تازہ ترین

ڈاکٹرفاروق عبداللہ کاچیف الیکشن کمشنر کومکتوب

سیکورٹی کی آڑ میں ہمارے اُمیدوار’’محفوظ مقامات‘‘پربند

تاریخ    22 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ سیکورٹی کو جمہوری عمل میں مداخلت کرنے کے لئے کسی آلے یا بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے کے شرما کو لکھے گئے خط میں ،عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ ایک عجیب اور انوکھی صورتحال منظرعام پر آگئی ہے جس کے تحت عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے نامزد امیدواروں کو سیکورٹی کے نام پر فوری طور پر ’’محفوظ مقامات‘‘پر منتقل کردیا جاتا ہے اور انہیںان’’محفوظ مقامات‘‘ تک محدودرکھاجاتا ہے۔
عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے ذریعہ بھیجے گئے خط میں لکھا گیا ہے،’’انہیں نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے ، وہ اُن لوگوں سے مکمل طور پر رابطے سے باہر ہیں جن سے وہ ووٹ مانگتے ‘‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے کے کے شرما کو  روانہ کئے گئے مکتوب میں مزید کہا گیا ہے،’’ہماری جماعتیں ماضی میں برسر اقتدار رہی ہیں اور انہیں حکومت کی سربراہی کرنے اور چلانے کا موقع ملا ہے، ہم اس سیکورٹی کے دائرے میں درپیش چیلنجوں سے آگاہ ہیں ‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ یہ چیلنجز کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ ہم پچھلی 3 دہائیوں سے اس صورتحال حال سے نبرد آزما ہے‘‘۔خط میں مزید کہا گیا ہے ،’’ حکومت کے پاس ایسے ڈھانچے موجود ہیں جس سے تمام حریفوں یا ان جماعتوں کے نمائندوں کے تحفظ کو بلا امتیاز فکر و نظریہ اور جماعتوں سے وابستگی کے یقینی بنایاجاسکتا ہے‘‘۔ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے کہا کہ سیکورٹی کے دائرے میں موجودہ حالات کے انتخاب مکمل طور پر چند لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے اور دوسروں کو قید رکھنے کے مترادف ہے‘‘۔
مکتوب میں کہا گیا ہے ،’’یہ مقابلہ امیدواروں کی حقیقی معنوں میں حفاظت کے بجائے جمہوری عمل میں مداخلت کرنے کی کوشش ہے،جبکہ سیکورٹی کو جمہوری عمل میں مداخلت کے لئے کسی آلے یا عذر کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کا ارتقاء ملک کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے میں منفرد ہے۔‘ ‘ڈاکٹر عبداللہ نے اپنے مکتوب میں کہا،’’یہاںیہ سفر ایک خونخوار سفر رہاہے ، ہزاروں سیاسی کارکنوں کے خون میں ڈوبا ہوا ہے جنہوں نے جمہوریت کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔‘‘ یہ اُن قربانیوں کی بے حرمتی ہے جو شورش میں لوگوں نے دی اور اب تو جمہوریت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے طور استعمال کیا جاتا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا’’جموں و کشمیر میں جمہوریت بدستور کمزور ہے،جبکہ حکومتیں آتی جاتی ہیں۔مکتوب میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت کی بنیادکو تبدیل کرنے کا کسی بھی حکومت کو حق نہیں ہے،جبکہ اس کو پروان چڑھانے میں ہزاروں سیاسی کارکنوں نے اپنا خون پیش کیا ہے۔