تازہ ترین

کھلواڑ

کہانی

تاریخ    15 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
کتنی مستی سے یہ دنیا چلتی ہے نہ اس سے کسی کے آنے سے غرض اور نہ ہی اس سے کسی کے جانے کا ملال ۔کتنے سارے لوگ اس بے غرض دنیا کو سجانے اور بسانے میں اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں لیکن پھر بھی یہ دنیا ان افراد کے چلے جانے سے اپنا کام کاج نہیں چھوڑتی ۔یہ وہ باتیں تھیں جن کو سوچنے کی ذمہ داری شاید اللہ نے ہادیہ کو دی تھی ۔صبح ہوتی تو ہادیہ شام کے انتظار میں رہتی اور اندھیرا اپنی چادر بچھادیتا تو وہ صبح کے انتظار میں رہتی ۔آج ہادیہ کو ماں نے آخر کہہ دیا ــ’’کہ اب تم شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہو ،اب تمہارے لیے کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر تمہارے ہاتھ پیلے کر دیتے ہیں ‘‘۔ہادیہ یہ سُن کر بہت خوش ہوگئی۔ وہ شاید دل میں ایک خلا دپن لیے بیٹھی تھی جو اُسے اب ماں کی باتوں سے پُر ہوتے ہوئے دکھ رہا تھا۔آج اب ہادیہ کو ایک نیا عُنوان سوچنے کو مل گیا ۔اب وہ ہر آن اپنے ہونے والے ہمسفر کا تصور کرتی کہ وہ ایسا ہوگا،اُس کے بال ویسے ہونگے وغیرہ وغیرہ ۔صبح آج معمول سے ذرا پہلے ہی اُس کی آنکھیں کھل گئیں ۔وہ اب گھر کے کام سے فارغ ہو کر کالج جانے لگی ۔
 ہادیہ چونکہ بچپن سے پڑھائی میں بے حد اچھی تھی، اس لئے وہ جس مقصد کے لیے کالج جایا کرتی تھی وہ اُس سے پورا کیے بغیر نہیں رہتی۔کالج جائے اور لائبریری میں نہ جائے ایسا  شاید ہادیہ کی زندگی میں کو ئی دن نہیں تھا، اس لیے وہ  لائبریری میں جا کر پڑھائی میں مگن ہوگئی۔ لائبریری میں داخل ہو کر یوں تو اُس کی ملاقات کئی لڑکوں سے ہوتی لیکن اُس نے کبھی بھی کسی لڑکے کی طرف کچھ خاص توجہ مرکوز نہ کی تھی۔اندر داخل ہوتے ہی آج احمد نے اُس کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔وہ ہادیہ سے باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن ہادیہ اپنے کام میں مصروف اُس کی کسی کسی بات کا جواب دیتی ۔ہادیہ کا دل اللہ نے اس قدر معصوم بنایا تھا کہ اُس سے کسی کی تکلیف برداشت نہ ہوتی تھی ۔اُس کا ظاہر و باطن اللہ نے ایک جیسا بنایا تھا ۔وہ جب دکھی ہوتی تو وہ معصوم بچے کی طرح رو دیتی اور جب وہ خوش ہوتی تو وہ زور زور سے قہقے لگا لیتی۔یوں تو ایسے لوگ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ نعمت ہوتے ہیں لیکن جدید دور کے لوگ انہیں بے و قوف تصور کرتے ہیں اور ہر آن ان کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔کچھ ایسا ہی ہادیہ کے ساتھ بھی ہوا ۔احمد نے کافی حد تک کوشش کی کہ ہادیہ کو بے و قوف بنا کر اس کا اعتماد حاصل کیا جائے۔احمد کو اس کام میں وقت تو کافی لگا لیکن اُس نے ہادیہ کا اعتماد اس قدر حاصل کیا کہ ہادیہ ہر طریقے سے اس کے جھا ل میں پھنس گئی۔ویسے بھی لڑکیوں کا دل ہی اس قدر اللہ نے معصوم بنایا ہے کہ وہ آسانی سے ہر کسی کے جھال میں پھنس سکتی ہیں۔شاید انہیں اللہ کے مکافات عمل پر بڑا یقین ہے، اس لیے وہ آسانی سے ہر کسی کے جھانسے میں آکر انہیں کُھلی چھوٹ دے دیتی ہیں ۔لیکن یہ بات بھی بالکل صاف ہے کہ مرد سے کوئی بھی مُخلص عورت جیت نہیں پاتی ۔آج تک مرد سے اگر کوئی جیت پایا ہے تو وہ صرف شاطر عورت ۔وہ عورت جو اُن کے ہر جذبے اور اُن کی ہر بات کو مذاق میں لے کر انہیں ہر لمحہ اذیت عطا کرے ۔ایسی ہی عورت کے پیچھے یہ لوگ اپنا سب کچھ لُٹا دیتے ہیں۔
