تازہ ترین

لہو مٹا دے گا فاصلے

کہانی

تاریخ    8 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


پرویز مانوس
سکندر خان اسپتال کے کوریڈور میں بے چینی کے عالم میں ادُھر سے اُدھر اور اِدھر سے ادُھر ٹہل رہا تھا ،اُس کے گھر کے تمام افراد ایک طرف لگے ہوئے بینچوں پر بیٹھ کر بارگاہِ خُدا وندی میں دُعا گو تھے ۔ اوپریشن تھیٹر کے دروازے کی پیشانی پر لگی ہوئی.سرخ  بتی بدستور جل رہی تھی، جس سے ظاہر تھا کہ عالیہ کا اوپریشن جاری ہے۔ سکندر خان کے چہرے پر غم اور فکر کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ذہن پر چھائی ہوئی اس تشویش کو وہ سگریٹ کے لمبے کش لگا کر دُھویں میں اُڑانے کی کوشش کر رہا تھا اور اُس کی بیوی ذکیہ کی آنکھوں سے چھم چھم آنسوں برس رہے تھے۔ایک جانب وہ عالیہ کی ضد کو رو رہی تھی تو دوسری طرف اپنے شوہر کی انّا اور تکبر کو ،وہ بیچاری خواہ مخواہ چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی تھی ،عالیہ کے دو چھوٹے بھائی ہارون اور قارون بھی دیدی دیدی پُکار کر رو رہے تھے ۔اب تو سکندر خان پچھتا رہا تھا لیکن عبث ،اب تو وقت ہاتھ سے نکل چُکا تھا ۔۔۔،،
سکندر خان اپنے گاؤں کا سب سے امیر ترین شخص تھا ۔شہر میں ایک بہت بڑا شاپنگ مال،اینٹوں کا ایک بٹھہ اورڈیڑھ سو کنال زمین کا مالک ۔ پانچ کنال زمین پر جدید قسم کا شاندار بنگلہ تھا جس کے چرچے دُور دُور تک تھے۔اُس کا اُٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے سیاستدانوں کے ساتھ تھا ۔کوئی بھی بڑا افسر یا وزیر اس گاؤں کے دورے پر آتا تو طعام کا بندوبست اُسی کے گھر میں ہی ہوتا ۔اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت ا نتقامی بھی ہے۔ کسی کے ساتھ تلخ کلامی ہو جائے تو اُسے مقدمات میں ایسے اُلجھا دیتا کہ وہ سڑک پر آجاتا ،اسی لئے لوگ اُس سے اُلجھنے سے ڈرتے تھے ۔۔۔،،اس گاؤں میں کافی سارے طبقے رہائش پزیر تھے جیسے جولاہے، کمہار، نانبائی، قصاب اور بھنگی۔ اس کے علاوہ ایک محلہ بڑھئوں کا بھی تھا۔ اُسی خاندان میں کریم بھی تھا، جو اپنے کام میں کافی ماہر مانا جاتا تھا اور سارے اُسے اُستاد کریم کے نام سے پُکارتے تھے ،اُس کا بیٹا نصیر کافی محنتی تھا ،بارہویں جماعت پاس کر نے کے بعد اُس نے شہر کے کالج میں داخلہ لے لیا۔ مخلوط تعلیم والے اس کالج میں سکندر خان کی بیٹی بھی زیرِ تعلیم تھی ۔۔۔اُس کو تو روزانہ ڈرائیور اپنی قیمتی گاڑی میں چھوڑنے آتا لیکن غربت کا مارا نصیر مُسافر گاڑی میں دھکے کھاتے ہوئے کالج پہنچتا ۔۔۔،،
رفتہ رفتہ دونوں میں جان پہچان ہوئی پھر دوستی ہوگئی اب کبھی کھبار نصیر بھی اُسی کی گاڑی میں آتا جاتا۔ اس طرح یہ دوستی کب پیار میں بدل گئی دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا اور عشق کی آگ دونوں کو اندر ہی اندر بھڑکاتی رہی ۔
