تازہ ترین

فضائل ِدعا اور عدم قبولیت کے اسباب

رشد و ہدایت

تاریخ    6 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


اویس احمد شیخ القادری
اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں نعمت ایمان سے نوازا، اور ہمارے قلوب کو ضو ایمان سے مصفیٰ اور مجلیٰ کیا،اور بے حد درود و سلام ہو ہمارے کریم آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کے باعث اللہ عزوجل نے ہمیں خیرِ امت کے درجہ پر فائز کیا۔ اللہ جل مجدہ نے جہاں ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے وہاں ہمیں "دعا " کی بیش بہا نعمت بھی عطا کی ہے۔اسی نعمت کی بدولت ہم اپنے پروردگار کے حضور عجز و انکساری اور اس کی طرف حاجت مند ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔اس کے واسطے سے ہم اپنی ساری مشکلات کا حل اللہ عزوجل سے مانگتے ہیں، اپنے دکھ درد اور غموں کا ازالہ ہم اسی کے ذریعہ اللہ جل مجدہ سے مانگتے ہیں، یہ خدائے لم یزل سے مناجات کرنے کا خوبصورت اور بہترین ذریعہ ہے،یہ جالب رحمت خداوندی ہے۔فضیلت دعا پر قرآن کی آیات کثیرہ اور احادیث وافرہ شاہد ہیں۔ چنانچہ اللہ عزوجل قرآن کریم  میں ارشاد فرماتا ہے کہ: "میں دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے"  ( البقرہ)
اور سورۃالمومن میں ارشاد فرماتا ہے: "مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا"
اور دو جگہوں میں تہدیداً فرمایا: " جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر "  ( المومن)
 یہاں عبادت سے مراد دعا ہے۔اور فرماتا ہے: " تو کیوں نہ ہوا جب آئی تھی ان پر ہماری طرف سے سختی تو گڑگڑائے ہوتے لیکن سخت ہوگئے ہیں دل ان کے" (  الانعام) 
 اب فضائل دعا پر چند احادیث طیبات ذکر کئے جاتے ہیں: 
1۔بخاری و مسلم میں حدیث قدسی میں ارشاد مبارک موجود ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: " میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں’’ یعنی وہ جیسا گمان مجھ سے رکھتا ہے میں اس سے ویسا ہی کرتا ہوں ،" اور میں اس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے" ۔
2 ۔فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تر نہیں "  اسے ترمزی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔
3۔ امام بزار، امام طبرانی اور امام حاکم اپنی اپنی کتب میں حدیث مبارک روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم " بلا اترتی ہے پھر دعا اس سے جا ملتی ہے تو دونوں کْشتی لڑتے رہتے ہیں قیامت تک" یعنی دعا اس بلا کو اترنے نہیں دیتی۔
4۔ ترمزی شریف میں حدیث مبارک نقل کی گئی ہے کہ فرماتے ہیں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم: " دعا عبادت کا مغز ہے".
5۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: " جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرے ، اللہ تعالیٰ اس پر غضب فرمائے". (  ابو یعلیٰ)
 مذکورہ بالا آیات قرآنیہ اور احادیث طیبہ کے علاوہ اور بھی آیات اور احادیث مبارکہ اس ضمن میں ہیں لیکن طوالت مضمون کے سبب سب کا ذکر کرنا ممکن نہیں۔ان آیات کریمہ اور احادیث طیبات کا بغور مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ دعا کس قدر فضیلت،رحمت اور برکت کی حامل عبادت ہے لیکن اتنی فضیلت ہونے کے باوجود ہم اس عظیم عبادت سے غافل ہیں۔ہم اس سے بے اعتنائی اور بے التفاتی برت رہے ہیں۔ اللہ عزوجل کی ضمانت دینے کے باوجود کہ "مجھ سے مانگو میں عطا کروں گا" ہم پھر بھی دعا نہیں کرتے۔ دعا کرنے سے گریز کرنا آیات قرآنی کے مطابق سخت دلی کی علامت اور متکبر ہونا بیان کیا گیا ہے۔اس پر اللہ جل مجدہ نے تہدید فرمائی ہے اور جہنم کی وعید بھی فرمائی ہے۔اللہ عزوجل کی معیت، گناہ کی معافی ،دافع بلا یہ سب دعا کے وسیلے سے حاصل ہوجاتے ہیں۔