تازہ ترین

اسلام میں بیوی اورشوہر کے حقوق

دینِ مبین

تاریخ    19 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


مولانا آفتاب اظہرؔ صدیقی
 آج ہمارا معاشرہ جہاں دیگر فساد ساز برائیوں میں مبتلا ہے وہیں ایک بڑی برائی شوہر اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی میں کمی ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس میں کمی کی وجہ سے گھرکا ماحول درد سر بن کر رہ جاتا ہے، بیوی شوہر کے حقوق میں کمی کرے یا شوہر بیوی کے حقوق ادا نہ کرے تو گھر کا سکون غارت ہوجاتا ہے، پہلے ایک دوسرے کی محبت میں کمی پیدا ہوتی ہے اور پھر بات بڑھتے بڑھتے خلع یا طلاق تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے اسلام نے سب کے حقوق مقرر کردیے ہیں کہ ہر کوئی اگر ایک دوسرے کا حق برابر ادا کرتا رہے تو زندگی سکون سے گزرتی ہے، اسلام نے جہاں شوہر پر بیوی کے حقوق واجب کیے ہیں وہیں بیوی پر بھی شوہر کے حقوق کی ادائیگی کو لازم قرار دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ شوہر کے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر کیا حقوق ہیں۔
شوہر پر بیوی کے حقوق: (۱) مہر کی ادائیگی۔ نکاح کے وقت جو مہر طے کیا جاتا ہے شوہر کے ذمہ ضروری ہے کہ اس کو پورا پورا ادا کرے، بیویاں شرم و لحاظ میں یا خوف کی وجہ سے اگر نہیں مطالبہ کرتیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر مہر کو بھول جائے؛ بلکہ مکمل مہر بیوی کے حوالے کرنا ضروری ہے، حتی کہ اس میں سے بیوی کی رضامندی کے بغیر گھر کی ضروریات میں خرچ کرنا بھی جائز نہیں، آدمی کو چاہیے کہ نکاح کے وقت اپنی حیثیت سے زیادہ مہر طے نہ کرے تاکہ اسے دینے میں مشکل پیش نہ آئے؛ تاہم اگر زیادہ مہر طے ہوگیا ہے تو آہستہ آہستہ کرکے اسے اداکرے، ہاں اگر سال دو سال بعد بیوی خود اپنی مرضی سے مہر میں سے کچھ معاف کردے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ سورۂ نساء آیت نمبر ۴ میں اللہ پاک کا فرمان ہے ’’ عورتوں کو ان کا مہر راضی و خوشی سے اداکردو‘‘ ۔ 
(۲) دوسرا حق ہے بیوی کی ضروریات کی تکمیل: یعنی بیوی کا کھانا ، کپڑا اور رہنے کے لیے مکان: سورۂ بقرہ میں اللہ پاک کا ارشاد ہے ’’بچوں کے باپ (یعنی شوہر ) پرعورتوں (یعنی بیوی) کا کھانا اور کپڑا لازم ہے دستور کے مطابق۔ (سورۂ البقرہ ۳۳۲) آج کل شوہر کی طرف سے بیوی کی کفالت میں دو طرح کی باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، بعض شوہر جنہیں اللہ پاک نے خوب عطا کر رکھا ہے وہ اپنی بیوی پر فضول خرچ کرتے ہیں اور اسراف میں حد سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ خود قرآن میں اسراف اور فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے، اس کا دنیوی نقصان یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جب شوہر پر حالات آتے ہیں اور اس کے کار و بار کو زنگ لگ جاتا ہے تو وہی بیوی جس کی ہر فرمائش کل تک پوری کی جارہی تھی آج شوہر کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور فرمائشوں کے پورا نہ ہونے پر جھگڑنے لگتی ہے اور پھر نتیجہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے شوہر بہت کچھ پاس ہوتے ہوئے بھی بخل سے کام لیتے ہیں اور بیوی کی ضروریات کی ادائیگی میں دلچسپی نہیں دکھاتے اس کو اپنے اوپر ایک بوجھ سمجھتے ہیں، یہ بھی غلط ہے، شوہر کو چاہیے کہ اپنی بیوی کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھے اور اس کے لیے اپنے سے بہتر پسند کرے، اس کے پہننے اور کھانے میں اس کی پسند کا خاص خیال کرے تبھی جاکر گھر کا ماحول خوش گوار نظر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی امان میں تم نے اُن کو لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے اُن کی شرمگاہوں کو تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے۔ دستور کے مطابق اُن کا مکمل کھانے پینے کا خرچہ اور کپڑوں کا خرچہ تمہارے ذمہ ہے۔ (مسلم) 