عالیہ کو تو گریجوشن کرانے کے بعد باپ نے گھر میں بٹھا دیا تھا کیونکہ اُس کا ارادہ اس گاؤں میں ایک بی ایڈ کالج کھولنے کا تھا ،اُسے معلوم تھا کہ آج کل کے دور میں یہ ایک نفع بخش کاروبار ہے۔ اس کام کا آیئڈیا اُس کو ایک وزیر افلاک خان نے کافی پہلے دیا تھا کہ تم اپلائی کرو وزارتِ تعلیم سے اجازت دلوانا میرا کام ہے۔،سکندر خان اپنی جگہ پر بہت خوش تھا کہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری ،مُفت میں اجازت مل جائے گی، لیکن اُسے کیا معلوم کہ شاطر افلاک خان مُفت میں اجازت نہیں دلوا رہا ہے، اس کے بدلے میں اُس نے اپنے معذور بیٹے کے لئے عالیہ پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس طرح اُس کو بی ایڈ کالج کی پرنسپل بہو مل جائے گی ۔۔۔،،
اُدھر نصیر نے اپنی محنت اور قابلیت سے کے اے ایس کا مسابقتی امتحان پاس کیا اور بی  ڈ ی او کے عہدے پر فائز ہوگیا ۔ سارے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ ایک بڑھئی کا بیٹا اپنی محنت اور قابلیت سے اس عہدے تک پہنچ گیا۔ نصیر ایسا پہلا لڑکا تھا جس نے اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اس گاؤں کا نام بھی روشن کیا تھا اور اس گاؤں کے نوجوانوں کے لئے مستقبل کی راہ ہموار کی تھی ۔عالیہ بھی بے حد خوش تھی کہ نصیر نے بغیر کسی سُفارش کے اپنے بل بوتے پر اوپن میرٹ میں امتیازی پوزیشن حاصل کی ۔۔۔۔،،اس دوران وہ نصیر سے  موبائل پر برابر رابطہ میں رہی اور اب موقعہ کی تلاش میں تھی کہ وقت دیکھ کر وہ والدین کو اپنے اور نصیر کے درمیان بننے والے رشتے کے بارے میں بتائے کیونکہ اب وہ اس نجی  کالج کی پرنسپل بن چُکی تھی ۔۔۔۔۔،،
جس وقت نصیر نے اپنی ماں کے آگے اس خواہش کا اظہار کیا تو وہ ششدر رہ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سکندر خان کتنا مغرور اور انّا پرست ہے، وہ اس رشتے کو کبھی قبول نہیں کرے گا ۔نصیر نے ماں سے کہا،،اماّں....! چھوٹا بڑا ،امیر غریب کوئی مسئلہ نہیں ،یہ تو ہم لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں ،پھر آج وقت بدل چکا ہے، انسان مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے لیکن ہم آج بھی ذات پات اور مسلکی منافرت میں اُلجھے ہوئے ہیں ،ذات پات اور رنگ و نسل سے بڑھ کر انسانیت ہے۔۔۔۔،،