جہنم کی وعید اور غضب خداوندی دعا نہ کرنے کی سزا میں مل جاتی ہے،اسلئے ہمیں دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ جب ہم عاجزی کریں گے تبھی تو وہ مالک و مختار ہماری جھولیاں بھرے گا۔ہمارے گناہوں کی معافی اسی کے سبب مل سکتی ہے اور اللہ عزوجل کی رحمت اسی قیمتی خزانے سے مل سکتی ہے۔بلکہ حدیث مبارک میں اس کو عبادت کا مغز اور سلاح مومن یعنی مومن کا ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔اس سے یہ صاف ظاہر و باہر ہوجاتا ہے کہ دعا کس قدر اہمیت اور فضیلت والی عبادت ہے۔
 ہر عبادت کی طرح اس عظیم عبادت کی قبولیت کے بھی کچھ شرائط شریعت مطہرہ نے بیان کئے ہیں۔ ان شرائط کا مفقود ہونا اس کے قبولیت میں مانع ثابت ہوتے ہیں۔ ان شرائط کا پورا کرنا ایک لابدی امر ہے جن سے دریغ کرنا محال ہے۔علماء کرام دامت فیوضہم نے ان اسباب کو اپنی اپنی تصانیف میں ذکر کیا جو قبولیت دعا میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔چند ایک کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے تاکہ لوگ ان اسباب سے واقف ہوجائیں اور ان سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں۔
 یہ ہمارا ہی قصور، گناہوں کی سزا اور شامت اعمال کا نتیجہ ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔ نہ صدق مقال کی دولت اور نہ ہی اکل حلال کی نعمت، بس جھوٹ اور حرام خوری اور اس پر طرہ یہ کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی، یہ سراسر مضحکہ خیز انداز ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ایک شخص سفر دراز کرے ،بال الجھے ،کپڑے گرد میں اَٹے ( میلے کچیلے ) ، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اور یا رب!  یا رب! کہے اور اس کا کھانا حرام سے اور پینا حرام سے اور پہننا حرام سے اور پرورش پائی حرام سے ،تو اس کی دعا کہاں قبول ہو!" کس قدر ملامت فرمائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام خوری پر اور دوٹوک لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ اس سب کے ہونے کے باوجود دعا کہاں قبول ہوگی۔
دوسرا ہمارا گناہوں سے تلوث یعنی ہم ہمیشہ گناہ میں مبتلا رہتے ہیں ،مظلوموں کی حق تلفی کرتے ہیں اور اس پر مصر رہتے ہیں۔ آج ہم سب گناہ کرنے کو، مظلوموں کے حقوقوں کی پامالی کرنے کو دلیری سمجھتے ہیں اور کچھ ناسمجھ اور بد بخت قسم کے لوگ اس کو عقلمندی اور دانائی سمجھتے ہیں۔ امر بالمعروف و نھی عن المنکر نہ کرنا بھی عدم قبولیت دعا کا سبب بنتا ہے۔جتنا ہوسکے گناہ ہوتے ہوئے اگر کسی کو دیکھا جائے تو اسے روکیں ،اگر اس پر قابو پاسکیں تو طاقت کے ذریعہ ہی روکا جائے اور اگر قابو نہ پاسکیں تو زبان سے ہی روکا جائے،اور اگر گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور آنکھ پھیر لی تو جو آفت اور مصیبت اس گناہ کرنے کے سبب آئے گی اسے دعا کے ذریعہ بھی روکا نا جاسکے گا، وہ اسلئے ہم نے بھی تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض چھوڑ دیا۔بدوں کی صحبت اور فاسقوں کی دوستی سے اجتناب کریں کہ بدوں کی صحبت اچھے کو بھی برا بناتی ہے۔
 تیسرا یہ کہ ہم خود اپنے لئے آفت کا سامان کریں اور پھر دعا کریں کہ یا اللہ مجھے اس آفت سے نجات دے تو اسطرح کی دعا کیونکر قبول ہوسکتی ہیں۔مثلاً شراب خوری کرتا ہو اور پھر دعا کرے کہ اے خدا مجھے اس کے ضرر سے بچا ،دوسرا وہ شخص جو گھر میں بیٹھا رہے ،کچھ کام کاج نہ کرے اور پھر رزق کی دعا کرے اور اسی طرح اپنی دولت فضول خرچیوں میں اڑانا اور پھر دعا کرنا کہ یا اللہ مجھے اور دولت دے، اسطرح کی دعاؤں کی اجابت کیونکر ہوسکتی ہیں ۔
رابطہ ۔شالہ پورہ آلوچہ باغ، سرینگر کشمیر
ای میل۔ibnbashir11@gmail.com
㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄㨄