تازہ ترین

مزید خبریں

تاریخ    3 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

آیورویدک ڈسپنسری سلدھار کی حالت بیان سے باہر | 50 سال سے زائد عرصہ سے طبی مرکز کی عمارت نہ بن پائی

 
زاہد ملک
مہور//ضلع ریاسی کے سب ڈویژن مہور کے گاؤں سلدھار میں 50 برس پہلے ایک آیورویدک یا آئی ایس ایم ڈسپنسری قائم کی گئی تھی لیکن پانچ دہائیاں بیت جانے کے بعداس ڈسپنسری کی عمارت نہ بن سکی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ آیورویدک ڈسپنسری گزشتہ 50 سال سے زائد عرصہ سے ایک خستہ حال عمارت میں کرایہ پر چل رہی ہے لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس ڈسپنسری کی عمارت نہ بن سکی ہے جو افسوسناک بات ہے۔لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک ہی آیورویدک ڈسپنسری کلواہ،جمسلان،سلدھار،بٹھوئی،چکلاس،کنسولی،جملان،مالاں وغیرہ گاؤں کیلئے ہے لیکن یہ ڈسپنسری ایک خستہ حال عمارت میں کرایہ پر چل رہی ہے اوریہ عمارت کبھی بھی گر سکتی ہے۔اس عمارت کی حالت باہر سے دیکھ کر ہی اس کا اندازہ ہوجاتاہے ۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ انتظامیہ کے نوٹس میں بھی یہ معاملہ لایا لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے آئی ایس ایم نوڈل آفیسر ریاسی ڈاکٹر رویندر پنڈتا سے بات کی انہوں نے بتایا کہ سلدھار میں سرکاری اراضی موجود نہیں ہے اور انہوں نے مقامی سرپنچ سے بات کی ہے ،جیسے ہی عمارت کیلئے زمین دی جائے گی وہ ڈی پی آر بنا کے عمارت کی تعمیر کا کام شروع کریں گے۔
 
 
 
 
 
 
 

رام بن میں پارکنگ سہولت کافقدان 

 
ایم ایم پرویز
 
رام بن//پارکنگ کی جگہ کی کمی کی وجہ سے نجی گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیاں ضلع ہیڈ کوارٹر قصبہ رام بن کی انتہائی مصروف سڑکوں اور چوکوں پر پارک کر رہے ہیںجس سے راہگیروں اوردیگرلوگوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ نجی گاڑیاں اور کاریں ہائی وے پر کیفٹیریا موڑ سے پوسٹ آفس تک بے تکے طریقہ سے کھڑی دیکھی جاسکتی ہیں جس کے باعث جموں سرینگر قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور اکثر ٹریفک جام لگ جاتاہے۔قصبہ کے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں چلنے کاراستہ تک نہیں ملتا۔ان کا کہنا تھا کہ میونسپل کمیٹی رام بن نجی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جگہ کی نشاندہی کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے مالکان اپنی گاڑیاں متعدد مقامات جیسے عدالت روڈ، ڈاک بنگلہ روڈ، ڈسٹرکٹ ہسپتال کے دروازے کے باہر اپنی من مرضی پر پارک کر رہے ہیں۔ان کی شکایت ہے کہ بعض اوقات ہسپتال جانے والی ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں ملتا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور ٹریفک حکام سمیت متعلقہ ادارے ٹریفک کے آسانی سے بہائو کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اوریہ مسئلہ دن بدن بڑھتاہی جارہاہے ۔
 
 
 
 
 
 

ہیروئن کی بھاری کھیپ برآمد

جاوید اقبال
مینڈھر//پونچھ کے مینڈھرقصبہ میں پیر کے روز سیکورٹی فورسز نے ایک مقامی نوجوان کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے منشیات کی بھاری کھیپ برآمد کرنے کادعویٰ کیا۔سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس پونچھ رمیش انگرال نے بتایا کہ مینڈھر پولیس نے آرمی کی معلومات کی بنیاد پرپیر کوفوج کے تعاون سے شہر میں گورنمنٹ ڈگری کالج میندھر کے قریب ناکہ لگایا۔ایس ایس پی نے بتایا’’ چیکنگ کے دوران ایک مقامی نوجوان جس کی شناخت 24سالہ کرن دتا ولد کوشل دتاساکن دھرانہ کے طور پر کی گئی ہے،کے قبضہ سے تین پیکٹ برآمد کئے اور جانچ کے دوران پایاگیاکہ ان پیکٹوں میں ہیروئن ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایاکہ اس کاکل وزن 2.5 کلو گرام ہے۔انہوں نے بتایاکہ ایف آئی آر 258/20کے تحت دفعہ 8/21/22 این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت تھانہ مینڈھر میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا’’سرحد پار سے اسمگل کرنے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
 

