تازہ ترین

کھنڈر

کہانی

تاریخ    8 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
موسم ابر آلود تھا ہلکی سی بوندا باندی بھی ہو رہی تھی ۔ڈاکٹر عدنان اپنے کلنک میں بیٹھا کافی خوش نظر آرہا تھا کیوں کہ آج مریضوں کی اچھی تعداد آنے کی وجہ سے اس کی اچھی خاصی کمائی ہوئی تھی ۔شام کے دھند لکے چھانے کے بعد وہ اپنا کلنک بند کرکے 
’’ آداب ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب ‘‘۔
دفعتاً اس کی سماعتوں سے آواز ٹکرائی ،اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک بوڑھا شخص،جس کے سر اور داڑھی کے بال اُلجھے ہوئے تھے ،پھٹے پرانے لباس میں ملبوس اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
’’ با با ۔۔۔۔۔۔ کہیے کیا با ت ہے ؟‘‘
اس نے انتہائی نرم لہجے میں پوچھا ۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی سخت بیمار ہے ،آپ مہر بانی کرکے چل کر اُ سے دیکھ لیجئے ‘‘۔
اس کی بات سن کر ڈاکٹر اس کے حلیے کا جائیزہ لینے لگا تو وہ مسکین سی صورت بنا گویا ہوا ۔
’’ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔۔ میں آپ کی پوری فیس ادا کروں گا‘‘ ۔
’’آپ کا گھر کہاں ہے ؟‘‘
ڈاکٹر نے پوچھا ۔
’’پاس ہی ہے ڈاکٹر صاحب ،اس بستی کے پیچھے‘‘ ۔
اس نے بستی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔کچھ لمحے سوچنے کے بعد ڈاکٹر نے اپنے معاون کو آواز دی اور وہ دونوں اس کے ساتھ روانہ ہوئے اورقریب آدھے گھنٹے کا سفر طئے کرکے اس کے گھر پہنچ گئے ۔یہ ایک ویران سی جگہ تھی، جہاں گھروں کے نام پر مٹی کے ٹوٹے پھوٹے ڈھوکے تھے اور ایسا ہی ایک ڈھوکا اس کا بھی تھا ۔بہر حال ڈاکٹر نے اس بات میں زیادہ دلچسپی نہ لیتے ہوئے مریضہ کا معائینہ کرنا شروع کردیا ۔وہ ایک بیس بائیس سال کی دوشیزہ تھی جو سخت بخار میں مبتلا تھی ۔اچھی طرح سے معائینہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں دیتے ہوئے اسے کہہ دیا ۔
’’آپ یہ دوئیاں اس کو کھلاتے رہنا ،یہ ایک دو دن میں بالکل ٹھیک ہوجائے گی‘‘ ۔
’’مجھے نہیں لگتا ہے ڈاکٹر صاحب ‘‘۔
اس نے نا امیدی کے انداز میں کہتے ہوئے جیب سے کچھ نوٹ نکال کر ڈاکٹر کو تھما دئے ۔ڈاکٹر نے حساب کرکے دیکھا تو رقم کچھ زیادہ تھی تو اس نے ایک نوٹ اسے واپس کرنا چاھا ۔
’’رکھئے ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ کو بارش میں بھیگنا پڑا‘‘ ۔
ڈاکٹر نے فاضل رقم اس کو واپس کرنا چاہی لیکن وہ بالکل نہیں مانا ۔بہر حال ڈاکٹر اور اس کا معاون دیر گئے وہاں سے واپس نکلے ۔جانے سے پہلے ڈاکٹر نے ان ٹوٹے پھوٹے مکانوں پر ایک بھر پور نظر دوڑائی تو اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی ۔
’’ کتنے غریب لوگ ہیں بے چارے ،دنیا کی آسائیشوں سے بے خبر اور لوگوں نے اس بستی کے بارے میں کیسے بے پر کی افواہیں پھیلائی ہیں‘‘ ۔
ڈاکٹر اس کھنڈر نما بستی کے بارے میں سوچتے ہوئے گھر کی طرف چلا ۔یہ جنگ سے سخت متاثر ایک شہر تھا اور ڈاکٹر عدنان نے کچھ مہینے پہلے ہی اس شہر میں ایک کلنک کھولاتھا تاکہ جنگ زدہ علاقوں کے لوگوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ کچھ روز گار کا بھی انتظام ہو جائے ۔کھنڈر والی جگہ ،جہاں وہ مریض کو دیکھنے گیا تھا، کے بارے میں مشہور تھا کہ دوران جنگ اس بستی پر ہوائی بمباری کے دوران درجنوں لوگ، جن میں بزرگ ،معصوم بچے اور خواتین شامل تھیں،ہلاک ہو گئے تھے اور رہائیشی مکانات تہس نہس ہوگئے تھے ۔اس جگہ کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہاں بد روحیں دن رات گھومتی رہتی ہیں اور لوگ وہاں جانے سے کتراتے تھے ،لیکن ڈاکٹر کو ان باتوں پر ذرا بھی یقین نہیں تھا اور وہ اس کو لوگوں کا وہم سمجھتا تھا۔۔۔۔۔ سوچتے سوچتے ڈاکٹر اپنی رہائیش گاہ پر پہنچ گیا ۔وہ کافی تھکا ہوا تھا اور اس نے کپڑے بدلے اور صوفے پر دراز ہو کر سستانے لگا ۔کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اس نے آج دن کی کمائی گننے کا ارادہ کرلیا اور جیب سے سارے نوٹ نکالے لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کھنڈر والے با با نے جو روپے دئے تھے وہ غائیب تھے اس نے اپنی ساری جیبوں کو ٹٹولا لیکن کچھ نہیں ملا ۔۔۔۔۔۔
