تازہ ترین

گوشہ اطفال|21نومبر 2020

تاریخ    21 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


حقوقِ اطفال اور انسانی سماج

عمل ماقوف ہو تو علامتی تقریروں سے کیا ہوگا؟

یوم اطفال
 
مجتبیٰ شجاعی
 
کل یعنی20نومبر کو پوری دنیا میںبچوں کا عالمی دن منایا گیا۔ یہ دن منانے کابنیادی مقصد بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت اور ان کے حقوق کے حوالے سے شعور اجاگرکرنا ہے تاکہ بچہ بڑا ہوکر معاشرے کا ایک بہترین انسان اور ذمہ دار شہری بن سکے جب بچہ ایک ذمہ دار شہری بن جائے تبھی اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ معاشرہ بھی صاف و پاک بنے ۔حدیث نبوی ؐ ہے کہ’’ بچہ فطرتِ اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے‘‘۔چونکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو دو طرح کے حقوق بجالانے کا حکم دیتا ہے، ایک حقوق اﷲ اور دوسرا حقوق العباد ۔قرآن و احادیث کی رو سے حقوق اﷲ کے بعد سب سے زیادہ اہمیت جس چیز پر دی گئی ہی وہ حقوق العباد ہے ۔حقوق العباد سے مراد بندوں پر بندوں کے حقوق یعنی والدین کا اولاد پر حق ،اولاد کا ولدین پر حق ،شوہر کا بیوی اور بیوی کا شوہر پر ،اسی طرح ہمسایہ کا ہمسایہ پر حق ،استاد کا شاگرد پر حق اور شاگرد کا استاد پر حق ،عالم کا حق، اپنوں اور بیگانوں کا حق وغیرہ۔روایات میں ہے کہ حقوق اﷲ میںاگر کوتاہی ہو تو اﷲ تبارک و تعالیٰ بندہ کی عجز و انکساری اور توبہ و استغفارکے بعد معاف کرسکتا ہے لیکن اگر حقوق العباد میں کوئی کوتاہی ہوگی جب تک بندہ معاف نہیں کرے، اﷲ بھی معاف نہیں کرے گا۔گویا از لحاظ تعلیمات اسلامی حقوق اﷲ سے زیادہ حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے۔ حقوق العباد کی پاسداری کئے بغیر حقوق اﷲ بجالانے کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔
 بہر حال دین اسلام حقوق العباد میںبچوںکے حقوق کا بھی تعین کررہا ہے اور بچے کو صالح اور ایک ذمہ دار شہری بنانے کے اصول و قواعد بیان کررہا ہے ۔اسلام وہ واحد دین ہے جو نہ صرف بچے کی ولادت کے بعد بلکہ دوران حمل ہی بچے کی تربیت کامنشور پیش کررہاہے اور بچے کو اچھا انسان بنانے کے لئے ماںکواولین ذمہ دار قراردے رہا ہے۔بچے کی تعلیم و تربیت میں اس کے والدین کاسب سے اہم رول ہوتا ہے۔ماں کی گود بچے کا اولین درسگاہ ہوتی ہے بچے کے کردار کو نکھارنے اور اس کی انسانیت کو سجانے اور سنوارنے میں والدین خصوصاً ماں کا بنیادی کردار ہوتا ہے ۔والدین کے علاوہ بچے کے نشو نما میں استاد کا بھی کلیدی کردار ہوتا ہے۔ جس طرح کے ماحول میں بچوں کی نشو نما ہوتی ہے، ایسے ہی اثرات ان کے دل و دماغ پر نقش ہوجاتے ہیں۔والدین اور استاد اگر باکردار ہو تو بچہ بھی نیک کردار بن جاتا ہے ۔پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ ’’بچوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ الفت و محبت سے پیش آئو۔‘‘آپ ؐ فرماتے ہیں کہ’’ جو شخص بچوں پر مہربانی اور بڑوں کا احترام نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘۔والدین اپنے بچوں سے محبت کے ذریعہ بہترین تربیت کرسکتے ہیںجو بچے کو کمال تک پہنچاسکتا ہے۔
افسوس صد افسوس دور حاضر میں والدین اپنے بچوںکوانتہائی کم سنی میں تباہ کن اداروں میں داخل کرکے بری الذمہ ہوجاتے ہیں اور ان اداروں میں بچوں کو مغربی طرز کے خیالات،افکارات اور رحجانات میں پروان چڑھایا جاتا ہے جو بچے کو نفسانی ہوس کے ایک محدود دائرے میں قید کرکے اس کی شخصیت کو برباد کردیتے ہیں ۔بقول اکبر الہ آبادی   ؎ 
طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی 
دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
 اگرچہ عالمی سطح پر بچوں کا دن دھوم دھام سے منایا گیااور اس سلسلے میں بچوں کے حقوق کا ڈھنڈورا زور وشور سے پیٹاگیا۔ درحقیقت یہ دن منانے والے مفلوک الحال غریب اور مظلوم بچوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں ۔دنیا کے اکثر ممالک میں بچوں کے بنیادی حقوق پامال ہورہے ہیں ،بے دردی کے ساتھ ان کی زندگیاں چھینی جاتی ہیں،گویا دھرتی پر ان کو جینے کا کوئی حق نہیں۔