تازہ ترین

دنیا میں اسلاموفوبیا

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ؟

تاریخ    4 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


منظور احمد گنائی
 اسلام ایک مکمل ،صحیح، واضح اور الہامی دین ہے۔ جس دین کا طرہ امتیاز ہے کہ انسان اسے اپنا کر تولد سے لے کر موت اور موت سے لیکر برزخی زندگی تک ہر چھوٹے بڑے مسائل سے آگاہ ہو سکتا ہے، جس کو اپنانے سے انسان دونوں جہانوں میں کامیابی اور نصرت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔اسلام نے ہمیشہ امن وامان اور سلامتی کا درس دیا ہے۔عورتوں کو حقوق دینے والا اسلام،والدین کے ساتھ حسن وسلوک اور خندہ پیشانی سے پیش آنا اسلا م کی تعلیمات میں سے ہے۔ سکھائی جس نے توقیر دوسرے مذاہب کی وہ ہے دین اسلام۔ مگر شرپسند نشانہ بناتے ہیں اسی اسلام کو۔ اسلام میںدنیا میں ہر انسان کے ساتھ بغیرتفریق مذہب وملت ہمدردی،اخوت،بھائی چارہ،ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجودعالم دنیا کی پوری نظریں اسلام مخالف کاروائیاں سرانجام دینے میں نظر آرہی ہیں۔ دنیا میں اسلام کے تئیں منافرت اور بدظنی پھیلانے کی سازشیں بڑے پیمانے پر انجام دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں یکے بعد دیگرے اسلام مخالف سازشوں اور احمقانہ حرکتوں کو انجام دینے میں گونا گوںپروپیگنڈے شروع کیے جاتے ہیں۔ جن کا خالص مقصد بنی نوع آدم کو دین سے بے زاری اور غافل رکھنے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔
ایسی ہی ایک ناقابل برداشت برداشت غلطی فرانس کے ایک شہر میں ایک اسکول ٹیچر کے ہاتھوں کلاس میں پڑھانے کے بجائے دنیا میں اپنی بودوباش رکھنے والی دوسری بڑی اکثریتی جماعت یعنی مسلمانوں کے رہبر کامل حضرت محمد ؐکی ذات مبارک کے متعلق اہانت آمیز خاکے دکھانے اور ان کی تشہیر کرکے اسلامی عقیدے سے منسلک جماعت کو ٹھیس پہچانے کی صورت میںکی گئی تھی۔اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں اپنے آپ کو شمار کرنے کے باوجود اسکولوں میں تعلیم کے بجائے بچوں کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کی نامور ہستیوں کیخلاف گستاخی کرکے منافرت پھیلانے کا کام انجام دینے لگیں۔ ایسی احمقانہ حرکتوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح تو ہو ہی جاتے ہیں لیکن پوری دنیا کے اندر تباہ کن حالات کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسلا م کسی بھی مذہب کی دل آزاری کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی اسلام میں ان امور کی کوئی گنجائش ہے۔ لیکن حضور اکرمؐکی شان اقدس میں گستاخانہ رویہ اختیار کرنا ناقابل برداشت ہے اور وہ بھی اس ذات اقدس کے متعلق جو دنیا میں نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ کافروں کے لئے بھی رحمتن العالمین بناکر معبوث فرمائے گئے ہیں۔ اس اہانت آمیز حرکت کو انجام دینے کے بعد کلاس میں موجود طالب علم نے ایسی گساخی برداشت نہ کرکے ٹیچر کا سر وہیں پے قلم کر دیا۔ اس کے برعکس فرانس کے صدر میکرون نے ان شر پسند عناصر کی لگام کسنے کے بدلے اسے اور ہوا دے کر پورے ملک میں ایسے خاکوں کی اشاعت اور تشہیر دربارہ شروع کی اور ایسے ناشائستہ الفاظ بکنے لگا جنہیں کسی بھی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسلام اور اسلام کے ماننے والوں کے متعلق ایسے بیانات دینے لگا ہے جس سے اسلامی ممالک کو فرانس کے خلاف اپنا مورچہ سنبھالنا پڑا اور پوری دنیا میں فرانس کے خلاف احتجاج ہونے لگا ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا بے حد ضروری ہے کہ عالمی طاقتوں نے اس بارے میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کی ہے اور نہ ہی ایسے امور انجام دینے میں کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔اسے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے اندر اسلاموفوبیا کے نام پر بہت سارے ادارے اور ایجنسیاں محو ہیں۔ اس کے برعکس اگر اس قسم کی غلطی کسی مسلمان سے سر زد ہوجائے تو انٹرنیشنل میڈیا ایسی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور پھر مختلف القاب سے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دہشتگردی اور کٹر پنتی کے نام دیے جاتے ہیں۔ 
یاد رکھیں کہ اقوام متحدہ کے 1948ء کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی دفعہ 18 کے مطابق "ہر آدمی خیال،ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق رکھتا ہے ‘‘لیکن اس اظہار خیال کی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ کوئی شخص دوسروں کی دل آزاری اور ان کے جذبات ،احساسات اور مقدسات سے کھلواڑ کرے۔ فرانس کے صدر نے اس گندی حرکت کی یہی تعبیر کی ہے کہ ہر انسان اظہار رائے کی آزادی رکھتا ہے اور اس کے لئے کسی قسم کی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا اور فرانسیسی اشیاء کو استعمال کرنے سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے فرانس کو ایک مذہب کے خلاف اناپ شناپ گفتگو کرنے سے اس بحران کا شکار ہونا پڑا ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ ایک جمہوری ملک کا دعویٰ کرنے کے باوجود ہندوستان فرانس کی اس بزدلانہ حرکت کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے اور اس بات کی تائید کرتا ہے کہ ہم فرانس کے ساتھ کھڑے ہیں۔دہشت گردی اور کٹر پنتی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر سچے معنوں میں اس بات پر غور کیا جائے تو دنیا میں حالات کو بد سے بدتر کرنے میںاسلام مخالف سرگرمیوںاور عالمی طاقتوں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کوہی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے کیوں کہ ایسے دلخراش واقعات ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیںاور ایسے لوگوں کے خلاف اعلیٰ حکام کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اس سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مفاد پرست اور خود غرض ارباب اقتدار دنیا میںفتنہ وفساد ہی کو اپنے لئے کامیابی سمجھتے ہیں۔
جب کسی ملک کے آئین کی توہین کرناقابل مواخذہ جرم ہے۔ جب کسی دیش کے بابائے قوم کی توہین و تضحیک کرنے والا سزا کا مستحق ہے ،جب کسی ملک کے جھنڈے کی بے حرمتی کرنا خلاف قانون حرکت مانی جاتی ہے تو اس دنیا کی نامور ہستی حضور اکرمؐ، جو عورتوں کے حقوق کے ضامن ومحافظ،رنگ ونسل کی امتیاز وفرق کو پیروں تلے دبانے اور دنیا کے بڑے سے بڑے مسائل کو چٹکی میں حل کرنے،دنیا کی تمام خوبیوں کے حامل انسان ،تمام دنیا کی ہستیوں اور قابل احترام، نبیوں،دانشورں،فلاسفروں اور حکماء میںاعلیٰ درجہ کے حامل رسول اکرمؐ کی اہانت وگستاخی لائق سزا اور واجب القتل جرم کیوں نہیں ہوگی۔
رابطہ۔ حسن پورہ باغ بجبہاڑہ کشمیر،6005903959