کریم نے اس بات کو اس طرح سمیٹا کہ آخر وہ بیٹی والا ہے ،مجھے اُمید ہے کہ اب سکندر خان کے برتاؤ میں کافی تبدیلی آ گئی ہوگی ،وہ یقیناً نرمی سے پیش آئے گا ،میں امام صاحب سے بات کرتا ہوں وہ ضرور اُن کی بات مانے گا۔ اُنھیں سمجھانے کا سلیقہ اچھی طرح آتا ہے اور پھر سکندر خان امام صاحب کا احترام بھی کرتا ہے ۔۔۔،،ابھی امام صاحب نے سکندر خان سے ملنے کا ارادہ کر ہی لیا تھا کہ بات سارے گاؤں میں پھیل گئی ۔یہ خبر جب کچھ چمچوں کے ذریعے افلاک خان کے کانوں تک پہنچی تو اُس نے بیٹے کے رشتے کی بات سکندر خان سے چھیڑی ۔سکندر خان کو بھلا اس رشتے پہ کیا اعتراض تھا اُس کو تو اگلے الیکشن کے لئے منڈیٹ چاہئیے تھا اور وہ اُسے افلاک خان ہی دلوا سکتا تھا ۔ایک دن سکندر خان کی ملازمہ نے یہ بات باہر نکالی  کہ سکندر خان اپنی  بیٹی کا نکاح افلاک خان کے بیٹے سے کرانے والا ہے تو ایک سہیلی کے ذریعے عالیہ یہ سُن کر آگ بگولہ ہو گئی کہ اُس کی مرضی کے خلاف اُس کا نکاح ایک معذور کی ساتھ کیا جا رہا ہے ۔کالج سے آکر اُس نے گھر میں اُتھل پُتھل مچادی ،شور  سُن کر سکندر خان نیچے آیا اور عالیہ سے مخاطب ہوا ۔۔۔،،کیا بات ہے آج ہماری رانی بیٹی بڑے غصے میں لگتی ہے ؟
کوئی خاص وجہ ہے ؟
ڈیڈی...  ! میں نے آج تک آپ کے آگے کبھی سر نہیں اُٹھایا _،
ہمیشہ آپ کی عزت کا خیال رکھا ،لیکن یہ سُن کر آج مجھے بے حد دُکھ اور افسوس ہوا کہ آپ میرا نکاح ایک معذور سے کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔۔۔،، آخرکیوں ؟
اچھا تو یہ بات ہے......! 
ہماری رانی بیٹی اسی بات پر ہم سے ناراض ہے....! 
دیکھو بیٹی ۔۔۔۔! لڑکا معذور ہے تو کیا ہوا ،کروڑ پتی ہے کروڑ پتی۔۔۔۔،،
دولت ہے  ،جاگیر ہے،نوکر چاکر ہیں ،تم وہاں خوش رہو گی تو ہمیں اطمینان رہے گا کہ ہماری بیٹی سُکھی ہے ۔۔۔
ڈیڈی....! بیٹیاں اوپر سے اپنی تقدیر لکھوا کر لاتی ہیں ،پھر اگر اوپر والا کسی کے مقدر میں سختی لکھ دے تو کوئی لاکھ کوششوں کے باوجود اُس کو نہیں بدل سکتا چاہے اُس کے پاس کروڑوں کیا اربوں روپے کیوں نہ ہوں ۔۔
ڈیڈی.....! ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ قسمت بدل سکتی ہے تقدیر نہیں ،پھر چُھری چاہے سونے کی ہی کیوں نہ ہو کوئی اُس سے خود کُشی کرنا فخر تو نہیں سمجھتا ۔۔۔،،
میں کوئی ان پڑھ اور لولی لنگڑی تو نہیں کہ ایک معذور کے ساتھ نکاح کروں ،لڑکوں کی کوئی کمی نہیں جو آپ مجھے اندھے کنویں دھکیل رہے ہیں ،کہتے ہوئے عالیہ کی آنکھوں سے اشک چھلکنے لگے اور اُس کا چہرہ سُرخ ہو گیا ۔۔۔۔،
سکندر خان کو معلوم تھا کہ وہ اُسی کی طرح ضدی ہے ۔وہ عالیہ کو پیار سے سمجھانے لگا ۔۔۔۔،،
دیکھ بیٹی ۔۔۔! تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے ،ہر ماں باپ کی طرح میری بھی یہ خواہش ہے کہ میری بچی خوش رہے ،راج کرے ،میری نظر میں اس سے بہتر رشتہ کو ئی نہیں ،اگر تمہاری نظر میں کوئی اچھا گھر ہے تو بتا ،تمہارا باپ اتنا بھی ظالم نہیں....!!! 