بچوں کا عالمی دن منانے کا مقصد اگر بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ،ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،بچہ مزدوری اور جنسی زیادتی پر روک لگاناہے تواس طرح کے اقدامات ستم رسیدہ مفلوک الحال، غریب ،مظلوم بچوں کے لئے کیوں نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔ اس دن انسانی حقوق کی علمبرداری کے جھوٹے دعویداروں سے اس سوال کا جواب طلب کریں کہ بچوںکا عالمی دن منانے کے باوجود فلسطین کے بچے اسرائیلی بربریت کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں۔یمن کے بچے بے غور و کفن سڑکوں اور گلی کوچوں میںکیوں پڑے ہوئے ہیں ۔میانمارکے بچوں پر بے دریغ ظلم و تشدد کیوںڈھایا جارہاہے ۔ہندوستان اور پاکستان کے بچے ریل پٹریوں ،بس اڈوں،پارکوں اورسڑکوں پرایک ایک دانے کے لئے کیوںترس رہے ہیں ۔ یمن اور برما میں کتنے بچے بھوک سے مررہے ہیں جن کے بدن پر لباس بھی نصیب نہیں ۔دنیا بھر میںلاکھوں معصوم کلیاںکھلنے سے پہلے کیوں مرجھا رہی ہیں ۔اگر دنیا میںبچوں کو اس طرح کے مسائل ومشکلات کا سامنا ہے تو اقوام عالم کو بچوں کا عالمی دن منانے میں شرم محسوس ہونی چاہئے ۔کیا بچوں کے حوالے سے مغرب کا یہی تصور ہے کہ انہیں گولیوں، توپوں، بموں اور بارود کا نشانہ بنا یا جائے ۔اگر ایسا نہیں تو پھرفلسطین و یمن سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں۔دیرینہ حل طلب مسائل کا حل نکالنے میں اقوام متحدہ دیرکیوں کررہاہے اور بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کئے جارہے ہیں۔ بچوں کی نشونما کو اجاگر کرنے اور ان کے مسائل و مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے یونیسیف ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو انہوں نے فلسطین ،یمن،افغانستان ،پاکستان،ہندوستان ،میانمار،عراق اور شام وغیرہ میں مارے گئے معصوم بچوں کے قاتلوںکے خلاف کونسا قدم اٹھایا بلکہ یہ ادارے ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘ کے مصداق بنے ہوئے ہیں ۔اگر یونیسیف بھی بچوں کی فلاح وبہبود کے حوالے سے کچھ نہ کرسکا تو بچوںکا عالمی دن منانے کا ڈرامہ بند ہونا چاہئے۔
بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے اسلامی معاشرے میں بھی بچوں کو وہ حقوق نہیں مل پارہے ہیں جس کا اسلام ہم سے تقاضا کررہا ہے۔ ہم نے اپنے بچوں کی تباہی کا ساز و سامان اپنے ہی ہاتھوں سے تیار کرلیاہے ۔مغرب کی نقالی کرکے ہم نے اپنے لاڈلے بچوں کی تذلیل و تضحیک کروانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔اپنے بچوں کو بدعنوانیت ،عریانیت ،بے شرمی،بیہودگی اور بے پردگی کی منڈی میں دائو پر لگادیا ہے ۔اسلامی تہذیب و تمدن سے ننگ وعار محسوس کرتے ہوئے اپنے بچوں کی عصمت تار تار کردی ہے۔ حقوق نسواں کے نام پر اور حقوق بشری کے نام پر اپنے بچوں کو ذلالت کے گرداب میں دھکیل دیاہے ۔ان کے حلق میں مغرب نوازی کا طوق پہنا کر انہیں معاشرے میں کھلونے کے طور پر پیش کیا ۔اس کا ذمہ دار صرف والدین ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہے ۔
 بچوں کی تربیت صرف انفرادی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے ۔پیغمبر اسلام ؐ بچوں کی تربیت کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ’’ بچہ سات سال تک سردار اور سات سال تک غلام اور سات سال تک وزیر ہوتا ہے ‘‘۔یعنی ان اکیس برسوں میں بچے تربیت کے محتاج ہوتے ہیں ۔بچوں کی تربیت کا اثر صد در صد فیصد قوم اور معاشرے پر ہوتا ہے۔ علامہ اقبال ؒ بھی بچوں کی تربیت کے حوالے سے کہتے ہیںکہ ’’اگر بچوں کی تربیت میں خامی رہ جائے تو تعمیر قوم و وطن کی بنیاد میں خامی رہ جائیگی‘‘۔
 بچوں کا عالمی دن منانے سے بچوں کے حقوق کو بحال نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ جو ممالک یہ دن دھوم دھام سے منارہے ہیں، اکثریہی ممالک یا تو بچوں کو تہذیبی یلغار کا شکار بنا کر ان کا عزت وعصمت تار تار کررہے ہیں یا پھر توپوں ،گولیوں اور بموں کا نشانہ بنا کر انہیں بے وقت موت کی نید سُلادیتے ہیں ۔ایسے ممالک اور ایسے والدین کو یہ دن منانے کا کوئی حق نہیں جو اپنے بچوں کے حقوق پامال کرنے میں پیش پیش ہیں۔بچوں کے ساتھ محبت کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کی صحیح تربیت کریں اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے کارگر اقدامات کریں اور ان ممالک کے ساتھ کھل کر نفرت وبیزاری کا اظہار کریں جو دنیا کے بیشتر ممالک میں جنگ وجدل کا باعث بن رہے ہیں ۔
رابطہ۔گنڈ حسی بٹ سرینگر
موبائل نمبر۔8494030114
 

