تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    6 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

بغیر وضو

قران کریم کو چھونا درست نہیں

تلاوت کی گنجائش موجود

سوال :قرآن شریف پڑھنے کے لئے با وضو ہونا ضروری ہے یا نہیں۔قرآن شریف کی تلاوت کبھی زبانی ہوتی ہے ۔اس کے لئے کیا حکم ہے اور اگر ہاتھ میں لے کر قرآن شریف کی تلاوت ہو تو کیا حکم ہے؟
عبدالرشید خان ۔حاجن
جواب :قرآن کریم کی تلاوت کی دو صورتیں ہیں ۔ایک صورت یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا زبانی تلاوت کرے اور قرآن کریم کا صحیفہ ٔ مبارک ہاتھ میں نہ ہو۔اس صورت میں باوضو ہوکر تلاوت کرنا افضل اور بہت اہم ادب ِ تلاوت ہے۔لیکن اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے تو اس کی گنجائش ہے ،یعنی زبانی تلاوت کے لئے وضو لازم نہیں۔اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے توگناہ نہ ہوگا ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ صحیفۂ قرآنی ہاتھ میں لے کر تلاوت کی جائے اس صورت میں وضو لازم ہے۔بغیر وضو کے ہاتھ میں قرآن لینا ہرگز جائز نہیں۔ترمذی شریف میں حدیث ہے َ(ترجمہ) صحیفۂ مبارک میں تلاوت اُس وقت کی جائے جب باوضو ہو۔ احادیث کی کتابوں میں موطاء امام مالک ،مصنف عبدالرزاق صحیح ابن حبان ،مستدرک حاکم میں بھی حدیث ہے ۔جس کا مفہوم یہی ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کو چھونا درست نہیں۔لہٰذا اگر صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر تلاوت کرنی ہو تو بلا وضو ہرگز قرآن کریم کوہاتھ میں نہ لیا جائے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی کتاب الاتقان میں لکھا ہے کہ جمہورِ اُمت اس بات پر متفق ہیں کہ بغیر وضو قرآن کریم کو مس کرنا جائز نہیںہے۔
دنیا میں اور تمام مذاہب کی تاریخ میں صرف قرآن وہ کتاب مقدس ہے کہ جس کو دیکھنا بھی عبادت ،پڑھنا بھی عبادت اور سمجھنا بھی عبادت ہے اور جس کو بغیر وضو چھونا گناہ ہے۔اس کی طرف پیر پھیلانا ،اس کی طرف پیٹھ رکھنا بے ادبی ہے اور اس کو توہین کے ساتھ نیچے پھینکنا کفر ہے ۔
اس لئے بغیر وضو کے قرآن کریم کو مس کرنا ہرگز جائز نہیں ،چاہے تلاوت کے لئے چھونا ہو یا کسی اور مقصد کے لئے ۔مثلاً ایک جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ رکھنا ہو یا قرآن کریم سے صرف حوالہ نقل کرنا ہو تو کبھی بغیر وضو مس کرنا درست نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:- مساجد میں لوگ نماز سے پہلے صفوں میں یا اِدھر اُدھر بیٹھتے ہیں پھر مکبر تکبیر کہتاہے اور جب قدقامت الصلوٰۃ تک پہنچتاہے تو امام اور مقتدی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس طرح سے صفیں دُرست نہیں ہوتیں ۔ جب دوسرے مفتی صاحبان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا پہلے صفیں دُرست کرو پھر تکبیر کہی جائے لیکن جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ کہتے ہیں بیٹھنا ہی سنت ہے ۔ اس طرح کچھ لوگ کھڑے رہتے ہیں اور کچھ لوگ بیٹھے رہتے ہیں ۔ براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کیجئے ۔
محمد اشرف  …پلوامہ 
 