اگر مجھے اجازت ہو تو میں کچھ کہوں ؟ذکیہ نے ڈرتے ڈرتے کہا اور اجازت کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔،،
ہاں بولو کیا کہنا چاہتی ہو تم  ؟ سکندر نے صوفے پر پہلو بدل کر سگریٹ کا لمبا کش لگاتے ہوئے کہا ،،
ذکیہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی عالیہ اپنے کمرے میں چلی گئی تو ذکیہ شوہر کو سمجھانے لگی،دیکھو جی...! اب وہ چھوٹی بچی نہیں ،جوان لڑکی ہے ،آپ تو اُس کا مزاج جانتے ہیں وہ اپنی ضد کی پکی ہے ،اس سے پہلے بھی دو بار وہ  خود کُشی کی کوشش کر چکی ہے ،آپ تھوڑا ہوش اور صبر سے کام لیں ،بیٹی کا معاملہ ہے۔۔۔،،
پھر تُو ہی بتا میں کیا کروں ؟اگلے سال الیکشن ہے اُس سے پہلے میں عالیہ کی شادی کر دینا چاہتا ہوں ۔۔۔،،
ہاں مجھے یاد آیا دن میں امام صاحب آئے تھے انہوں نے عالیہ کے لئے کوئی لڑکا دیکھا ہے ،وہ آپ کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں ،ذکیہ نے سرگوشی میں کہا۔۔۔،،
امام صاحب.... ؟ اُن کی نظر میں ایسا کون سا لڑکا ہے ؟ 
چلو میں اُنھیں فون کر کے یہاں بُلا لیتا ہوں ،پھر کوئی فیصلہ کروں گا ۔۔۔،،
ادھر عالیہ نے فون پر یہ ساری بات نصیر کو سُنائی اور کہا کہ جلد ہی رشتہ لے کر کسی کو بھیجو۔ نصیر نے اُسے یقین دلایا کہ امام صاحب جلد ہی خان صاحب سے ملیں گے، پھر عالیہ انتظار کرنے لگی ۔۔۔،،
دیکھئے امام صاحب...! میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن یہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ،آج تک ہمارے خاندان میں کسی نے بھی اپنی  برادری کے باہر شادی نہیں کی،ہم کٹر راجپوت ہیں ،کسی ایرے غیرے کے گھر میں اپنی بیٹی نہیں بھیج سکتے ۔۔۔!!!
کمال ہے میرے اتنا سمجھانے پر بھی آپ نے انکار کردیا ۔ذکیہ بیٹی تم ہی کُچھ سمجھاؤ سکندر کو ،بیٹیوں کے معاملے بہت نازک ہوتے ہیں ،،میں تو چلتا ہوں..... کہہ کر امام صاحب کمرے سے باہر نکلنے لگے تو ذکیہ پُکارتی رہی..... امام صاحب..... امام صاحب....... لیکن وہ ناراض ہوکر گیٹ سے باہر نکل گئے ۔۔۔ آپ نے امام صاحب کو ناراض کردیا ،آپ تو اُنھیں باپ کا درجہ دیتے تھے ،ذکیہ نے جل بھُن کر سکندر سے کہا ۔۔۔،،
تجھے معلوم  ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں...... ؟وہ کہتے ہیں میں مخمل میں ٹاٹ کا پیوند لگاؤں ۔۔۔۔،کیکر کے پیڑ پر انگور کی بیل چڑھاؤں ۔۔۔۔، دُودھ کی شفاف نہر کو گندی نالی سے ملاؤں اور عالیہ کا نکاح ایک معمولی بڑھئی کے بیٹے سے کردوں.... ،آج وہ افسر بن گیا تو کیا ہوا کل تک اُس کے باپ دادا ہمارے مکانوں کی چھتیں لگا کر پیٹ بھرتے تھے ،لوگ ہمیں کیا کہیں گے ۔۔۔،،