چند ایجادات اور ان کے مؤجد

1۔ استری 1882ء میں ایک امریکی سائنس دان ولیم سیلی نے ایجاد کی تھی۔
2۔ 698 میں تھامس سیوری نے پہلا عملی اسٹیم انجن رجسٹر کروایا تھا۔
3۔ الیسینڈرہ وولٹا نے بجلی بنانے کا پہلا عملی طریقہ ڈھونڈا تھا۔
4۔1831 میں مائیکل فراڈے نے بجلی پیدا کرنے کے بنیادی اصول مرتب کیے تھے۔
5۔ چاند پر جانے کے بعد انسان ایک دوسرے کی آاز اس لیے نہیں سْن پاتے کیوں کہ وہاں ہوا نہیں ہوتی۔
6۔ ڈیزل انجن کا موجد روڈولف ڈیزل تھا۔
7۔ مصنوعی دل کا موجد ولیم کولف تھا۔
8۔ ریلوے انجن جارج اسٹفن نے 1825میں ایجاد کیا تھا۔
9۔’’پانی میں وزن گھٹ جاتا ہے‘‘ ارشمیدس نے دریافت کیا۔
10۔ مائیکرو فون گراہم بیل کی ایجاد ہے۔
11۔ لائو ڈ اسپیکررائس کیلاگ کی ایجاد ہے۔
 
