تازہ ترین

گوشت کی نئی قیمتوں پر عمل نہ ہوسکا | عوام چکی کے دو پاٹوں میں پِس رہے ہیں

تاریخ    9 نومبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
ایسا لگ رہا ہے کہ ارباب اختیار اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اعتدال میں رکھنے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں۔سبزیوں سے لیکر نان خشک اور مرغ سے لیکر گوشت تک سبھی اشیاء کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔نرخ ناموںکو بالائے طارق رکھ کر ہر کوئی اپنی مرضی کے نرخ مقرر کررہاہے اور من مانیوں کا یہ سلسلہ لکھن پور سے شروع ہوکر اوڑی تک برابر جاری ہے ۔کہیں کوئی سنوائی نہیں ہے اور عملی طور ایسا لگ رہا ہے کہ انتظامی مشینری کہیں موجود ہی نہیں ہے ۔جموں صوبہ کے بیشتر اضلاع سے آئے روز مہنگائی اور کالابازاری کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔چناب سے لیکر پیر پنچال اور جموں کے میدانی علاقوں میں عام شکایت یہ ہے کہ محکمہ ناپ توپ سے لیکر امور صارفین محکمہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک سب جیسے سوئے ہوئے ہیں اور بازاروں میں مہنگائی عروج پر ہے ۔نان خشک کی قیمتیں بلا شبہ بڑھ نہیںرہی ہیں بلکہ اُنکا وزن گھٹتا ہی چلا جارہا ہے ۔مرغ کی قیمتیں کبھی اعتدال میں نہیں رہتی ہیں ۔ایک دن کلو سو روپے میں بکتا ہے تو دوسرے ہی دن یہی کلو 180روپے میںبھی فروخت ہوتا ہے ۔گوشت کی قیمتیں تو مسلسل بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔آج کل گوشت 550سے600روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے اور کسی کے کان پر جو تک نہیں رینگتی ہے ۔یہی حال سبزیوںکا ہے ۔کڑم ،ساگ سے لیکر ٹماٹر، آلو اور پیاز سے لیکر بھنڈی تک سبزیوںکے بھائو تائو کھا گئے ہیں اور لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں لیکن حکام ہیں کہ بہرے بنے بیٹھے ہیں اور اُنہیں لوگوںکی صدائیں سنائی نہیں دے رہی ہیں۔
کیا عجیب مذاق ہے کہ صوبائی انتظامیہ پانچ سال بعد گوشت کی قیمتیں سرنو مقرر کرنے کیلئے ریٹ فکزیشن کمیٹی کی میٹنگ طلب کرتی ہے جس میں متعلقہ حکام کے علاوہ کوٹھدار بھی شامل ہوتے ہیں اور اس میٹنگ میں گوشت کے نئے نرخ 480روپے فی کلو مقرر کئے جاتے ہیں جس پر کوٹھدار اور قصاب موقعہ پر ہی اعتراض ظاہر کرتے ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب انتظامیہ  480فی کلو ریٹ مقرر کررہی ہے۔ گوشت مارکیٹ میں پہلے ہی 550سے600روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے اور لوگوں کو مجبوراً خریدنا بھی پڑرہا ہے ۔بھلے ہی صوبائی انتظامیہ یہ کہے کہ کہ اب ہر سال گوشت کے نرخوںپر نظر ثانی ہوگی لیکن فی الحال اُنہیں کون بتا ئے کہ جو ریٹ مقررکی گئی ہے، بازار میں پہلے سے اس سے 120روپے فی کلو زیادہ فروخت ہورہا ہے اور نئے نرخ مقرر کرنے کے ایک ہفتہ بعد بھی گوشت 600روپے فی کلو کے حساب سے ہی فروخت ہورہا ہے۔ 
انتظامی بے حسی کی انتہا دیکھیں کہ گزشتہ چند ایک برس کے دوران قصابوں کے خلاف پوری وادی میں صرف 43کیس درج کئے گئے ہیں اور چند لاکھ کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے جبکہ قصابوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور سرکاری نرخناموں کو بالائے طاق رکھنے کے سب مرتکب ہوچکے ہیں ۔یہاں چونکہ الٹی گنگا بہتی ہے اور سینہ زور ی کا چلن عام ہے تو یہ قصاب اور کوٹھدار حضرات اپنے آپ کو ماورائے قانون سمجھنے لگے ہیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو محض چالیس کیس نہ ہوتے۔ صوبائی انتظامیہ کہتی ہے کہ نئے نرخوںکی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی تو اُن سے کون کہے کہ خلاف ورزی تو مسلسل جاری ہے۔ آج بھی گوشت فی کلو480روپے میں نہیں بلکہ 600روپے میں بکتا ہے۔ اس کی گواہی انتظامیہ کے دفاتر میں کام کرنے والے کلرک سے لیکر چپراسی تک سبھی دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ گھاس پھوس کھانے والے نہیںبلکہ گوشت کھانے والے ہی ہیں۔
قصاب اور کوٹھدار نئے نرخ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔وہ تو کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ نئے نرخ بلا جواز ہیں اور نرخ مقرر کرتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیاگیاتھا۔کوٹھدار وں کاماننا ہے کہ اُنہیں میٹنگ میں بلایا گیا ،اُن سے حساب کتاب لیاگیالیکن جب نرخ مقرر کرنے کی بات آئی تو انہیں کمرے سے باہر نکالاگیا اور جب واپس اندر بلایا گیاتو ریٹ مقرر کئے جاچکے ہیں اور اُنہیں صرف مطلع کیاگیا کہ نئی ریٹ480روپے فی کلو ہوگی ۔اُن کا ماننا ہے کہ 480میں تو دہلی اور راجستھان کے ہول سیلروں سے بھی مال نہیں ملتا ہے تو وہ کشمیر پہنچا کر اسے کیسے اتنے کم دام میں بیچ سکتے ہیں۔کلا ملا کر وہ 600روپے فی کلو کے ساتھ ہی چلنا چاہتے ہیں کیونکہ اپنی پریس کانفرنس میں انہوںنے کہا کہ جب لوگوں کو گزشتہ چھ ماہ سے6سو روپے فی کلو فروخت کرنے میں اعتراض نہیں تھا تو حکومت کو کیاپڑی کہ انہوں نے 480روپے فی کلو کردیا۔
بہر حال کوٹھدار ،قصاب اورانتظامیہ کچھ بھی کہے ،یہاں عوامی حلقوں میں یہ سوچ تقویت پاچکی ہے کہ نرخ مقرر کرنے کی یہ میٹنگیں اصل میںپہلے سے نافذ غیر سرکاری و غیر قانونی نرخوں کو جائز کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں اور ان کے ذریعے من مانیوں کو جواز فراہم کیاجاتا ہے اوریوں عوامی مفادات کو مٹھی بھر لوگوں کی خاطر قربان کیاجارہا ہے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ انتظامی مشینری ذرا متحرک ہوجائے اور اس مافیا کے چنگل میں بری طرح سے پھنسے عوام کی راحت رسانی کے سامان پیدا کرے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!۔