آپ ٹھنڈے دماغ سے کام لیجئے ،یہ نہ ہو کہ لڑکی کچھ کر بیٹھے۔میں نے عالیہ کو ٹٹولا تھا ،وہ بھی اس رشتے کے لئے رضامند ہے ۔۔۔وہ کالج سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ،ذکیہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تو سکندر بھڑک گیا ۔اچھا تو یہ تم ماں بیٹی کی ملی بھگت ہے ،اب تو یہ باکل بھی نہیں  ہوسکتا، چاہے آسمان زمین آجائے ،کبھی نہیں۔۔۔،،میں آج ہی افلاک خان کو فون کر کے کل ہی سگائی کے لئے کہتا ہوں ،سکندر خان نے جلدی سے ٹیبل پر رکھا ہوا موبائل اُٹھایا اور نمبر لگایا۔۔۔،،ہاں ہیلو....! افلاک صاحب آپ ایک کام کیجئے ،کل ہی سگائی کے لئے تشریف لائیں ………نہیں نہیں..... پرسوں مجھے دس روز کے لئے دلّی جانا ہے....... نہیں نہیں ،ایسی کوئی بات نہیں..... کل شام کو...... ہاں ہاں تب تک سارا انتظام ہو جائے گا...... جی جی ٹھیک ہے...... خُدا حافظ ۔۔۔۔،،یہ ساری باتیں عالیہ دوسرے کمرے کی کھڑکی سے سپن رہی تھی وہ باہر نکلی اور زور زور سے رونے لگی ،ڈیڈی یہ ظُلم مت کیجئے ۔۔۔۔،،میں جیتے جی مر جاؤں گی ،،،،،نصیر شریف ،پڑھا لکھا اور دیندار لڑکا ہے ۔۔۔۔،،وہ سیلف میڈ ہے،پھر اُس کا مُستقبل بھی تابناک ہے ۔۔۔۔، 
بکواس بند کرو....! ہم ایک معمولی بڑھئی کے ساتھ رشتہ جوڑیں ۔۔۔۔،،یہ ہماری شان کے خلاف ہے ۔۔۔۔ہم سماج میں کیسے جائیں گے..... ؟لوگوں کو کیا مُنہ دکھائیں گے... ؟ چل اندر ۔۔۔۔،شہر پڑھنے کیا بھیجا اس کو پر لگ گئے ۔۔۔،،ذکیہ میری بات کان کھول کر سُن لو ،،کل شام تک یہ اس کمرے سے باہر نہیں نکلنی چاہئے ۔۔۔۔،،چل اندر.... پھر سکندر نے عالیہ سے موبائل فون چھین کر اُسے کمرے میں بند کردیا اور باہر سے دروازہ مُقفل کر دیا ،عالیہ چیختی رہی چلاتی رہی۔۔۔۔۔،،
ذکیہ بیچاری بے بسی میں سب کچھ خاموشی سے دیکھتی رہی اور سکندر باسکوٹ پہن کر غصے میں باہر نکل گیا ۔۔۔۔،،
ممی....!ممی مجھے باہر نکالو ۔۔۔۔،میں مرجاؤں گی لیکن اُس معذور سے کبھی نکاح نہیں کروں گی ۔۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔۔،،کھولو کھولو کھولو،دروازہ پیٹتے پیٹتے وہ تھک گئی اور فرش پر گرپڑی ۔۔۔۔،، تھوڑی دیر بعد کھڑکی کا شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی تو ذکیہ دوڑتی ہوئی کمرے تک پہنچ گئی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ عالیہ نے کانچ سے اپنی کلائی کی نس کاٹ دی ہے اور  دروازے کے نیچے سے خون کی ایک لکیر بہہ رہی ہے وہ زور زور سے چیخنے چلانے لگی ،سینہ کوبی کرنے لگی ،میری بیٹی کو بچاؤ.......میری بیٹی کو بچاؤ.... ،،آواز سُن کر گھر کے نوکر دوڑتے ہوئے آئے لیکن دروازے پر تالا چڑھا ہوا تھا نوکر نے جھٹ سے ذکیہ کے فون سے سکندر خان کو فون لگایا ۔۔۔۔،،مالک ،مالک ،جلدی سے گھر پہنچئیے عالیہ بی بی نے اپنی نس کاٹ دی ہے ۔۔۔۔،،یہ سُنتے ہی سکندر خان گھر پہنچا تو خون کی سُرخ لکیر دیکھ کر اُس کے ہوش اُڑ گئے۔ اُس نے جلدی جلدی نوکروں کی مدد سے عالیہ کو اسپتال پہنچایا ،اُس کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر نے کہا. ...،،خان صاحب ،،اس کے جسم سے کافی خون ضائع ہو چُکا ہے ، ہم اسے شہر کے بڑے اسپتال بھیجتے لیکن راستے میں کچھ ہوگیا تو مشکل ہوگی۔ بہتر ہے آپ اس کے لئے او  نیگٹیو خون کا بندوبست  یہیں کیجئے ،اگر اس کی جان بچانی ہے ورنہ،،
کہہ کر ڈاکٹر تو اوپریشن تھیٹر میں داخل ہوگیا اور سکندر خان فون پر رابطہ کرکے ادھر اُدھر خون کے لئے پوچھنے لگا ،ہر طرف سے مایوس ہوکر اُس نے ڈاکٹر صاحب سے کہا ،،ڈاکٹر صاحب...!  میں نے کافی کوشش کی لیکن کچھ نہیں بن پایا۔آپ ہی کچھ بندوبست  کیجئے ،آپ کے پاس بُلڈ ڈونیشن والوں کی لسٹ تو ہوگی ،اگر کوئی پیسے بھی لے گا تو میں دو لاکھ ،پانچ لاکھ دینے کے لئے تیار ہوں۔۔۔ ،،ڈاکٹر صاحب نے اُس کا کاندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا،، خان صاحب آپ حوصلہ رکھیں ہم کوشش میں لگے ہوئے ہیں کچھ پروفیشنل لوگوں کو پیغام بھیجا ہے ،خُدا بہتر کرے گا ،ویسے بھی اس گروپ کا خون کم ہی دستیاب ہوتا ہے ۔۔۔،،آپ بس دُعا کیجئے ۔۔۔،،
اتنے میں امام صاحب ،سرپنچ،نمبردار،کریم اور نصیر بھی اسپتال پہنچ گئے۔ اسی دوران اسپتال کا ایک ملازم کسی اجنبی کو لے کر تیز تیز چلتے ہوئے تھیٹر کی طرف لے گیا تو سکندر نے آگے بڑھ کر پوچھا ،،کچھ بندوبست ہوا ؟جناب مشکل سے یہی ایک بندہ ملا ہے ،امام صاحب نے غور سے اس اجنبی کی طرف دیکھا پھر آسمان کی جانب نظر اُٹھا کر کہا ،،واہ میرے خُدا تُو بڑا کاساز ہے، تیرے معاملے تُو ہی جانے ،تُو بے نیاز اور بے پرواہ ہے ۔۔۔،،
امام صاحب دُعا کیجئے میری بچی بچ جائے۔۔۔۔،،سکندر خان نے روتے ہوئے کہا تو امام صاحب نے اُس کے جوڑے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا،،گبھرائو مت ،سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ،یہ حادثات انسان کو سبق سکھاتے ہیں ،سکندر خان ۔۔۔۔!آج وہ پُرانا وقت نہیں رہا  وقت بدل گیا ،زمانہ بدل گیا ،جینے کا انداز بدل گیا ،زندگی کے تقاضے بدل گئے ،ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہوگا ،آج کی اولاد اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتی ہے ،اُن پر فیصلے تھوپے نہیں جاتے ،ہمارا وقت گُزر گیا جب ہم بزرگوں کے آگے سر نہیں اُٹھا تے تھے ،،،ایسی کوئی چیز آج کے سماج میں نہیں رہی ،ساری قدریں ایک ایک کرکے مفقود ہوتی جارہی ہیں۔۔۔۔!