 

کمپیوٹر گیمز

 
انس انوار
 
"طلال ! طلال ! بیٹا ! میری بات سنو، اب تو کمپیوٹر سے ہٹ جائو "جی مما ابھی ہٹتا ہوں" فائزہ طلال سے کہہ کر ابھی ہٹی ہی تھی کہ اسے دوسرے کمرے میں عائزہ بھی لیپ ٹاپ پرمصروف نظر آئی۔ "بیٹا ! کیا مسئلہ ہے جب بھی آپ لوگوں کو دیکھو کمپیوٹر، موبائل، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ لے کر بیٹھے ہوتے ہو۔ مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ میں آپ لوگوں کو کیسے سمجھائوں"؟ فائزہ بچوں کی ن سرگرمیوںسے بہت پریشان تھی۔ چھوٹا مدثر بھی جب دیکھو ٹی وی پر کارٹون دیکھتا ہے یا موبائل پر گیم کھیلتا رہتا۔ صرف اسکول اور ٹیوشن کیاوقات میں ہی گیم سے جان چھوٹتی.۔ کووڈ۔19اور لاک ڈائون کی وجہ سے تعلیمی نظام کے موبائل اور کمپیوٹر پر منتقل ہونے کے بعد والدین کے لیے پریشانیاں مزید بڑھ گئیں۔ 
آج فائزہ کی دوست سارہ گھر پر آئی تو وہ بھی اپنا یہی دکھڑا سنانے لگی۔اب یہ ہر گھر کا مسئلہ بن گیا ہے۔ پہلے بچے آئوٹ ڈور گیمز کھیلتے تھے جن سے ذہنی و جسمانی صحت اچھی رہتی تھی۔ لیکن اب انٹر نیٹ نے سارا نظام برباد کرکے رکھ دیاہے۔ ہر وقت موبائل اور کمپیوٹر پر لگے رہنے سے بچے کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ اب تو کچھ گیمز ایسے آگئے ہیںجن سے بچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوکر خودکشی کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور میں ایک بچے نے PUBGکی وجہ سے خودکشی کر لی۔ آج مائیں انہیں ان خرافات روک سکتی ہیں۔
اپنے بچوں کو موبائل کے منفی استعمال سے بچانے کے لیے رات کو سوتے وقت اصلاحی کہانیاں، اوراسلامی کتابوں میں سے اچھی باتیں ضرور بتائیں ، تاکہ وہ اچھی چیزوں کی طرف متوجہ ہوں۔یہ بات درست ہے کہ گھر کے کام کاج کی وجہ سے مائیں بہت مصروف رہتی ہیں، اور بچوں کو دینے کے لییان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔لیکن انہیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔ ان کی توجہ تعلیمی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور انہیں ٹی وی، موبائل اور انٹرنیٹ سے نجات دلائیں۔
 
 