مختصر علالت کے بعد رمیز کا انتقال | گول میں صف ِ ماتم بچھ گئی

گول//گول سے تعلق رکھنے والانوجوان رمیز گت و لد عبدالعزیز گت گزشتہ روز مختصر علالت کے بعد سرینگر میںوفات پا گیا۔ یہ جانکاہ خبرسن کر علاقہ گول میں صف ِ ماتم بچھ گئی۔رمیز کئی روز سے علیل تھا اہل ِ خانہ اُسے علاج کرانے کیلئے سرینگرلے گئے تھے لیکن چند ہی دن بعد رمیز گزشتہ روز اِس دارِ فانی کو الوداع کہہ گیا۔ رمیز کے وفات پرپورا علاقہ مغموم ہے۔ معتدد لوگوں نے رمیز کی وفا ت پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔گول کی صحافی برادری نے بھی رمیز کی وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمیز ایک خوش اخلاق، ہنس مکھ، با ادب، باشعور نوجوان ہونے کیسا تھ کیساتھ ایک اچھا کرکٹ کھلاڑی بھی تھا، رمیز کو کرکٹ سے حد درجہ لگائو تھا اور اُس نے کھیل کود کے شعبہ میں بہت آگے جانے کے خواب دیکھے تھے لیکن موت کے فرشتے نے اُس کے تمام خواب چکنا چور کر دیئے۔ 
 
 
 

ضلعی ترقیاتی کونسلوں کی 280نشستیں | پنچایت کانفرنس کا بطور آزاد امیدوار ، چناؤ میں شرکت کا فیصلہ

سرینگر// پنچایت کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ضلعی ترقیاتی کونسلوں کی 280 تمام نشستوں پر بطور آزاد امیدوار انتخابات میں شرکت کریں گے۔سرینگر کے ایوان صحافت میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنچایت کانفرنس کے چیئرمین شفیق میر نے کہا کہ پنچایتی راج ایکٹ میں ترمیم کرنے ، حکومت نے ایک دروازہ کھول دیا ہے،جبکہ تیسرے مرحلے پر اس ادارے میں سیاستدانوں کے داخلے کی راہیں ہموار کی گئی ہے لیکن ’’ہمانہیں ہمارے ادارے میں داخل نہیں ہونے نہیںدیں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اسی لئے انہوں نے ڈی ڈی سی کی تمام 280 نشستوں پر آزاد امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا اوران انتخابات کی تیاری آخری مراحل پر ہے۔انہوں نے کہا کہ انسیاستدانوں کو ان اداروںمیں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں گے کیونکہ یہوہ لوگ تھے جو ہمیشہ عوامی راج نظام کے خلاف رہیں۔میر نے کہا تمام سیاسی جماعتوں نے پہلے اور دوسرے مرحلے کے پنچایتی انتخابات 2018 جو اور 2019 میں ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا ہے لیکن تیسرے اور آخری مرحلے میں ان کیلئے دروازہ کھول دیا گیا ہے۔ شفیق میر نے کہا’’اب جب انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں ایک طرف کیا گیا اور وہ بے روزگار ہوگئے تووہ اس ادارے میں داخلے کی تیاری کر رہے ہیں۔
 لیکن ہم اجازت نہیں دیں گے‘‘۔شفیق میر نے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ان انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہیں کہا کہ ماضی کی بائیکاٹ پالیسی نے ہی ان داروں میں ناقابل لوگوں کو داخلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو احساس ہونا چاہئے کہ انہیں ہمیشہ سیاست دانوں نے  جعلی واعدوں سے گمراہ کیا
 
 
 

اُکڑال میں سرکاری اراضی پر تجاوزات |  محکمہ مال کی طرف سے بے دخلی کے احکامات کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہوئی

 محمد تسکین

 بانہال // ضلع رام بن کے تحصیل اُکڑال پوگل پرستان سرکاری اراضی پر ایک مقامی شخص کی طرف سے کھڑی کی گئی ناجائز تجاوزات کو ہٹانے میں ناکامی کے خلاف پانچل،پوگل پرستان کے لوگوں میں انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر رام بن سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پانچل کے لوگوں نے ڈپٹی کمشنر رام بن پر زور دیا کہ وہ تحصیل اُکڑال کے پانچل علاقے میں ریاستی اراضی پر ہونے والی تجاوزات کو جلد از جلد منہدم کریں کیونکہ محکمہ مال اور ایس ڈی ایم رامسو کی طرف سے ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کے احکامات کے باوجود زمینی سطح پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور یہ اراضی جس پر چوری چھپے تعمیرات کھڑا کی گئی ہیں مسلسل غیر قانونی قابضین کہ تحویل میں ہے۔ پانچل، پوگل پرستان کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹھاکر داس ولد ابتار چند نامی شخص نے گاؤں پانچل میں سرکاری اراضی خسرہ نمبر 425/1 پر قبضہ کیا ہوا ہے اور کچھ غیر قانونی تعمیرات بھی کھڑا کی گئی ہیں جبکہ اسی مقام پر دیگر قابضین کو پہلے ہی دستبردار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مورخہ 02 فروری 2020 کو جاری ایک سرکاری حکمنامہ نمبر 391-95 / Q کے تحت مذکورہ شخص کی طرف سے سرکاری اراضی پر جعلی ملکیت اور ملکیتی حقوق کو ختم کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ مال کے ریکارڈ میں ضروری اندراجات بھی کردیئے گئے ہیں لیکن زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور معاملہ جوں کا توں ہے۔
 
