تازہ ترین

سرحدی کشیدگی…عوام کو جینے دو

تاریخ    16 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
پلوامہ حملہ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہوئی کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی اورپہلے دن سے خدشات ظاہر کئے جارہے تھے کہ یہ کشیدگی کوئی بھی کروٹ لے سکتی ہے ۔ فی الوقت یہ کشیدگی منقسم جموںوکشمیر کے سرحدوں پر آگ اُگل رہی ہے۔اس جنگی صورتحال کے بیچ منقسم جموں وکشمیر کی سرحدوں پر جو کچھ ہوا ،یا ہورہا ہے ،وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے ۔ 
کپوارہ اور گریز سے لیکر پونچھ تک لائن آف کنٹرول پر جنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشیں گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دو روز قبل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں حد متارکہ کے دونوں جانب کم ازکم16کے قریب اموات واقع ہوئیں اور 3درجن کے قریب زخمی ہوگئے ،نیز درجنوں رہائشی مکانات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔
ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پروقفہ وقفہ سے سرحدی گولہ باری جاری ہے ۔سرحدوں پر کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی دعوئوںکے مطابق پاکستانی افواج نے سال رفتہ یعنی2019میں3500 دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے جن میں61افراد ہلاک جبکہ 250کے قریب زخمی ہوگئے جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق اسی عرصہ کے دوران بھارت کی جانب سے 5ہزار سے زائد بار ایسی خلاف ورزی کی جاچکی ہیں، جن کے نتیجہ میں27افراد ہلاک جبکہ163سے زیادہ لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کیلئے سب سے بدترین سال قرار دیا گیا تھا اور 2018کی نسبت 2019میںجنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں3گنا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس میں مجموعی طور 6گنا اضافہ ہوا ہے ۔
اعداد وشمار خود بتارہے ہیں کہ سرحدوں کی صورتحال قطعی صحیح نہیں ہے اور یہ ایک طرح کی جنگ ہے جو دونوں جانب سے جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو اس کیلئے مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ایک زمانہ ایسا تھا جب سرحدوں پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کاایک بھی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔26نومبر2003کو جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تو اس کے بعدمسلسل تین برسوں تک سرحدوں پر بندوقیں خاموش رہیں اور2004،2005اور2006میں ایک بھی خلاف ورزی کا واقعہ پیش نہ آیا ۔یہ وہ دور تھا جب واجپائی اور مشرف کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی انتہا پر تھااور یہی وہ دور ہے جب بھارت حد متارکہ پر تار بندی کرنے میں کامیاب بھی ہوا ۔تاہم2006سے حالات بدلنا شروع ہوگئے اور سرحدوں کا سکون قائم نہ رہ سکا۔2006میں تین دفعہ جبکہ2007میں21اور2008میں77دفعہ اس معاہدہ کی دھجیاں بکھیردی گئیں تاہم بعد ازاں اس میں پھر قدرے کمی ہوئی او2009میں یہ تعداد28تک پہنچ گئی لیکن پھر گراف بڑھنے لگا اور 2010میں 44 جبکہ 2011 میں 62 ، 2012 میں114اور2013میں347دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔
ہندوپاک تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا ،سرحدی کشیدگی بھی بڑھتی گئی اور2014میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد583اور2015میں405تک پہنچ گئی۔2014کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔2016میں سرحدی گولہ باری کے 500سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ2017میںیہ تعداد971تک پہنچ گئی اور 2018میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد3ہزار تک پہنچ گئی جبکہ2019میں 3500واقعات پیش آئے ہیں اور امسال تو تمام حدیں پار کی جارہی ہیں۔
سال رفتہ کے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ اوسطاً10بار سرحدوں پرگولہ باری ہوئی ہے جبکہ جاریہ سال میں اب سرحدیں خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں اور دونوں جانب سے سے مسلسل آگ برسائی جارہی ہے ۔یہ اعدادوشمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سرحدوں پر دہشت کی حکمرانی ہے اور ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ ہندوپاک کی اس کشیدگی کا خمیازہ جموں و کشمیر کے آر پار عوام کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے اور ایل او سی کے دونوں جانب عام لوگ اس ہند وپاک کشیدگی میں توپ کی رسد بن رہے ہیں اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ جموں و کشمیر کے عوام ہی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ امن کی وکالت کررہے ہیںلیکن اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سرحدی سکوت ہندوپاک تعلقات میں گرمجوشی سے مشروط ہے ۔اس لئے کم ازکم عوام پر ترس کھا کر ہندوپاک کی قیادت کو چاہئے کہ وہ امن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ کشمیری عوام کو راحت کے چند پل میسر آسکیں اور اگر امن لوٹ آتا ہے تو مسائل کے حل کی راہ بھی خود بخود نکل آئے گی۔