(۳) حسن معاشرت: یعنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے پر زندگی گزارنا، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، بہت سے شوہر بات بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوجاتے ہیں یا انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگتے ہیں حتیٰ کہ بہت سے عاقبت نااندیش تو مار پٹائی تک آجاتے ہیں، یہ غلط طریقہ ہے، بیوی کوئی نوکرانی نہیں، وہ ایک شریک حیات ہے، تمہارے گھر کی رانی ہے، تمہاری زندگی کا سکھ دکھ اسی کے ساتھ ہے، شوہر کو چاہیے کہ بیوی کے ساتھ ایک اچھے ساتھی سے بڑھ کر معاملہ کرے، اسے اپنا سب سے بہتر ہم سفر اور سب سے اچھا دوست جان کر اس کے ساتھ زندگی گزارے، بیوی سے اگر کوئی ناگوار بات ہوجائے تو فوراً غصہ نہ کرے، صبر سے کام لے، یہ سمجھے کہ جب خود شوہر مضبوط ہوکر غلطیاں کر گزرتا ہے تو بیوی سے صنف نازک ہوکر کچھ نقصان والی بات ہوگئی تو اس میں اس کا کیا قصور ہے، بیوی کو ہر بات پیار سے سمجھائے، کسی کے سامنے اسے جھڑکے نہیں، اس کا مذاق نہ اڑائے، اگر شوہر ان باتوں کا خیال رکھتے ہوئے بیوی کے ساتھ رہے گا تو امید ہے کہ بیوی بھی اسے اس سے بڑھ کر درجہ دے گی اور بہتر طریقے سے رہے گی۔ اللہ پاک کا فرمان عالیشان ہے :ا ن کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو؛ لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کردے۔(سورۃ النساء ۹۱)
بیوی پر شوہر کے حقوق: 
(۱) شوہر کی فرماں برداری :ہر بیوی پر لازم ہے کہ اپنے شوہر کی جائز باتوں کو مانے اور اس کی اطاعت کرے ، بہت سے جھگڑے یہیں سے جنم لیتے ہیں، مرد بیوی کو کوئی بات بتاتا ہے اور وہ اسے ٹیوی دیکھنے، کھانا بنانے، کپڑے دھونے یا کسی اور فضول کام میں لگے رہنے کی وجہ سے ٹال دیتی ہے، حالانکہ اس وقت سب سے ضروری کام وہ ہے جو شوہر نے بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ جو عورتیں نیک ہیں وہ اپنے شوہروں کا کہنا مانتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق نیک عورتیں شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے نفس اور شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں، یعنی اپنے نفس (عزت و آبرو) اور شوہر کے مال میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتی ہیں۔ (سور ۃ النساء۴۳)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت پر شوہر کی اطاعت لازم ہے اور شوہر کا درجہ بیوی سے بڑھا ہوا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بیوی اور بچوں کے اخراجات کا ذمہ شوہر کو دیا ہے۔ لہذا بیوی کو چاہیے کہ شوہر کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہے ، بہت سی عورتیں شوہر کی خواہش نفس کی تکمیل میں کوتاہی کرتی ہیں، شوہر جب اسے بستر پر بلاتا ہے تو بہانہ بنادیتی ہیں یا ابھی نہیں کہہ کر ٹال دیتی ہیں، یہ بھی غلط ہے، عورت اگر حیض سے نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ جب شوہر مجامعت کے لیے بلائے اپنے ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر فوراً تیار ہوجائے ، اس لیے کہ عورت کے ان ہی نخروں کی وجہ سے مردوں کی عادتیں بگڑتی ہیں اور وہ بیوی پر سے دھیان ہٹالیتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میاں بیوی کے جو باہمی تعلقات ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر بھی اجر عطا فرمائے گا۔ صحابۂ کرام نے سوال کیا : یا رسول اللہ! وہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تحت کرتا ہے، اس پر کیا اجر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اگر وہ نفسانی خواہش کو ناجائز طریقے سے پورا کرتا ہے تو اس پر گناہ ہوتا ہے یا نہیں؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! گناہ ضرور ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چونکہ میاں بیوی ناجائز طریقہ کو چھوڑکر جائز طریقے سے نفسانی خواہشات کی تکمیل اللہ کے حکم کی وجہ سے کررہے ہیں، اس لئے اس پر بھی ثواب ہوگا۔ (مسند احمد ج ۵ ص ۷۶۱۹۶۱)
(۲) مال اور عزت کی حفاظت:  اوپر ذکر کی گئی آیت میں معلوم ہوا کہ عورت پر جس طرح شوہر کی اطاعت لازم ہے اسی طرح شوہر کے مال  اور اپنی عزت کی حفاظت بھی ضروری ہے، شوہر کے مال کی حفاظت یہ ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف نہ کرے، اپنی عزت کی حفاظت یہ ہے کہ شوہر کی غیر حاضری میں کسی نامحرم سے بات نہ کرے،کسی انجان کو گھر میں داخل نہ ہونے دے، کسی پڑوسی کے گھر میں جہاں نامحرم لڑکے یا مرد ہوں نہ جائے وغیرہ وغیرہ ۔ اس میں بیویوں کو ایک اور بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے وہ یہ کہ شوہر کی عزت آبرو کی بھی حفاظت کرے : یعنی گھر کی اندرونی باتیں، پردے والی باتیں یا راز کی باتیں جو شوہر نے اسے بتائی ہوں کسی کو نہ بتائے حتی کہ اپنی سہیلیوں اور اپنے ماں باپ سے بھی نہ کہے۔ 
(۳) بچوں کی تربیت اور گھریلو نظام : عورت پر تیسری ذمہ داری گھر کے نظام کو بہتر طریقے سے چلانا ہے: حضرت انس ؓ  فرماتے ہیں کہ جب صحابۂ کرام اپنی بیٹی یا بہن کو رخصت کرتے تھے تو اس کو شوہر کی خدمت اور بچوں کی بہترین تربیت کی خصوصی تاکید کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگہبان اور ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے بچوں کی تربیت وغیرہ کے متعلق (قیامت میں) سوال کیا جائے گا۔(بخاری ومسلم)اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی اندرونی ذمہ داری عورت کی ہے، گھر کے سامانوں کی اصلاح، گھر کی صاف صفائی، شوہر کی ضروریات کے سامان تیار کرنا، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر امور خانہ داری کو عورت اپنی ذمہ داری سمجھے، اس لیے کہ مرد دن بھر باہر تجارت اور تلاش معاش میں رہتا ہے گھر میں عورت ہی ہوتی ہے؛ لہذا اسے چاہیے کہ گھر کے اندر کی تمام ذمہ داریاں وہ ادا کرے اور اسے اپنے اوپر بوجھ نہ سمجھے۔
(۴) شوہر کے لیے بناؤ سنگار : یہاں ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں مرد کا سب سے بہترین خزانہ ،نہ بتاؤں؟ وہ ایسی نیک بیوی ہے، جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ شوہر کو خوش کردے، جب شوہر اس کو کوئی حکم کرے تو شوہر کا کہنا مانے۔ اگر شوہر کہیں باہر سفر میں چلا جائے تو اس کے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔ (ابوداؤد، نسائی)
اس حدیث سے پتا چلا کہ عورت کو اپنے شوہر کے سامنے بن سنور کر رہنا چاہیے، اپنے چہرے پر رونق اور لبوں پر مسکراہٹ سجاکر رکھنا چاہیے تاکہ شوہر اس کو طبیعت سے چاہے ضرورت سے نہیں، ؛لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ عورتیں جب کہیں جانے کا ارادہ کرتی ہیں تبھی بن سنور کر تیار ہوتی ہیں، ورنہ گھر میں صرف میلے کپڑوں اور پراگندہ حال میں ہی گزارہ کرتی ہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے، عورت کو چاہیے کہ صرف شوہر کے لیے بناؤ سنگار کرے اور گھر سے باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو مکمل پردے کا اہتمام کرے۔