ہادیہ اب روز کالج جا کر ایک دفعہ احمد کو مل لیتی ،احمد کی باتیں سننے کی اس سے اس قدر عادت پڑ چکی تھی کہ وہ احمد سے ملے بنا  اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتی۔در اصل یہ عادتیں بھی انسان سے کیا کچھ نہیں کروائیں،کبھی کسی انسان کو ذلیل کر دیتی ہیں تو کبھی کچھ اور۔ہادیہ گھر گئی تو  اس کے دل و دماغ میں احمد رچ بس گیا تھا۔وہ من ہی من میں احمد کی باتیں یاد کرتی تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل جاتی اور یہ مسکراہٹ اس بات کا اشارہ تھی کہ ہادیہ بے حد خوش ہے ۔ایسی ہی مسکراہٹ کی جھلک کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کی بہن نے محسوس کی۔’’ارے دی دی بولو بولو کیا  بات ہے ۔۔۔۔آپ مجھ سے کیا چھپا رہے ہو۔۔۔۔۔پلیز دی دی مجھے بولو  ۔۔۔مجھ سے اب صبر نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔ہادیہ نے بھی بغیر وقت ضائع کیے اپنے دل کی بات اپنی بہن سے کر ڈالی۔یہ دونوں بہنیں باتوں میں مگن تھی۔اتنے میں ان کی ماں دروازہ کھٹکھٹانے لگی ’’اندر آؤں میں ‘‘۔’’ارے ماں اپنے گھر کے کمروں میں بھی داخل ہونے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے کیا۔‘‘امی شاید اس وقت مذاق کے موڑ میں نہیں تھی اس لیے اُس نے صفیہ کی بات ان سُنی کر دی۔وہ ہادیہ سے مخاطب ہو کر بولی ’’میں نے تمہاری شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر ذمہ دار ماں کی طرح تمہیں ایک ایسے شخص کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تمہیں ہم سے بھی زیادہ پیار اور عزت دے۔کیا تمہاری زندگی میں یا تمہاری نظروں میں کوئی ایسا شخص  ہے جس سے تم اپنی زندگی کا حصہ بنا نا چاہو۔‘‘زندگی میں بہت کم مواقع ایسے ہوتے ہیں جب ہم سے ہماری مرضی پوچھی جاتی ہے۔ورنہ زندگی کئی بار ہم سے بغیرپوچھے بہت کچھ لے لیتی ہے اور ہم خاموشی سے دیکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرپاتے۔امی کی باتیں سن کر ہادیہ پھولے نہ سمائی۔وہ اس قدر خوش ہو گئی کہ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ امی کی بات کا کیا جواب دیا جائے۔اُس کی چہرے سے ایک طرح کی مسرت ظاہر ہورہی تھی ‘جو اس کی ماں کے لیے اس بات کا اشارہ تھا کہ اُس کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ہے جسے وہ دل و جان سے چاہتی ہے ۔امی نے صفیہ سے بھی اس بات کی تصدیق کرنی چاہی اور جب صفیہ نے بھی امی سے ہادیہ کے کسی لڑکے کے ساتھ تعلقات کا ذکر کیا تو وہ مطمئن ہوگئی ۔ہادیہ کی والدہ اور اس کی بہن جب کمرے سے رخصت ہوئے تو ہادیہ نے احمد کو یہ خوش خبری سنانے کے لیے فون ملایا۔احمد نے پہلے ہادیہ سے بے حد اچھے طریقے سے باتیں کیں لیکن جوں ہی ہادیہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اُس نے اپنے اور احمد کے رشتے کا ذکر گھر والوں سے کیا ہے تو وہ ٓآگ بگولہ ہوا۔ ہادیہ کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔وہ چاہتی تھی کہ جس طرح کی مسرت اُسے یہ سب گھر والوں کو بتاتے ہوئی اُسی طرح کی مسرت کی کوشاں وہ احمد سے تھی لیکن انسان کو کیا پتہ کہ کب اس کی لگائی ہوئی اُمیدیں ختم ہو جائیں اور کب اس کے وہ کام بھی بن پائیں جن کے پورے ہونے کی اُمیدیں بھی دم توڑ گئی ہوں۔ایسا ہی کچھ ہادیہ کے ساتھ بھی ہوا ۔۔۔۔صرف چند لمحوں میں اُس کی دُنیا بدل گئیں ۔فون رکھتے ہی ہادیہ نے احمد کے اس رویے پر غور کرنا چاہا لیکن شاید اُس پر خوشی کے جذبات زیاد غالب ہوئے اور اُس نے اس رشتے کے منفی پہلوؤں پر غور نہ کرتے ہوئے مبثت روئے پر زیادہ توجہ دی اور وہ اپنے کا م میں مشغول ہونے لگی۔کہتے ہیں نا جب انسان تنہائی میں ہوتب اُسے سب طرح کے خیالات آتے ہیں کچھ ایسا ہی ہادیہ کے ساتھ ہوا۔وہ پوری رات احمد کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔آخر کیوں اُسے ویسے ہی خوشی محسوس نہ ہوئی جس طرح کی خوشی مجھے ہوئی۔۔۔آخر کیا وجہ ہے۔۔۔۔صبح نیند سے بیدار ہو کر ہادیہ نے نماز ادا کی اور معمول کے مطابق احمد کو فون کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔یہ کیا احمد فون کیوں نہیں اُٹھا ررہا ۔۔۔وہ تو اس سے پہلے ایسا نہ کرتا تھا ۔۔۔آخر کیا ہوسکتا ہے۔۔۔اُس نے احمدکو کئی بار فون ملایا لیکن اُس نے فون نہیں اُٹھایا۔۔۔ہادیہ احمد کے اس عمل سے نہایت فکر مند ہوگئی ۔کام ختم کر کے وہ آج معمول سے ذرا پہلے ہی کالج کے لیے نکل گئی۔آج وہ لائبریری بھی نہیں گئی جو کہ اس کا معمول تھا۔اُس نے ہر ایک سے احمد کا پوچھاکہ کیا وہ کالج آیا ہے؟ جب اُسے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا تو اُس نے بیگ سے فون نکال کر اُس سے فون کرنا چاہا لیکن اتنے میں ہی احمد اس کے روبرو کھڑا ہوگیا ۔ہادیہ نے بغیر وقت گنوائے اُسے فون نہ اُٹھانے کی وجہ دریافت کی ۔’’ارے تم زیادہ ہی سوچتی ہو، وہ میرا فون خراب ہوا ہے اس لیے میں نے فون نہیں اُٹھایا‘‘احمد نے ہادیہ سے یہ سب کہہ کر اپنی جان چُھڑالی۔ہادیہ پر احمد کی اس جھوٹی بات کا کوئی منفی اثر نہ ہوا ۔اُس نے احمد سے امی کی کہی ہوئی بات سُنائی ‘جوں ہی احمد نے شادی کی بات سُنی اس کی ہوایاں اُڑ گئیں۔’’اتنی جلدی تمہیں شادی کا خیال کیسے آیا ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں ابھی اس بندھن میں نہیں بندھنا چاہتا۔۔۔خدارا ابھی اپنے گھر والوں سے میرے بارے میں ذکر نہیں کرنا ۔۔۔۔میں ابھی ذہنی اعتبار سے اس رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں۔۔۔۔‘‘خدا کے لیے مجھے ذلیل و خوار نہ کرنا ۔۔۔۔۔ہادیہ کی حیرت میں احمد کی باتیں سُن کر اور اضافہ ہوگیا ۔۔۔۔اُس نے بغیر کچھ کہے گھر کی راہ لینی چاہی۔۔۔۔شاید الفاظ تب کام آتے ہیں جب کوئی انسان ہماری باتیں سُننے کا  منتظر ہو۔۔۔۔ لیکن جب کسی کو ہم سے کوئی غرض نہ رہے تب کچھ کہنا اور نہ کہناایک جیسا ہوتا ہے۔۔۔۔کالج سے چند قدم  آگے چل کر ہادیہ کا سامنا ایک لڑکی سے ہوا جس نے ہادیہ کو اپنا ایک بیگ دے کر اُسے گاڑی تک لینے کے لیے کہا۔۔۔۔۔ہادیہ جو کہ بے حد شریف النفس تھی اس لیے بغیر کوئی سوال کیے اُس نے بیگ ہاتھ میں لے لیا۔