تازہ ترین

دور اُفتادہ علاقے اور کٹھن موسمی حالات

وسیع انسانی آبادی کو مرنے کیلئے نہ چھوڑاجائے

تاریخ    19 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


 دنیا بھر میں شہریوں کو حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات میں سے ایک اہم بنیادی سہولت طبی نگہداشت کی فراہمی ہے ۔یہ کوئی استحقاق نہیں بلکہ اقوام متحدہ چارٹر کے مطابق ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔طبی نگہداشت کے نظام کو شہریوں کا بنیادی حق سمجھنے کی یہی فہم سبھی حکومتوں کو اس بات کا پابند بنا دیتی ہے کہ کسی بھی امتیاز کے بغیر سبھی شہریوں کو طبی نگہداشت کی یکساں سہولیات میسر ہوں تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ اس بنیادی حق کی فراہمی میں بھی امتیاز برتا جارہا ہے اور آج کے جدید دور میں بھی دور دراز علاقوں کے بد نصیب لوگ اس بنیادی سہولت کیلئے ترس رہے ہیں۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج بھی ہمارے جموںوکشمیر کے دور افتادہ علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان پایا جارہا ہے جہاں سردیوں کے موسم میں بھاری برف باری کی وجہ سے باقی یوٹی سے کٹ کر رہنے والے لوگوںکا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہ جموں وکشمیر کے کئی علاقے ایسے ہیں جو سرما کے چھ ماہ باقی دنیا سے کٹے رہتے ہیں اور اس مدت میں ان کا کوئی والی و وارث تک نہیں ہوتا ہے ۔عام بیماریاں کُجا،انہیں طبی ایمر جنسی کی صورت میں بھی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجاتا ہے ۔
شہروں اور قصبوں میں رہنے والے لوگوںکو حیرت ہوگی کہ آج بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایسے بھی علاقے ہیں جنہیں عملی طور سرما کے مہینوں میں حالات سے لڑنے کیلئے تنہا چھوڑ دیاجاتا ہے تاہم حقیقت یہی ہے کہ یہاں ابھی ایسے کئی علاقے ہیں جو کئی مہینوں تک کٹ کر رہ جاتے ہیں اور اُن کا کوئی پرسان حال نہیںہوتا ہے ۔جموں کے ڈوڈ بست گڑھ علاقہ سے لیکر بنی بسوہلی کے بالائی علاقے اور کشتواڑ و ڈوڈہ اضلاع کے وارڈون ،مڑواہ اور دچھن علاقوں کے علاوہ رام بن کے مہومنگت اور ریاسی ضلع کے گلاب گڑھ کے بالائی علاقے ایسے ہیں جو سرما میں بالکل کٹ کررہ جاتے ہیں ۔اسی طرح کشمیر میں اننت ناگ وکولگام اضلاع کے بالائی علاقے ،بانڈی پورہ کا گریز علاقہ اور کپوارہ ضلع کے کیرن ،مژھل اور کرناہ جیسے علاقے ایسے ہیں جو پورے سرما باقی دنیا سے کٹے رہتے ہیں اور ان کٹھن ایام میں ان علاقوں کے لوگوں پر کیا گزرتی ہے ،اُس کا اندازہ کرنے سے ہی دل پسیج جاتا ہے۔
 دو روز قبل ہی گریٹر کشمیر میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے ایسے علاقوں سے درجنوں کنبے سردی کے کٹھن ایام میں زچگی جیسی طبی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے اپنے گھر بار چھوڑ کر جموں یا سرینگر کا رخ کرتے ہیں۔یہ جبری مہاجرت کہنے کو تو آسان لگتی ہے لیکن اصل میں یہ اُن ارباب بست و کشاد کے منہ پر کرارا طمانچہ ہے جو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ڈول پیٹتے تھکتے بھی نہیں ہیں۔آج کے دور میں ہماری اس یونین ٹریٹری میں ایسے دیہات ہیں جو ابھی بھی ضلع صدر مقامات کے ذریعے قابل انحصار سڑک رابطہ کے ذریعے جڑے ہوئے نہیں ہیںـ۔
اس ضمن میں مڑواہ اور واڑون وادیوں کے علاوہ دچھن کی مثال دی جاسکتی ہے، جہاں کم از کم 50سے70دیہات ہیں لیکن ابھی تک یہ دیہات ضلع صدر مقام کشتواڑ کے ساتھ ہمہ وقتی سڑک رابطہ کے ذریعے نہیں جوڑے گئے ہیں۔دوسری طرف یہ دیہات کوکر ناگ سے جڑے تھے جہاں سے وہ اننت ناگ ضلع صدر مقام تک سفر کرسکتے تھے تاہم وہ شاہراہ بھی سال کے چھ ماہ بند ہی رہتی ہے اور یوں یہ دیہات اور ان دیہات کی ہزاروں نفوس پر مشتمل آبادی مکمل تنہائی میں رہتی ہے۔ذرا سوچیں کہ اگر ان لوگوںکو کسی طبی ایمر جنسی کا سامنا ہوتا ہوگا تو وہ کیا کرتے ہونگے ۔
یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں کے ایسے لوگ ’جو صاحب ِ ثروت ہوتے ہیں‘سرما میں ہجرت کرکے جنوبی کشمیر او ر جموں میں کرایہ پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن یہ کوئی آسان انتخاب نہیں ہے ۔یہ ایک ایسا معاشی بوجھ ہے جو ان لوگوںکو نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرناپڑتا ہے ۔چونکہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت خط ِ افلا س سے نیچے گزر بسر کررہی ہے تو انہیں اس ہجرت کے نتیجہ میں بے پناہ مصائب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور اکثر وبیشتر وہ ہجرت پر اپنے گھروں میںرہنے کو تر جیح دیتے ہیں کیونکہ اُن کے پاس اتنا سرمایہ ہوتا ہی نہیں ہے کہ وہ سرما کے چھ ماہ کرایہ پر کہیں رہ کر اپنا گزر بسر کرسکیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تعمیر و ترقی کے بلند و بانگ دعوے کرنے کی بجائے حالات کے ستائے ان لوگوں کی راحت رسانی کے اقدامات کئے جائیں اور فوری طور پر نہ صرف انہیں ہمہ موسمی رابطہ سڑکوںکے ذریعے باقی یوٹی کے ساتھ جوڑا جائے بلکہ شہر اور قصبوں کے ہم پلہ طبی سہولیات بھی دستیاب رکھی جائیں تاکہ کٹھن موسمی حالات کے دوران ایام ِ تنہائی میں انہیں مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے اپنے پیاروں کے جنازے نہ اٹھانے پڑیں۔اگر حکومت اتنا کرپاتی ہے تو سمجھا جائے گا کہ واقعی کسی کا بھلا ہوا ہے ورنہ یہی کہاجائے گا کہ یہاں صرف کاغذی گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں جن سے زمینی سطح پر ضرورتمند وں کا کوئی بھلا نہیں ہوتا ہے۔