تازہ ترین

برف باری کی پیش گوئی | پیشگی اقدامات ناگزیر،کسان بھی جلدی کریں

تاریخ    11 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
محکمہ موسمیات نے 13نومبر کی شام سے 15نومبر کی شام تک جموں اور لداخ کے مرکزی زیر انتظام علاقوں میں درمیانہ سے لیکر بھاری برف باری کی پیشگوئی کرتے ہوئے دونوں یونین ٹریٹریوں کی انتظامیہ کے نام ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ اس برف باری سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کریں۔محکمہ موسمیات کے مطابق 13نومبر کی شام کو مغربی ہوائیں جموںوکشمیر میں داخل ہونگیں جس کے نتیجہ میں موسمی صورتحال تبدیل ہوجائے گی اور 13نومبر کی رات سے ہی برف باری شروع ہوگی جس میں14اور15نومبر میں شدت آئے گی اور 15نومبر کی رات ہوتے ہوتے برف باری کا سلسلہ تھم جائے گا۔
گوکہ جموں منتقلی سے قبل لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے موسم سرما کے حوالے سے کئے گئے انتظامات کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا جس میں متعلقہ محکموںکے علاوہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے لوگ بھی شامل تھے ۔اس اجلاس میں لیفٹنٹ گورنر کو بتایا گیا کہ حکومت کسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور برف باری کے نتیجہ میں عوامی خدمات میں کم سے کم خلل کو یقینی بنایا جائے گا۔اس جائزہ اجلاس سے یہی لگا کہ لیفٹنٹ گورنر برف باری سے عوامی مسائل میں اضافہ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ عوامی خدمات میں خلل پیدا نہ ہوتاہم ماضی کا تجربہ اس حوالے سے انتہائی تلخ ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں سرما کی آمد سے قبل جائزہ اجلاس نہیں ہوتے تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر سرما سے قبل پے درپے کئی جائزہ اجلاس ہوتے رہے ہیں، جن میں تیاریوں کو حتمی شکل دی جاتی تھی لیکن جب برف  باری ہوتی تھی تو انتظامیہ ڈیڑھ انچ برف تلے دب کر رہ جاتی تھی اور زمینی سطح پر انتظامیہ کا کہیں نام ونشان تک نہیں ملتا تھا۔گزشتہ برس بھی نومبر میں ہی بے وقت برف باری ہوئی جس کی وجہ سے وسطی ،شمالی اور جنوبی کشمیر کے علاوہ جموں کے چناب و پیر پنچال خطوں میں تباہی مچ گئی ۔نہ صر ف عوامی املاک کو نقصان پہنچا بلکہ ثمر بار درخت دو پھاڑ ہوگئے اور میوہ باغات میں ادہم مچ گئی جبکہ بجلی بھی کئی روز گل رہی اور رابطہ سڑکیں بھی ایک ہفتہ بعد مشکل سے بحال ہوئیں۔پھر متاثرین کو معائوضہ دینے کی غرض سے اُس برف باری کو آفت قرار دیاگیا لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ کسی کو کچھ نہ ملا اور اُس برف باری کے متاثرین آج بھی سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔
آج بھی اسی طرح کی برف باری کی پیش گوئی کی جارہی ہے توانتظامیہ سے کچھ زیادہ امید کی جارہی ہے کیونکہ عملی طور ہماری سرکاری مشینری اب عوام کے سامنے ایکسپوژ ہوچکی ہے اور لوگ جانتے ہیںکہ یہ صرف کاغذی گھوڑ ے دوڑاتے ہیں جبکہ عملی طور کچھ نہیں کرتے تاہم اچھی بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کے علاوہ میوہ اگانے والے کسانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ان دو تین روز میں نہ صرف باغات سے سارا میوہ اتارلیں اور اُ س میوہ کو محفوظ جگہوں پر ذخیرہ کریں بلکہ شاخ تراشی کا بھی مشورہ دیا گیا ہے تاکہ ثمر بار درختوں پر شاخوں کا وزن کم ہوجائے اور جب برف باری ہو تو بھاری وزن کی وجہ سے شاخیں دو پھاڑ ہوکر تنوں کو بھی دوپھاڑ نہ کریں۔یہ انتہائی اہم مشورہ ہے اور کسانوں کو فوری طور اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف اپنے میوہ کو محفوظ جگہ منتقل کرنا چاہئے بلکہ میوہ درختو ں کی شاخ تراشی بھی عمل میں لانی چاہئے تاکہ امکانی برف باری میں نقصانات کو کم سے کم کیاجاسکے ۔
جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے تو ان سے بس یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ برف باری کی وجہ سے عوامی خدمات میں کم سے کم خلل کو یقینی بنائیں۔اگر انتظامیہ برف باری کے دوران بجلی اور پانی کی سپلائی برقرار رکھ پاتی ہے توہمارے ورک کلچر کو دیکھتے ہوئے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔اس کے علاوہ رابطہ سڑکوں سے فوری طور برف ہٹانے کا ٹھوس انتظام پیشگی کیاجانا چاہئے اور آج بھی روٹ پلان بنا کر عملہ اور مشینری کو تیار بہ تیار رکھنا چاہئے تاکہ جب برف باری ہو تو اُس وقت آگ لگنے کے وقت کنواں کھودنے کے مصداق سرکاری کو عملہ اور مشینری کو تلاش نہ کرنا پڑے جس سے پھر بحالی کا عمل بھی تعطل کاشکار ہوجاتا ہے ۔اگر عبور و مرور فوری بحال ہوجائے تو بہت سار ے مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے کیونکہ نقل و حمل کے ذرائع بحال ہونے سے بجلی اور پانی کا نظام بھی فوری بحال کرنے میںمدد مل سکتی ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ اب کی دفعہ چونکہ جموںوکشمیر کا سارا نظام ہی بدل چکا ہے تو انتظامی بندو بست کا یہ نظام بھی بدلا ہوگااور حقیقی معنوں میں اس ممکنہ برف باری سے نمٹنے کا پیشگی بندوبست تیار ہوگاتاکہ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہ رہنا پڑے۔