آغا صاحب کی ایک شرارت

کہانی
 
رئیس صدیقی
 
 ایک صاحب تھے آغا جانی کاشمیری۔ یہ1908میںپیدا تو لکھنؤ میں ہوئے لیکن رہتے تھے ممبئی میں۔آغا صاحب نے بہت سی فلموں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں او رمکالمے بھی۔آغا صاحب شاعر بھی تھے اور سوانح نگار بھی۔آغا صاحب نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کو ہم  سوانح عمری کہتے ہیں۔ اس کتاب کا  نام ہے ’   سحر ہونے تک۔ 
آغا صاحب 90برس کی عمر پاکر1998میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے لیکن ان کی کتاب ہمیشہ انہیںزندہ رکھے گی۔اس کتاب کی زبان اس قدر پیاری اور انداز اس قدر اچھوتا، رواں  اور دلچسپ  ہے کہ جناب سید احتشام حسین، علی سردار جعفری اور راجندر سنگھ بیدی  جیسے صاحبِ ز بان اور ا ردو کے بہت بڑے ادیب بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کتاب میں ان کی زندگی کی بہت سے مزیدار قصے ہیں،خاص طور سے بچپن کی شرارتیں۔ ان ہی شرارتوں میں سے ایک شرارت آغا صاحب ہی کی مزیدار زبان میں پیش کررہا ہوں:
 ایک حکیم صاحب تھے جن کو ہم سب ’حکیم مرغا‘ کہتے تھے۔ ایک پسلی کے خود اور دوہزار آدمیوں کو مارنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ ہمارے محلے کے ایک مکان میں مطب کرتے تھے جس میں ایک قبرستان بھی تھا۔ جب کبھی کوئی حلوہ بناتے تو ہم لوگوں کو چکھاتے اور اس کے اوصاف اور خوبیاں  بیان کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ مریضوں کی موجودگی میں آئو، حلوہ چکھو ا ور خوب تعریف کرو۔ہم لوگ روز حلوہ کھاتے اور جب ختم ہونے لگتا تو وہ مریضوں کے سامنے پوچھتے۔کیسا حلوہ ہے؟‘‘ تاکہ کوئی مریض پھنسے۔ ہم لوگ مریضوں کے سامنے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا کہنا !آپ کے والد نے کھایا۔ دادا نے کھایا۔ چچا نے کھایا اور سامنے قبرستان میں دفن ہوگئے!
 اور پھر ہم لوگ مریضوں پر نظر ڈالتے ہوئے یہ کہہ کر بھاگ لیتے :’اب دیکھنا ہے کہ اِن میں سے کس کی باری ہے؟‘مگر ہم بچوں کی اس شرارت پر حکیم صاحب ناراض نہیں ہوتے بلکہ انکے  چہرے پر معصوم سی مسکان پھیل جاتی اور کہتے :شرارت بچے نہیں کریں گے تو کیا ہم بڈھے کریں گے !
سچ تو یہ کہ معصومیت ،صبر ، برداشت اور نظر انداز کرنے کی قوت، خوش مزاجی ، ہر حال میں خوش رہنا اور چہرے پر دل خوش کر دینے والی  مُسکان اللہ کی طرف سے ہم بندوں کو انمول تحفہ ہے!!  
( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دلی اردو اکا دمی ایوارڈ یا فتہ پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار ، شاعرو ادیبِ اطفال  اور ڈی ڈی اردو و آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر ہیں)
ای میل۔rais.siddiqui.ibs@gmail.com
 

بوجھو تو جانیں…!!!

اونچی نہیں پر لمبی تھی
نیچے نیچے آئی تھی
دیکھی ہے پر چکھی نہیں
قسم خدا کی کھائی تھی
******************
کالی اس کی وردی، دھیمی اس کی چال
ہر گھر میں ایسے پھرے جیسے کوئی کوتوال
******************
آگے خر، پیچھے کان…….بھلا بتائوتو ہے کیا
******************
ایک لمبا لمبا سا کیڑا
کھائو تو جیسے شیرا
******************
ایک اچھنا ہم نے دیکھی
مردہ روٹی کھائے
بولے سے بولے نہیں
مار پڑے چلائے
******************
پانی پی پی پھول رہی ہے
پیٹھ پہ جھولا جھول رہی ہے
******************
ایک گڑھے میں دو رنگ پانی
******************
خود اس کو کب پڑھنا آتا ہے
جو چاہو لکھ کر دکھائے
 صحیح جوابات
1۔کھائی۔2۔کوا 3۔خرگوش4۔شہتوت5۔ڈھول6۔مشک7۔انڈا8۔قلم