تازہ ترین

شفقت

کہانی

تاریخ    15 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


تحلیل احمد ملک
"اٹھو ساحل۔ دیکھو آٹھ بج گئے ہیں ۔۔تمہیں سکول نہیں جاناکیا؟ " ماں نے ساحل کے منہ پر  سے کمبل اُٹھاتے ہوئے کہا۔
"اُف ماں! سونے دو نا ابھی آدھے گھنٹے سے کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا "، ساحل نے کمبل کو کھینچ کر کہا۔
"اچھا تیری مرضی مجھے تو ابھی بہت سارے کام کرنے ہیں "
رسوئی گھر سے آرہی آواز کو ساحل زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور وہ اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا۔
باتھ روم سے باہر نکلتے ہی ماں نے کہا،" بیٹا تم آگئے۔ دیکھو میں نے تمہارے لئے کیا بنایا ہے ۔۔۔مٹر پنیر"
" ماں کیا پکایا ہے؟ آج تو پاستا اور سینڈوچز کا زمانہ ہے۔۔۔ آپ نے میرا موڈ ہی خراب کر دیا۔۔ میں نہیں کھاؤں گا!"، ساحل  غصے میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور اسکول جانے کی تیاری کرنے لگا۔۔
ماں کو تو بہت برا لگ گیا اور کیوں نہ لگے اتنے پیار سے جو بنائی تھی اس نے مٹر پنیر، لیکن اس نے بنا ظاہر کئے مسکراتے ہوئے کہا "بیٹا میں نے  لنچ بکس پیک کر کے  رکھا ہے، کھا لینا اور ہاں میں نے اس میں مٹر پنیر نہیں رکھی ۔"
اسی دوران اسکول بس کی ہارن بجی۔ ساحل نے اپنا بستہ اٹھایا اور لنچ بکس وہیں پر  چھوڑ کر بس کی اور چل پڑا۔ ماں اسکے پیچھے لنچ بکس لے کر دوڑی لیکن بس نکل چکی تھی۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے،اس لیے نہیں کہ ساحل کو اس کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا پسند نہیں آیا بلکہ اس لیے کہ وہ آج دن بھر  بھوکا رہے گا۔
ہماری مائیں ہم سے کتنی محبت کرتی ہیں۔ خود کچھ کھائیں نہ کھائیں مگر ہم کو کھانا کھلا کر ہی دم لیتی ہیں۔ بہرحال ساحل تو اسکول چلا گیا بغیر لنچ بکس لئے ۔
دن کے ایک بجے جب تمام بچے کھانا کھانے کو نکلے تو ساحل اسکول گراؤنڈ کی اور نکل پڑا۔ یوں تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہوتا تھا لیکن آج انہوں نے اُس سے یہ کہہ کر کھانا شیئر کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کے پاس بہت کم کھانا ہے ۔اسکول گراؤنڈ تو بالکل خالی تھا کیونکہ تمام بچے کھانا کھا رہے تھے۔ ساحل نے پورے گراؤنڈ کی اور نظر دوڑائی، کوئی نظر نہیں آیا، سوائے راہل کے  ۔وہ اسکے  پاس گیا اور اس سے کہنے لگا کیوں،" راہل تم نے کھانا ساتھ نہیں لایا؟"
"نہیں دوست"
"پر کیوں؟"
"کیونکہ میری ماں تو گذر چکی ہے۔ اب جو میری سوتیلی ماں ہیں اس کو میری بالکل بھی پرواہ نہیں ہے۔ میں صبح آٹھ بجے اٹھا کرتا تھا لیکن اب چھ بجے اٹھتا ہوں کیونکہ سات بجے کے بعد مجھے ناشتہ نہیں ملتا۔ وہ میرے لئے ٹفن بھی نہیں رکھتی۔ دس روپے دے کر گھر سے  روانہ کرتی ہے اور کہتی ہے خود ہی کچھ کھا لینا۔۔۔ کاش میری ماں بھی  زندہ ہوتی تومیں بھی ٹفن  ساتھ  لاتا۔
ساحل یہ سن کر بالکل چپ ہوگیا اور وہ کلاس کی جانب چل پڑا ۔کلاس میں زار و قطار  رونے لگا اور اپنی کی ہوئی غلطی پر شرمندہ ہوا۔ جب چھٹی ہوئی تو وہ تیزی سے گھر کی جانب دوڑ پڑا اور ماں سے گلے لگ گیا اور اور کہنے لگا ،"ماں بہت بھوک لگی ہے ذرا مٹر پنیر تو لانا۔۔!"
 
متعلم10ویں جماعت، شاہِ ہمدان میموریل انسٹی چوٹ شوپیان،کشمیر،موبائل؛9697402129