح ناگواری کے انداز میں کہتے ہوئے واش روم کا دروازہ بند کردیا ۔شبیردل ملول ہو کر واپس آکر پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی کتے واش روم سے باہر آکر پارک میں نرم و ملائیم سبزے پر بیٹھ کر دھوپ سینکیں گےگئے کہ ایک اور نوکر دودھ،بریڈ اور گوشت کے پارچے لے کر آیا اور کتے ٹھاٹھ سے کھانے لگے۔یہ منظردیکھ کر اندر ہی اندر اس کو صاحب لوگوں کی زندگی پر رشک آنے لگا جب کہ اپنی محرومیاںایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگیں ۔وہ اچھا تعلیم یافتہ ہونے کے با وجود عارضی بنیادوں پر پولیس محکمے میں تعینات تھا اور اب کی بار کسی بڑے انتظامی افسر کی کوٹھی،جہاں دن اور رات میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تھا، کی محافظت پر تعینات ہوا تھا ۔وسیع و عریض زمین کے ٹکڑے پر عالی شان کوٹھی۔۔۔۔۔سامنے قسم بہ قسم کے خوب صورت پھولوں سے مزین دلکش باغ۔۔۔۔۔۔اعلیٰ قسم کی قیمتی گاڑیاں۔۔۔۔۔۔نوکر چاکر ،غرض ہر طرح کی ٹھاٹ بھاٹ و عیش آرام کی اعلیٰ شاہانہ طرز کی زندگی۔ایک وہ تھا کہ معمولی سے مکان میں رہتا تھا ۔دن رات ڈیوٹی کرنے کے با وجود تنخواہ اتنی تھی کہ بڑی مشکل سے گھر کا گزارہ چلتاتھا ۔بچوں کے تعلیمی اخراجات اور دیگر گھریلو ضروریات بڑی مشکل سے پورے ہو پا رہے تھے ۔سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ مہینوں اپنے گھر اور اہل و عیال سے دور رہنا پڑتا تھا ۔اب کی بار تو حد ہی ہوگئی ۔وہ گھر جانے کے لئے بن جل کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا ۔وہ پریشان سوچوں کے تانوں بانوں میں اُلجھاتھا کہ ایک گاڑی آکر صحن میںرک گئی ،گاڑی کا دروازہ کھلتے ہی لذیذ پکوانوں کی خوشبو چاروں اور پھیل گئی ۔کچھ گھریلو ملازم پھرتی سے آئے اور قسم بہ قسم کی ضیافتوں سے بھری درجنوں دیگیں،مشروبات ، مٹھائیاں اور نہ جانے کیا کیا نعمتیںاتار کر اندر لے جانے گئے ۔
’’عید کی تیاریاں ہو رہی ہیں کیا؟‘‘
اس نے ایک ملازم سے پوچھا ۔
’’ نہیں ،آج میم صاحب کا جنم دن ہے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ 
اس نے مختصر سا جواب دیا اور خود سے کچھ بڑ بڑاتے ہوئے جانے لگا۔اسی لمحہ بڑاصاحبب،جو چھٹی ہونے کے سبب گھر پر ہی تھا، بھی کوٹھی سے باہر آیااور اسی ملازم پر برستے ہوئے ششتہ انگریزی میں کئی انگلستانی گالیاں دیں اور غصے کی حالت میں گاڑی میں بیٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔ جنم دن کا سن کر اس کے سوچ کے ظلمت کد ے میں ایک نیا روشن دان کھل گیا،دل میں امید کی ایک مدہم سی کرن جھلملائی اور چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی  ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی مہمانوں، جن میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں، کی آمد شروع ہوگئی۔ شام گئے تک میم صاحب کے جنم دن کی پارٹی بڑے ہی دھوم دھام اورطمطراق سے چلتی رہی ۔اس دوران اس نے میم صاحب کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔وہ بھی ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائیز تھی اور ان کے بچے کسی بورڈنگ سکول میںتعلیم حاصل کر رہے تھے ۔یہ جان کر کہ وہ ایک نرم دل خاتوں ہے اسے اپنی مراد پوری ہوتی نظر آنے لگی ۔ بڑاصاحب ابھی واپس نہیں لوٹا تھا، جسے وہ اپنی خوش قسمتی سمجھ کر مہمانوں کے چلے جانے کے بعد موقعہ پاتے ہی دبے قدموں کوٹھی کے اندر داخل ہوگیا ۔کوٹھی اگر چہ رنگ برنگی ٹمٹماتی روشنیوں اور حنا کی عطر کی خوشبو میں نہا رہی تھی لیکن وہاں خاموشی اور ویرانی بانہوں میں بانہیں ڈالے اونگھ رہی تھیں۔ دلہن کی طرح سجی سنوری میم صاحب ،جو اسوقت اداسی کی حالت میںپلنگ پر گائو تکیے کے ساتھ بیٹھی ٹیلیویژن دیکھ رہی تھی ،نے اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر پوچھ لیا ۔
’’کیا بات ہے ؟‘‘
’’ جی ۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔ وہ میں نے سوچا کہ گھر میں کوئی کام ہو تو کرلوں‘‘ ۔
’’ شکریہ بھائی ۔۔۔۔۔۔کام کے لئے تو گھر میں ملازم موجود ہیں لیکن آپ ہو کون؟اندر تو آجائو‘‘۔
میم صاحب نے بڑے ہی مشفقا نہ لہجے میں کہا جس سے حوصلہ پا کر وہ اندر داخل ہوگیا اور چھٹی کی عرضی اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’ جی میں یہاں سیکیورٹی ونگ میں تعینات ہوں ‘‘۔
’’ اچھا ۔۔۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہے ؟‘‘
’’ میڈم جی ۔۔۔۔۔یہ چھٹی کے لئے عرضی ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
اس نے تٖٖٖٖٖفصیل سے اس کو اپنی پوری روئیدار سنائی۔
’’ قسمت کے لکھے کو ٹالا نہیں جا سکتا،  فون کرکے گھر والی سے بات کیا کرو‘‘۔
میم صاحب نے تھکے سے لہجے میں کہا ۔
’’ میڈم جی۔۔۔۔۔۔ روز فون کرکے گھنٹوں بات کرتا تھالیکن اتنے دنوں سے گھر نہ جانے کی وجہ سے اب وہ بہت ناراض ہے اور ۔۔۔۔۔۔میں سخت پریشان ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔
’’ بڑی نصیب والی ہے وہ‘‘۔
اس نے زیر لب بڑ بڑاتے ہوئے ایک آہ کھینچی۔
’’ جی میڈم۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کے حق میں ایک مہینے کی چھٹی منظور کر لیتی‘‘۔
اس نے معذرت طلب آواز میں کہا۔
’’ ایک مہینے کی نہیں میڈم۔۔۔۔۔۔آپ بڑے صاحب کے پاس میری سفارش کرکے صرف تین دن کی چھٹی منظور کرا دیجئے،میں آپ کا احسان مند رہوں گا۔صاحب آپ کی بات ہرگز نہیں ٹالیںگے‘‘ ۔
وہ لجاجت سے ہا تھ باندھ کر منتیں کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ میم صاحب کا اندر باہر جیسے اتھل پتھل ہو کر رہ گیا، چہرے کے جغرافیہ میں ہلچل سی مچ گئی اور آنکھوں میں ایسے آنسئوں کے ڈورے تیرنے لگے جیسے کسی نے اس کے برسوں پرانے زخم کو کریدا ہو۔
’’ آپ صرف چند مہینوں سے اپنی گھر والی سے دور ہو نا‘‘ ۔
وہ کچھ توقف کے بعدرندھے سے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’ جی میڈم‘‘۔
’’ میں اور تمہارا صاحب پچھلے دس برسوں سے ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر بھی ندی کے دو کناروں کے مانند زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں ‘‘۔
اس نے جھر جھری لیتے ہوئے اُکھڑی سانس کو قابومیں لاتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں سارے جہاں کا درد سمٹ آیا۔موٹے موٹے آ  نسئوں کے قطرے یوں اس کے گالوں پر جھلملارہے تھے جیسے نیلے آ سمان پر جھلملاتے ستارے۔ 
���
رابطہ؛اجس بانڈی پورہ 193502 کشمیر
ای میل؛tariqs709@gmail.com