تازہ ترین

بجلی کٹوتی کا نیا شیڈول … اندھیرا قائم رہے !

تاریخ    10 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔سیول سیکریٹریٹ کی جموں منتقلی کیا ہوئی ،وادی میں عملی طور اندھیرے کا راج قائم ہوگیاہے۔دربار مو دفاتر سرینگر میں بند ہونے کے ایک روز بعد محکمہ بجلی نے نیا کٹوتی شیڈول مشتہر کیا جس میں اعلانیہ طور کہاگیا کہ میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میں21گھنٹے بجلی نہیں رہے گی جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں یہ دورانیہ28گھنٹوں پر مشتمل ہوگا۔یوں نئے شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں اعلانیہ روزانہ 3گھنٹوں جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوںمیں روزانہ4 گھنٹوں کی کٹوتی ہوناتھی تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ جہاں میٹر والے علاقوں میں ان تین گھنٹوں کے علاوہ غیر اعلانیہ طور کم ازکم مزید 5سے 8گھنٹوںکی کٹوتی ہورہی ہے وہیں بغیر میٹر والے علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال یہ ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ یہ کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے اور یوں عملی طور ان علاقوں میں15سے لیکر20گھنٹوں تک بجلی کٹوتی ہورہی ہے ۔بجلی کٹوتی کے اس شیڈول پر7نومبر سے23نومبر تک عمل ہوگا جس کا مطلب  یہی ہے کہ اگر بجلی کی طلب میں کوئی بہتری نہیں آئی توکشمیرپاورڈیولپمنٹ کارپوریشن کو مزید کٹوتی کرنا ہوگی۔
نئے کٹوتی شیڈول کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ خصوصی طور صبح اور شام کے اوقات کو نشانہ بنایا جارہاہے اور نئے شیڈول کے مطابق دو نوں زمروں میں صبح ایک سے دو گھنٹے بجلی گل رہے گی ۔جہاں تک عقل و فہم کا تقاضا ہے تو یہ ایسے اوقات ہیں جب صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔شام کے وقت بجلی کا استعمال تو ویسے بھی عام ہے لیکن جب سردی کا موسم ہو تو صبح اور شام کے اوقات پر بجلی کی ضرورت اور زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔اب اگر اس شیڈول پر بھی عملدرآمد ہوتا تو بجلی کبھی کبھار درشن دیتی لیکن اس کے برعکس غیر اعلانیہ طور اس سے دوگنی کٹوتی کی جاتی ہے اور یوں عملی طور لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیاگیا ہے ۔
محکمہ بجلی نے حسب روایت اس بے تحاشا کٹوتی کیلئے وہی عذر پیش کیا ،جو وہ ہرسال پیش کرتے آرہے ہیں ،یعنی طلب اور سپلائی میں وسیع خلیج ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے ۔ چیف انجینئرکشمیرپاورڈیولپمنٹ کارپوریشن کہتے ہیں کہ سرما کے مہینوں کے دوران بجلی کی طلب2100میگاواٹ سے 2200 میگاواٹ ہوتی ہے جبکہ گرڈ صلاحیت صرف1500میگاواٹ کی ہے اور یوں کٹوتی ناگزیر بن جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ نے اپنے گرڈ اسٹیشنوں کی صلاحیت کو1500میگاواٹ تک بڑھایا ہے جوپہلے صرف1250میگاواٹ تھی،اس سے سرما میں بجلی کی کٹوتی میں کمی توہوگی لیکن کٹوتی ختم نہیںہوسکتی۔ اُن کا کہنا ہے کہ کشمیرپاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے550ٹرانسفارمروں کااضافی اسٹاک مہیا رکھا ہے اور800ٹرانسفارمروں کی مرمت کی گئی ہے جبکہ سرما میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے4000بجلی کے کھمبے تیاررکھے گئے ہیں۔
 غور طلب ہے کہ طلب اور سپلائی میں موجود اس خلیج کوپاٹنے کیلئے کٹوتی شیڈول میں غیر میٹر یافتہ صارفین کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں پہلے سے ہی کٹوتی شیڈول پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔7لاکھ سے زائد بجلی صارفین میں سے 80فیصد کے قریب صارفین ایسے ہیں جو میٹریافتہ زمرے میں نہیں آرہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے کیلئے انہی80 فیصد صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ صارفین ،جو میٹر یا ایگریمنٹ کے تحت باضابطہ فیس اداکررہے ہیں ،ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بوقت ضرورت وافر مقدار میں بجلی فراہم کی جائے اور سرما سے زیادہ صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت کب پڑ سکتی ہے۔
مانا کہ بجلی کی چوری بھی ہوتی ہے تاہم وہ بجلی کہاں سے آتی ہے جو خاص الخاص افراد کیلئے افراد کیلئے چوبیسوں گھنٹے چالو رہتی ہے ۔کٹوتی شیڈول تو صرف عام لوگوں کیلئے ہے جبکہ وی آئی پی لائنیں ہمہ وقت چالو رہتی ہیںاور یوں کٹوتی شیڈول کا شکار صرف عام صارفین ہی بن جاتے ہیں جنہیں ارباب اختیار جموں روانہ ہوتے ہی سرما کے کٹھن موسم میں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔
 بجلی بحران کیلئے خود محکمہ بجلی بھی کم ذمہ دار نہیںہے۔جہاں تک بجلی کے ترسیلی نظام کا تعلق ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ جموںوکشمیر کو صرف ناقص ترسیلی شعبہ کی وجہ سے سالانہ کروڑ وںروپے کے خسارے سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔سروے کے مطابق بجلی کی ترسیل کے دوران بوسیدہ اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے اس وقت بھی55فیصد سے زائد بجلی ضائع ہورہی ہے۔ایسے میں بجلی خسارے اور بجلی بحران کیلئے اکیلے صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ صارفین پر الزام لگانے کی بجائے محکمہ بجلی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کامکمل پوسٹ مارٹم کریں۔اس ضمن میں جہاں محکمہ میں موجود افرادی قوت کو جوابدہ بنانا ناگزیر بن چکا ہے وہیں محکمہ کی مشینری اور ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔جب بجلی شعبہ کی زبوں حالی کیلئے خود محکمہ ذمہ دار ہے تو محض بجلی چوری کا بہانہ بنا کر صارفین کو بجلی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ محکمہ بجلی کے حکام کو اپنے گریبان میں جھانک کر پہلے اپنی خامیوں کو سدھارنا چاہئے،اس کے بعد ہی صارفین کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