قدقامت الصلوٰۃ نماز کے لئے 

کھڑے ہونے کا آخری لمحہ

جواب:نمازشروع کرنے سے پہلے امام اور مقتدی کا لازمی فریضہ اور شرعی حکم صفوں کادُرست کرناہے۔ یہ حدیث وفقہ کی ہر کتاب سے صاف ظاہرہے۔ چنانچہ دورِ نبوتؐ سے لے کر آج تک پورے عالم میں یہی طریقہ رائج ہے کہ صفیں درست کرنے کا اہتمام ابتداء سے ہی کیا جاتاہے اور ایک طرف سے مکبر تکبیر پڑھتاہے دوسری طرف سے مقتدی حضرات اپنی صفیں دُرست کرتے ہیں اور تکبیر ختم کرنے پر امام پھر ایک بار متنبہ کرتاہے کہ صفیں دُرست کی جائیں، خالی جگہوں کو پُر کیا جائے ۔ اس کے باوجود صفوں کی درستگی میں نقص رہتاہے۔
اب اگر صفوں کو درست کرنے کا اہتمام شروع نہ کیا جائے تو تکبیر کے ختم پر امام کو یا تو طویل انتظار کرناپڑے گا یا صفوں کے درست ہوئے بغیر نماز شروع کرنی پڑے گی۔ حرمین شریفین میں بھی اور یہاں کشمیر میں بھی ہمیشہ سے اسی پر عمل رہاہے کہ آغازِ اقامت کے ساتھ ہی امام ومقتدی کھڑے ہوتے ہیں ۔ 
اگر مقتدی صفوں میں درست طرح سے بیٹھے ہوئے ہوں اور درمیان میں جگہیں خالی نہ ہوں اور امام اپنے مصلیٰ پر بیٹھا ہوا ہو تو اس صورت میں اس کی اجازت ہے کہ مقتدی حضرات بیٹھے رہیں اور قدقامت الصلوٰۃ پر کھڑے ہوں ، یہ کھڑے ہونے کا آخری لمحہ ہوگا۔
اس کے بعد بیٹھنا دُرست نہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس سے پہلے کھڑا ہونا منع ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد کوئی بیٹھا نہ رہے ۔ حضرات صحابہؓ کبھی اس طرح کھڑے ہوجاتے تھے کہ حضرت بلالؓ تکبیر پڑھتے مقتدی حضرات کھڑے ہوتے او رحضرت رسول اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام ابھی تشریف فرما نہ ہوتے اس لئے سب کو کھڑے ہوکر انتظار کرناپڑتا تھا ۔ اس صورت حال کے متعلق آپ ؐ نے ارشاد فرمایا تب تک کھڑے مت ہواکرو جب تک مجھے آتا ہوا نہ دیکھ لو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکاح نصف ایمان 

سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث میں یہ بیان ہوا کہ نکاح کرنا آدھا ایمان ہے۔ اگر یہ حدیث ہے تو اس کے الفاظ کیا ہیں اور نکاح آدھا ایمان کیسے ہے اس کی وضاحت کریں؟
عابد علی…لال بازار سرینگر
جواب: یہ بات درست ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علی ہوسلم نے ارشاد فرمایا کہ نکاح  نصف دین ہے۔ چنانچہ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔
 حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ مسلمان جب نکاح کرتا ہے تو اپنے نصف دین کو مکمل و محفوظ کرلیتا ہے۔ اب اس کو چاہئے کہ بقیہ نصف دین کے بارے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔
اس حدیث کے متعلق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انسان عموماً دو ہی وجہوں سے گناہ کرتا ہے، شرمگاہ اور پیٹ۔یعنی جنسی جذبات کی بناء پر اور کھانے پینے کی وجہ سے۔
جب نکاح کر لیا تو اب زنا،بدنظری، غیر محرم سے تعلقات قائم کرنے کے جذبہ سے محفوظ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اب نظر کی طہارت، عفت و عصمت کی حفاظت، پاک دامنی اور حیائ، نظر اور خیالات کی یکسوئی اور غلط رُخ کے احساسات اور تخیلات سے بچائو حاصل ہونے کا سامان مل گیا تو دین کو تباہ کرنے والے ایک سوراخ کو بند کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اب بقیہ نصف یعنی کھانے پینے کی وجہ سے جو گناہ ہوتے ہیں اُس کی فکر کرے۔ اس میں حرام دولت، چوری، رشوت ، دھوکہ،فریب اور ہر طرح غیرشرعی اکل و شرب شامل ہے۔
 