’’شاید کہیں گر گئے ہوں‘‘ ۔
وہ خود سے بڑ بڑایا ،رقم کھونے پر اسے زیادہ افسوس بھی نہیں ہوا کیوں کہ اس کی اچھی خاصی کمائی ہو رہی تھی۔اس کے بعد وہ دوائی والے بکسے کو چک کرنے لگا لیکن یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ اس نے جو ادویات با با کو بیمار کے لئے دیں تھیں وہ بھی بکسے میں ہی موجود تھیں ۔
  ’’شاید میں نے ہی جلد بازی میں یہ دوائیاں واپس بکسے میں رکھ دی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اب اس بیمار لڑکی کا کیا ہوگا ،اسے تو شدید بخار ہے ۔
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے سوچتے ہوئے اس کے دل میں کانٹے سے چھبنے لگے اور وہ کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا تاکہ واپس جا کر اس کو دوائیاں دے آئے لیکن ،باہر گھپ اندھیرا تھا اور زوروں کی بارش ہو رہی تھی جب کہ اس کا معاون بھی اپنے گھر جا چکا تھا اس لئے وہ باہر جانے کی ہمت نہیں جٹا پایا اور کچھ دیر بے چینی کے عالم میں رہنے کے بعد یہ سوچ کر کھڑکی بند کرکے بیٹھ گیا کہ با با کل صبح آکر ادویات لے لیگا۔لیکن با با صبح نہیں آیا ، کام میں اُلجھے رہنے کے باعث ڈاکٹر بھی اس واقعہ پر زیادہ دھیان نہیں دے سکا اور بات آئی گئی ۔قریب دس دن بعد ڈاکٹر شام کو کلنک بند کرکے جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ با با اچانک وارد ہو کر رونی سی صور ت بنا کر ڈاکٹر کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
’’کیا حال ہے با با ۔۔۔۔۔۔ آپ کی بیٹی ٹھیک ہو گئی ؟‘‘
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ وہ بے چاری کبھی ٹھیک نہیں ہونگی اور میرا بیٹا بھی سخت بیمار ہے ۔آپ چل کر اسے دیکھ لیجئے ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’با با ۔۔۔۔۔۔ آپ روز دیر سے ہی آتے ہو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے چلئے ،میں آپ کی پوری فیس دونگا‘‘ ۔
وہ ہاتھ جوڑ کر ڈاکٹر کے سامنے گڑ گڑایاجس دوران اس کی پژ مردہ آنکھوں میں درد کا بیکراںسمندر سا ابھر آیا۔ 
’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ ۔
ڈاکٹر جانے کے لئے تیار ہو گیا کیوں کہ ایک تو اس کے پیشے کا تقاضا تھا اور اچھی فیس ملنے کی بھی امید تھی۔ڈاکٹر نے اپنے معاون کو آواز دی جس نے دوائیوں کا بکسا اٹھایا اور وہ دونوں با با کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل نکلے ۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ اس کھنڈر والی بستی میں بد روحیں گھومتی رہتی ہیں اور وہاں بہت خطرہ ہے‘‘ ۔
راستے میں چلتے ہوئے معاون نے رازداری کے انداز میں ڈاکٹر سے کہا ۔
’’سنا تو میں نے بھی ہے ،لیکن پڑھے لکھے ہو کر بھی تم ان کہی سنی بے بنیاد باتوں پر یقین کرتے ہو ۔۔۔۔۔ میں یہ سب نہیں مانتا ہوں‘‘ ۔
ڈاکٹر نے جو اباً کہا اور اسی دوران وہ با با کے ٹوٹے پھوٹے مٹی کے مکان تک پہنچ گئے ۔جب وہ اندر گئے تو کسی عورت کے سسک سسک کر رونے کی آوازیں آرہیں تھیں اور چارپائی پر کوئی لیٹا ہوا تھا جس کے سر تا پا چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔
’’ریشما کی اماں ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آگئے ہیں ،ذرا ادھر تو آئو‘‘ ۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔ خدا کے لئے میرے جوان بیٹے کو بچائو ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