آپ ٹھیک کہتے ہیں امام صاحب...! میرے دماغ پر ابھی بھی پُرانا زمانہ سوار تھا۔۔۔ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ اوپریشن تھیٹر کا دروازہ کُھلا اور ڈاکٹر صاحب باہر آئے تو سب اُس کی طرف دوڑ پڑے ،ڈاکٹر صاحب میری بیٹی کیسی ہے ؟ سکندر خان نے کپکپاتے لبوں سے پوچھا ،،خون چڑھانے کے بعد اب اُس کی حالت مستحکم ہے۔۔۔،، خُدایا تیرا لاکھ لاکھ شُکر ہے ،سکندر نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو امام صاحب اُس سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔،،سکندر بیٹا...!  آج تک تو نے انسان کو انسان نہیں سمجھا ،ہمیشہ امیر غریب ،اونچ نیچ اور ذات برادری کے جھمیلے میں اُلجھا رہا ،جس چھوٹی ذات سے تُو نفرت کرتا رہا ،جسے تو حقیر سمجھتا رہا،آج اُسی چھوٹی ذات کے شخص نے تمہاری بیٹی کی جان بچائی ،تم سوچو جس ڈاکٹر نے عالیہ کا علاج کیا وہ دُور دراز کا ایک ہریجن ہے ،جس نرس نے تمہاری بیٹی کی دیکھ بھال کی وہ ایک غریب گھرانے کی لڑکی ہے اورجس شخص نے تمہاری بیٹی کو خون دیا وہ ایک بھنگی ہے بھنگی ۔۔۔۔،،اگر وہ بھی یہی سوچتا کہ یہ میری ذات برادری کی نہیں ہے تو کیا ہوتا ؟ ....
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اونچ نیچ ،امیری غریبی اور ذات برادری سے انسانیت کا درجہ کہیں اونچا ہے ۔۔۔۔۔،، جنہیں تم  حقیر اور چھوٹی ذات میں گردانتے ہو وہ ہمارے سماج کا ایک اہم حصّہ ہیں، تمہارے گھر سے لے کر تاج محل تک انہی کی محنت سے وجود میں آئے ہیں _،کُچھ سبق حاصل کر اس حادثے سے ۔۔۔۔!!!!
امام صاحب..! میں خُدا کا ،آپ کا اور عالیہ کا گنہگار ہوں ،مجھے معاف کر دیجئے ۔۔۔۔،،
اب آپ لڑکی سے مل سکتے ہیں ،ڈاکٹر صاحب کہہ کر آگے بڑھ گئے تو سکندر خان جلدی سے کمرے میں داخل ہوا ،،میری بچی..... مجھے معاف کردو ،میں تمہارا گنہگار ہوں،  میں نے کبھی بھی انسان کو انسان نہیں سمجھا، تُو نے آج مجھے زندگی کا بہت بڑا سبق سکھا کر میری آنکھیں کھول دیں ،آ بیٹا آ ۔۔۔۔۔۔سکندر خان نصیر کو عالیہ کے پاس چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا تو نصیر نے عالیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔،،اری پگلی تو نے یہ کیا کرلیا،تمہیں کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔۔؟ ؟؟ عالیہ نصیر کی آنکھوں میں ڈوبتے ہوئے پیار سے بولی ،،
 اگر میرا لہو بہنے سے انسانیت کی اساس مظبوط ہوتی ہے ،ذات برادری کی دیواریں گرتی ہیں، سماج کی سوچ بدلتی ہے، دو دل ملتے ہیں تو کیا بُرا ہے ۔۔۔۔۔؟ لوگ تو نفرت میں لہو بہاتے ہیں میں نے تو محبت میں بہایا ہے۔۔۔۔،، جواب سُن کر نصیر کی آنکھیں بھر آئیں اور بولا، واہ تمہارے خیالات کتنے بُلند ہیں، آج سے میرے دل میں تمہاری عزت اور بڑھ گئی ہے۔۔۔۔۔،،
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل 9419463487