تازہ ترین

بجلی سپلائی کا ناقص نظام

اپنی نااہلی کا نزلہ صارفین پر نہ گرائیں!

تاریخ    17 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


 گگ جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کی انتظامیہ نے اس بات کا عزم کیا ہوا ہے کہ آنے والے دو ایک برسوں میں دونوں صوبوں میں بجلی میٹروں کی صد فیصد تنصیب یقینی بنائی جائے گی جبکہ اس کے علاوہ جموں اور سرینگر شہروں میں زیر زمین بجلی کیبلنگ کا منصوبہ بھی در دست لیاجارہا ہے ۔کشمیر اور جموں صوبوں کی پاور کارپوریشنوں کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبان آئے روز بتا رہے ہیں کہ میٹرنگ کا عمل ہنگامی بنیادوںپر سبھی قصبہ جات کے علاوہ دیہات میں بھی مکمل کیاجائے گا تاکہ بجلی کا منصفانہ استعمال یقینی بنایا جاسکے ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میٹر لگانے سے بجلی کا منصفانہ استعمال کافی حد تک یقینی بنایا جاسکتا ہے اور لوگ میٹر لگانے کیلئے تیار بھی ہیں تاہم  پوری انتظامی مشینری اس بات سے بھی بخوبی واقف ہے کہ میٹر لگوانے کے باوجود بھی صارفین کو بجلی مناسب انداز میں سپلائی نہیں کی جاتی ہے ۔جموںوکشمیر میں جب میٹر لگانے کی مہم شروع کی گئی تو صارفین سے یہ وعدہ کیا گیا کہ میٹر یافتہ علاقوں میں بلا خلل بجلی سپلائی کی جائے گی تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ میٹر یافتہ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے اور چند حساس علاقوں کو چھوڑ کر تمام میٹر یافتہ علاقوں میں بجلی کٹوتی کی جاتی ہے ۔
یہ صورتحال کا ایک پہلو ہے ۔دوسرا اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جن علاقوں میں میٹر نصب کئے گئے ہیں ،وہاں یکطرفہ طور صارفین کو مطلع کئے بغیر لوڈ ایگریمنٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے اور صارفین اُس وقت ششدر ہوکر رہ جاتے ہیں جب مہینے کے بعد بجلی بل ان کے گھر پہنچ جاتا ہے ۔ایک طرف حکومت بجلی کا منصفانہ استعمال یقینی بنانا چاہتی ہے تو دوسری جانب محض آمدن بڑھانے کیلئے صارفین کو بلی کابکرا بنایا جارہا ہے جو مہذب سماج میں کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے ۔بجلی محکمہ کے حکام آئے روز بجلی چوری اور ہوکنگ کا بھی ذکرکررہے ہیں اورکہتے ہیںکہ بجلی چوری روکنے کیلئے محکمہ کے فیلڈ عملہ کا کلیدی رول بنتا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بجلی محکمہ کی نجکاری کی جارہی ہے تاکہ اپنی کوتاہیوں کا نزلہ صارفین پر گرایا جاسکے ۔نجکاری کے منصوبے بناکر دراصل حکام دبے الفاظ میں اس بات کا اعتراف کررہے ہیںکہ بجلی چوری میں محکمہ کا فیلڈ عملہ برابر ملوث ہے ۔
اس روزنامہ نے انہی سطور میں آج تک کئی دفعہ محکمہ کے ارباب حل وعقد کو یہ گوش گزار کرانے کی کوشش کی کہ جہاں وہ صارفین کو جوابدہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں وہیں انہیں سب سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر محکمہ کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہئے کیونکہ پورے جموںوکشمیر میں یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مذکورہ محکمہ کے فیلڈ عملہ پر آئے روز تشوت خوری کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔اگر صارفین بجلی چوری کیلئے ذمہ دار ہیں تو محکمہ بجلی کا فیلڈ عملہ کو اس سارے عمل میں بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ فیلڈ عملہ کی ملی بھگت سے ہی بجلی چوری کی جارہی ہے، جسکے لئے وہ نذرانے وصول کرتے ہیں۔
حکام ِ بالاکو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ بجلی کا منصفانہ استعمال اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک صارفین کو مناسب بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔اس وقت بھی جہاں میٹر یافتہ علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں کی کٹوتی کی جارہی ہے وہیںغیر میٹر یافتہ علاقوں میں بجلی کا خدا ہی حافظ ہے۔ اگرچہ صارفین خال خال ہی بجلی کے درشن کرتے ہیں لیکن جب فیس وصول کرنے کی باری آتی ہے تو اُس وقت محکمہ اپنی کوتاہیوں کو خاطر میں لائے بغیر صارفین سے فیس وصولنے میں کسی بھی حد تک جاتا ہے۔اگر صارفین کو بجلی کی متواتر سپلائی یقینی بنائی جاتی ہے تو شاید ہی کوئی صارف فیس ادا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے اور نہ ہی کوئی صارف بجلی کی چوری میںملوث ہوگا۔
محکمہ بجلی کی آمدن بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا اچھی بات ہے اور بجلی بجٹ کے خسارے کو دیکھتے ہوئے حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے تاہم جہاں صارفین سے فیس وصولی لازمی ہے وہیں محکمہ کو اپنی خامیوں دور کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔اس وقت بھی بیشتر علاقوں میں بجلی کے ترسیلی نظام کا حال بے حال ہے اور مرکزی سکیموں کے تحت بجلی شعبہ کی بہتری کیلئے اربو ں روپے حاصل کرنے کے باوجود آج بھی بوسیدہ کھمبوں اور خاردار تاروں کو بجلی کی ترسیل کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔اتنا ہی نہیں ،بجلی ٹرانسفارمر خراب ہونا معمول بن چکا ہے اور پھر ان کی مرمت میں ہفتوں یا مہینوں لگ جاتے ہیں حالانکہ باربار یہ اعلان کیاجاتا ہے کہ ٹرانسفارمر بنک قائم کئے گئے ہیں تاکہ خراب ٹرانسفارمروں کی مرمت کی وجہ سے صارفین کو ہفتوں اور مہینوں بجلی سے محروم نہ رہنا پڑے تاہم زمینی صورتحال یہ ہے کہ نہ کہیں ٹرانسفارمر بنک قائم ہیں اور نہ ہی صارفین کو بر وقت ٹرانسفارمر مرمت کے بعد واپس کئے جاتے ہیں ۔
محکمہ کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی محکمہ کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 48فیصد بجلی ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتی ہے ۔اس کے باوجود بھی اگر حکومت بجلی خسارے کیلئے صارفین کو ہی ذمہ دار ٹھہرائے تو بات بننے والی نہیں ہے بلکہ حکومت کو یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ بجلی بحران اور بجلی خسارہ کیلئے صارفین کم بلکہ محکمہ کی نااہلیاں زیادہ ذمہ دار ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے وقت میں نہ صرف بجلی کا ترسیلی نظام بہتر ہوگا بلکہ صارفین کو بھی معیاری اور مناسب بجلی فراہم کی جائے گی جس کے طفیل محکمہ بجلی کی آمدن میں اضافہ فطری بات ہے ۔