چند لمحوں بعد ہی میلے کچیلے بوسیدہ لباس میں ملبوس ایک عمر رسیدہ خاتون،جس کی آنکھیں خوف سے لرزی ہوئیں تھیں، کمرے میں داخل ہو کر روتے ہوئے لجاجت سے ہاتھ باندھ کر ڈاکٹر سے منتیں کرنے لگی۔
’’ اماں جی ۔۔۔۔۔۔ آپ فکر نہ کریں ،سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘ ۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا ،کیسے ۔۔۔ ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔‘‘۔
ڈاکٹر نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا تو وہ زور زور سے ہنسنے لگی ۔
’’ ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ آپ اس کا برا نہیں ماننا۔ صدمے کی وجہ سے یہ پاگل ہو گئی ہے‘‘ ۔
با با نے ڈاکٹر سے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گویا ہوا ۔
’’  بابا ۔۔۔۔۔۔ سنا ہے کہ جنگ کے دوران یہاں بہت تباہی ہوئی ہے ۔
’’ ہاں ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔۔ یہی بات تو میں آپ کو بتانے والا تھا ۔صرف تباہی نہیں ہوئی اس بھیانک جنگ میں یہاں کچھ بھی نہیں بچا ۔ یہ جو چارپائی پر میرا بیٹا لیٹا ہے نا ،اس کے دو معصوم بچے پڑوس کے بچوں کے ساتھ باہر کھیل رہے تھے کہ فضا میں اچانک کچھ جہاز نمودار ہوئے اور بستی پر بم گرائے اور باہر کھیل رہے سارے بچوں کو ہلاک کر دیا ۔ہم نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر اندر چارپائی پر رکھ دیا ،دوسرے لوگوں نے بھی اپنے بچوں کی لاشوں کو اٹھایا ۔معصوم بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر میری گھر والی پاگل ہو گئی اور بہو کا رو رو کر بڑا حال ہو گیا نیز سخت بخار میں مبتلا ہو گئی بستی کے لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ بچوں کی تدفین کل کریں گے، لیکن اسی رات فضا میں پھر سے جہازوں کا شور سنائی دیا جنہوں نے بستی پر بے تحاشا بم برسائے۔بمباری اتنی شدید تھی کہ یہاں کوئی زندہ نہیں بچ نہیں سکا ،بچوں کے بعد ہم سب کو بھی مار ڈالا گیا ‘‘۔
’’اچھا با با ۔۔۔۔۔۔ پہلے بیمار کو دیکھتے ہیں‘‘ ۔
’’با با کی جذ باتی پر اسرار باتیں سن کر ڈاکٹر خوف وہراس میں مبتلا ہو گیا اور یہاں سے جلدی جانے کے لئے سوچنے لگا‘‘ ۔
با با نے مُنہ سے کچھ نہیں کہا بلکہ ہاتھ کے اشارے سے چارپائی پر لیٹے بیمار کی طرف دکھایا۔
ڈاکٹر نے اس کے مُنہ سے چادر ہٹائی تو یہ دیکھ کر اس کے عقل کے طوطے اڑ گئے کہ اس کا آدھا سر ہی غائب تھا اور سینے پر ایک بہت بڑا سراخ تھا ۔
ڈاکٹر نے اس کی نبض دیکھی تو وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔
’’با با ۔۔۔۔۔۔ یہ تو مر چکا ہے‘‘ ۔
’’مر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہا ۔۔۔ہا۔۔۔۔ ہا ۔۔۔۔۔’’۔
با با کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
’’با با ۔۔۔۔۔۔ یہ مر چکا ہے اور آپ اس طرح ہنس رہے ہو ‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔۔۔ ورنہ یہاں زندہ ہی کون ہے ،یہاں سب مر چکے ہیں ،میں بھی مر چکا ہوں ۔امن اور ترقی کے نام پر ان پتھر دل درندوں نے یہاں سب کو مار ڈالا ہے ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔۔‘‘۔
با با کا ایک زور دار طنز سے بھرا قہقہ فضا میں گونجا جس کے ساتھ ہی ایک بجلی سی چمکی اور چارپائی، اس پر پڑی زخموں سے چھلنی لاش کے ساتھ ساتھ ایک دم سب غائب ہوگیا اور ڈاکٹر اور اس کا معاون، جن پر خوف دہیبت کی تھر تھری اور کپکپی چھا گئی، بد حواسی کے عالم میں مٹھیاں بند کرکے وہاں سے بھاگنے لگے ۔  
 
٭٭٭
اجس بانڈی پورہ193502 کشمیر
ای میل؛ tariqs709@gmail.com  
موبائل نمبر؛9906526432