موبائل اپلیکیشن پر لاٹری اور جوا

انعام میں حاصل شدہ رقم حرام

سوال:آج کل موبایل فون پر کئی سارے ایپلیکیشن چل رہے ہیں،جن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے۔ان ایپلیکشن میں پیسہ کمانے کاسسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں جن کی کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں بہت سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جس میں ہرکسی کی اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے پھر جس کی ٹیم کے کھیلنے والے زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اُس کو زیادہ Pointsملتے ہیںاور اس حساب سے ان کو پوزیشن Positionsملتی ہے ،پہلی اور دوسری ۔اور اس طرح ہر پوزیشن کا انعام طے ہوتا ہے۔کچھ لوگ پوائنٹس کم لینے کی وجہ سے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کرتے ،انہیں کوئی پیسہ نہیں ملتا بلکہ ان کی فیس کی رقم چلی جاتی ہے۔تو کیا اس طرح کی ایپلیکیشن Applications )) سے پیسہ کمانا جائز ہوگا یا نہیں۔جو پیسہ انعام کے طور پر دیا جاتا ہے وہ لوگوں سے ہی لیا ہوا پیسہ ہوتا ہے اور چونکہ ہر کوئی تو جیت نہیں پاتا تو اس طرح کمپنی والوں کا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔لہٰذا آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس پورے سسٹم کو دیکھ کر شریعت کا حکم کیا ہوگا ۔شریعت کے لحاظ سے یہ جائز ہوگا یا نہیں؟
عاطف یاسین وزیر باغ سرینگر
جواب : ایپلیکیشن کے اس پورے سسٹم کے متعلق معلومات کرنے اور اس کی تمام تفصیلات کو جاننے کے بعد اس کا شرعی حکم لکھا جارہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا سسٹم لاٹری اور جوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس دینے والے فیس دیتے ہیں اور اُن کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ اُن کی ٹیم اچھا کھیلے گی تو اُن کو پوائنٹس ملیں گے پھر اگر یہ پوائنٹس اتنے زیادہ ہوئے کہ اُن کو پوزیشن بھی مل گئی تو پھر اُن کو انعام ملے گا۔اس طرح پہلی اور دوسری پوزیشن والوں کو انعام ملنے کی امید رہتی ہے اس لئے وہ اس میں شامل ہوتے ہیںاور اس کے لئے فیس بھی دیتے ہیں۔اب کمپنی والے چند پوزیشن لینے والوں کو انعام دیتے ہیں ،وہ دراصل سارے فیس دینے والوں نے جتنی فیس دی تھی اُس کا کچھ حصہ پوزیشن لینے والوں کو بطور انعام دیا گیا اور باقی ساری رقم کمپنی والوں نے خود رکھ لی اور دوسرے جن لوگوں نے فیس دی تھی اُن کو کچھ نہ ملا ۔یہی جوا ہے اور اسی طرح لاٹری بھی ڈالی جاتی ہے۔جو ا میں پیسہ لگانے والا اس توقع پر پیسہ لگاتا ہے کہ اگر میرے نام پر لاٹری نکل گئی تو پہلا دوسرا یا تیسرا انعام ملے گا اور وہ بڑی رقم ہوگی۔اگر میرے نام پر لاٹری نہ نکلی تو میری ٹکٹ کے بہت کم روپے کا مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا ۔شریعت اسلامیہ میں اس کوقِمار اور مَسیر کہا گیا اور قرآن کریم نے شراب نوشی اور جوا بازی کو شیطانی کام قرار دے کر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے اس ایپلیکیشن کے سسٹم سے جڑ جانا ہی ناجائز ہے اور پھر اگر اس کے ذریعہ کسی کو پوائنٹس پھر پوزیشن ملی اور پھر اس کو کوئی انعام ملا تو یہ انعام لینا حرام ہے ۔بلا شبہ حقیقت یہی ہے کہ کمپنی ہم سے ہی رقم جمع کرتی ہے پھر بہت تھوڑی رقم انعام کی صورت میں چند افراد کو دیتی ہے وہ افراد بھی ہم میں سے ہوتے ہیںاور اُن کو جو انعام ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی پیسہ ہوتا ہے ۔تھوڑی رقم انعام میں دے کر زیادہ رقم یا رقم کا ایک بڑا حصہ کمپنی خود رکھ لیتی ہے ۔بس کمپنی کا یہی مقصد ہوتا ہے ۔لاٹری ڈالنے والی کمپنی کا سارا سسٹم بھی یہی ہوتا ہے۔خلاصہ اس سسٹم میں جو ائِن کرنا بھی ناجائز اور اس کا انعام لینا حرام ہے۔