تازہ ترین

چوکیدار

کہانی

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


رحیم رہبرؔ
۔۔۔۔۔ تب سے میں ایک زندہ لاش ہوں اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوں جو میرے آس پاس ہورہا ہے۔ میرے جانے کے بعد ہی میرا قلم نیلام ہوا۔ شہر کے ایک پبلشر نے مجھے نوے فیصد ڈسکونٹ پر فروخت کیا۔ 
بیڈ روم، ڈرسنگ روم اور ڈرائنگ روم کی آرائش کے دوران میرے البم، جسمیں میرے یادگار فوٹو لگے تھے، کومکان کے اُس سٹور میں رکھا گیا جہاں ہم غیر ضروری اشیا کو رکھتے تھے۔
چوہوں نے وہاں میرا ستیاناس کردیا۔ میری شریک حیات کے لئے اُس البم کو دیکھنا جرم سے کم نہیں تھا۔
وہ کربناک منظر ہنوز میرے تصور کے عالم میں ہلچل مچارہا ہے۔ جب میرے اپنوں نے میرے افسانوں اور ڈراموں کے سکرپٹ ردی کاغذ خریدنے والے کوپلاسٹک جگ کے عوض فروخت کئے۔ وہ پلاسٹک جگ آج ہمارے واش روم میں استعمال ہورہا ہے۔!
تماشہ بین بچوں نے میری تصویروں کو آپس میں بانٹ دیا۔
اُن بچوں میں زینب کا تین سالہ بچہ آفریدی بھی تھا۔ آفریدی نے میری تصویر کو اپنی جیب میں چُھپا لیا۔ گھر میں جب زینب کو میری گرد آلودہ اور میلی تصویر پر نظر پڑی تو وہ زار زار رو پڑی ۔ شائد زینب کو اپنی پہلی محبت یاد آگئی! شوہر کے ڈر سے زینب نے میری تصویر کو چُھپا کے رکھا۔ مجھ میں دفعتاً ایک ارتعاش پیدا ہوا۔ زذینب نے آخر کار میری آرزو پوری کی!‘‘۔
اچانک شام کے کھانے کے دوران میرے لخط جگر کی نگاہیں میرے فوٹو پر جمیں۔ اُس کی آنکھیں نم ہوئیں۔ مجھے بےحال دیکھ کر اُس نے کھانا ادھورا چھوڑ دیا۔
’’کھانا کھائو۔۔۔۔ تم دن بھر کے بھوکے ہو۔۔ تمہارے ابّو کی پرچھایاں بھی اب ہمیں پریشان کررہی ہیں‘‘۔ میری بہو نے اپنے شوہر سے کہا۔
صبح سویرے میری بہو جی نے میرے اُس بڑے فوٹو کو مکان کی چھت کے نیچے اُس کوٹھری میں چُھپا کے رکھا جہاں اُلّو کا بسیرا تھا۔ وہ اندھا اُلو دن بھر اپنے نوکیلے پنجوں سے کھرچ کھرچ کر مجھے طرح طرح کی ازیتیں پہنچاتا رہا۔ یہاں تک کہ اُس کے بار بار کھروچنے سے میرے خوبصورت چہرے کی حالت بگڑ گئی !۔۔۔ 
’’تم ۔۔۔ تم شائد پاگل ہوئے ہو۔۔۔۔ یا تُم نشے میں ہو۔‘‘ پروفیسر جلیل نے مجھے بڑے ہی انہماک سے پوچھا۔
’’نہیں ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔!؟‘‘ میں نے پرفیسر سے کہا۔
’’تم زندہ ہوتے ہوئے بھی خود کو مُردہ کہتے ہو! تمہیں ایسا بڑا جھوٹ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی ہے؟‘‘
’’پروفیسر! میں کب کا مر چکا ہوں!‘‘
’’اُف تم تو حقیقی معنوں میں نشے میں ہو۔ یا تم اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہو۔‘‘پروفیسر جلیل نے کپکپاتے ہوئے کہا۔
’’پروفیسر ! میں نشے میں نہیں ہوں اور نا ہی میں پاگل ہوں۔ آپ ضرور مجھ پر بھروسہ کروگے پر اُس دن جب آپ بھی میری طرح مرجائو گے۔ جب آپ کے احساس کا خون ہوگا! تب آپ بھی میر طرح نوحہ پڑھو گے!‘‘
’’What Non Sense۔۔۔۔ احمق۔۔۔ کیا بکتے ہو!؟‘‘ پرفیسر کا چہرہ غصے سے لال ہوا۔ پروفیسر نے بے ساختہ جیب سے سگریٹ نکایا۔ لائٹر سے سگریٹ کو جلایا۔ دو تین کش لینے کے بعد پروفیسر کی آنکھوں سے آنسوئوں اُمڈ آئے۔۔ میں سکتے میں پڑ گیا۔۔۔۔ 
’’ خوامخواہ میں نے پروفیسر کو پریشان کیا۔۔۔ مجھے اُس سے یہ سب کچھ نہیں کہنا چاہتے تھا۔ میں تو کب کا مر چکا ہوں!‘‘ ۔ میں من ہی من میں سوچنے لگا۔
تھوڑی دیر کے بعد پروفیسر نے آنسوں پونچھ لئے اور مجھ سے یوں گویا ہوا۔ 
’’میر اگھائو اب بھر چکاتھا۔۔۔ تم نے اپنی آپ بیتی سے میرے گھائو کو پھر ہرا کردیا۔ اُس دن میری آشائوں کا بُرج خلیفہ زمین بوس ہوا جب میرا لخطِ جگر اِس بڑھاپے میں مجھے اکیلا چھوڑ کر دولت کمانے کے لئے ملک سے باہر چلا گیا۔ میں نے اُس کو لاکھ سمجھایا۔ پُر اس نالائق بیٹے نے میری ایک نہ سنی۔ میں اب اکیلا تنہائیوں میں سُکڑ کر رہ گیا ہوں! میری حیثیت ایک چوکیدار کی سی ہے۔ میں اب برسوں سے خود کی چوکیداری کررہا ہوں۔‘‘
پروفیسر سے اُس کی اصلیت سُن کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اُس کو اپنی حقیقت سے آشکارا کیا۔ 
’’پروفیسر! میں بھی اُسی دن اس دنیا سے چل بسا، جب جائیداد کی تقسیم کے دوران میرے بیٹوں نے ہم دو میاں بیوی کا بھی بٹوارہ کیا۔ میں تب سے محض ایک زندہ لاش ہوں اور اپنی لاش کی چوکیدار کررہا ہوں۔‘‘
����
آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ ماگام،موبائل نمبر؛9906534724