جوں ہی اس لڑکی نے گاڑی کا دروازہ کھولا ہادیہ نے بغیر اندر دیکھے بیگ گاڑی میں رکھ دیا ۔۔وہ جوں ہی واپس جانے لگی اس لڑکی نے ہادیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے شوہر کے روبرو کرانا چاہا۔۔۔۔۔سُنو بہن میں گاڑی میں بیٹھے اپنے شوہر سے تمہیں ملوانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔میں اُسے یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اس لڑکی نے میری مدد کر کے مجھے اپنا گرویدہ بنایا۔۔۔۔۔۔’’ارے بہن نہیں اس کی ضرورت نہیں ‘‘۔۔۔۔کیوں نہیں ہے اس کی ضرورت ۔۔۔۔احمد۔۔۔ احمد گاڑی سے باہر آکر دیکھیں کہ میرے ساتھ کون ہے۔۔۔۔جوں ہی ہادیہ نے یہ نام سُنا اس کے کان کھڑے ہوگئے۔۔۔۔۔یہ ہے میرے شوہر اس لڑکی نے گاڑی سے اُترتے ہوئے نوجوان کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔۔۔۔۔۔جوں ہی ہادیہ نے احمد کی طرف دیکھا اُس کی جیسے دُنیا ہی ختم ہوگئی۔۔۔۔۔۔وہ جسے اب تک معصوم سمجھ رہی تھی اُس نے پوری طرح اس کی زندگی سے کھلواڑ کیا تھا۔۔۔وہ بغیر کچھ کہے وہاں سے دوڑی چلی آئی ۔۔۔۔گھر پہنچ کر ہادیہ صرف یہ سوچ رہی تھی کہ آخر اُس نے میری زندگی سے اس طرح کا کھلواڑ کیوں کیا۔۔۔۔۔۔شاید جب ہم کسی پر اندھا وشواس کرتے ہیں تب ہمارے لیے اس طرح کا دھچکا ضروری ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔تاکہ ہماری آنکھیں جو کسی کے دھوکے سے بند ہوتی ہیں ۔۔۔۔اچانک سے کھل جائیں۔۔۔۔احمد کی بے وفائی سے زیادہ اُسے اس بات کا دکھ ہو رہا تھا کہ وہ گھر والوں کو کیا جواب دے ۔۔۔کیسے اُن سے کہہ دے کہ احمد کے لیے میرا  پیار صرف ایک مذاق تھا۔۔۔۔۔اندر داخل ہوکر اُس کے چہرے کی طرف  دیکھ کر صفیہ نے پوچھا ’’دیدی کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے نا ،کیا کوئی پریشانی ہے کیا ‘‘ ۔نہ نہ سب اچھا ہے ۔۔۔۔ہادیہ نے گھر والوں کو جھوٹ کہہ کر اپنے کمرے کی راہ لی۔وہ صرف اور صرف یہی بات سوچنے لگی کہ آخر احمد نے اُس کی زندگی سے اس طرح کا کھلواڑ کیوں کیا ؟ کیا مرد ایک وفادار عورت کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا ؟کیا ضروری ہے کہ کسی شریف انسان کو بے وقوف بنایا جائے۔۔۔ہادیہ کی والدہ جب ہادیہ کے کمرے میں داخل ہوگئی تو اُ سے جیسے ہر ایک چیز اپنی جگہ سے بکھری ہوئی محسوس ہوئی۔کیا بات ہے بیٹی سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔جی ماں میں آپ ہی کے پاس آنے والی تھی آپ اپنی پسند کا کوئی بھی لڑکا ڈھونڈ کر میری شادی کرا سکتی ہیں۔۔۔۔اس سے پہلے امی کچھ پوچھ لیتی ہادیہ نے اپنے وجود کو جیسے رضائی میں ہی چُھپا لیا ہو۔۔۔۔۔شاید جب انسان اپنے آپ سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسی ہی بے جان چیزوں کا سہارا لے کر اپنے آپ کو ڈھانپ لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اُسے کسی بھی بات یا کسی بھی مسئلے سے کوئی بھی پریشانی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔
 
���
ریسیرچ اسکالر شعئبہ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر
ای میل:۔Shaheenayusuf44@gmail.com