 
 

ضلع کونسل انتخابات کیلئے کی گئی حلقہ بندی عوام مخالف 

کانگریس کا گندوہ میں احتجاج، پارٹی کارکنوں کو بلا جواز ستانے کاالزام 

 

اشتیاق ملک 

ڈوڈہ //انتظامیہ کی جانب سے ضلع کونسل انتخابات کے لئے حلقہ بند کرنے کے معاملہ کو لے کر پردیش کانگریس کمیٹی نے احتجاج کرتے ہوئے اسے عوام مخالف قدم قرار دیا۔بی ڈی سی چیرمین چنگا محمد عباس راتھر کی قیادت میں مظاہرین نے کانگریس دفتر گندوہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ مخالف نعرے بازی کی۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے محمد عباس راتھر نے کہا کہ حالیہ دنوں ڈوڈہ ضلع کے سترہ بلاکوں کو چودہ حلقوں میں تقسیم کیا لیکن بیشتر بلاکوں میں حلقہ بندی عوامی رائے کے خلاف انجام دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بلاک بھلیسہ کی دو پنچایتوں (چنوری و سنو) کو پندرہ کلومیٹر دور چنگا حلقہ کے ساتھ منسلک کیا گیا جبکہ کاہرہ کی پانچ پنچائتوں کو ٹھاٹھری کے ساتھ جوڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بھاجپا کی ووٹ تقسیم کرنے کی سازش ہے جو کہ عوام کو قبول نہیں ہے۔انہوں نے ان پنچائتوں کو اپنے بلاک کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے کانگریس کارکنوں کو ستایا جارہا ہے اور غلط و بے بنیاد کیسوں میں پھنسایا جاتا ہے۔انہوں انتظامیہ کو انتباہ کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔اس موقعہ پر سابق سرپنچ سنو عشرت علی نے کہا کہ اگر ان دوپنچائتوں کو بھلیسہ کے ساتھ منسلک نے کیا تو جطوطہ علاقہ ضلع کونسل انتخابات میں بائیکاٹ کرے گا۔بلاک صدر کانگریس چنگا یاسر خان، الطاف حسین ملک، چوہدری نیک محمد، رنجیت سنگھ نے بھی انتظامیہ کے اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 عوام کو بے اختیار کرناحکومت کی ترجیح: ساگر | تعمیرترقی کا کہیں نا م ونشان نہیں،عوام مشکلات کے بھنورمیں

سرینگر//حکمرانوں کی توجہ لوگوں کے مسائل و مشکلات دور کرنا نہیں بلکہ جمو ں وکشمیر کے عوام کو ہر لحاظ سے بے اختیار کرنا اِن کی اولین ترجیح ہے اور تمام حکومتی مشینری اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ کس طرح سے کشمیریوں کو محتاج بنایا جائے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر سرینگر، بڈگام، اننت ناگ، گاندربل، پلوامہ، شوپیان اور کولگام سے آئے پارٹی عہدیداروں، کارکنوں اور عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ عوامی وفود نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل و مشکلات بیان کئے اور کہا کہ لوگ اس وقت گوناگوں مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں ، بجلی اور پانی کی سپلائی ہر گزرتے دن کیساتھ بدتر ہوتی جارہی ہے، تعمیر و ترقی کا کہیںنام و نشان نہیں، مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل عروج پر ہیں ، اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لانے کے باوجود بھی مسائل و مشکلات کا حل نہیں ہورہا ہے۔ وفود نے بتایا کہ کئی علاقوںمیں گذشتہ10رو زسے بجلی نایاب ہے بیشتر آبادیوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بہت سارے علاقوں میں ٹرانسفارمر بے کار ہوگئے ہیں لیکن حکام کی طرف سے ان ٹرانسفارمروں کی مرمت یا انہیں تبدیل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جارہی ہے اور آبادیوں کو گھپ اندھیروں میں رہنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔  علی محمد ساگر نے اس موقعے پر کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت براہ راست مرکز کی حکمرانی ہے اور یہاں کے لوگوں کو افسرشاہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیاہے۔ نئی دلی سے لیکر سرینگر سے تک حکمران اسی کوشش میں ہیں کہ کس طرح سے جموں و کشمیر کے عوام کو بے اختیار کیا جائے اور تمام سرکاری مشینری اسی عمل میں لگادی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئے روز نت نئے فیصلے لیکر جموںوکشمیر کو اندھیروں کی طرف دھکیلا جارہاہے جبکہ دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں لوگوں کو سبز باغ دکھائے جارہے ہیں۔ کبھی ’بیک ٹو ولیج ،کبھی ’میرا قصبہ میرا شان‘ تو کبھی 60ہزار بھرتیاں عمل میں لانے  کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر عوام کی راحت رسانی کیلئے کوئی بھی اقدام نہیں کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 60ہزار بھرتیاں عمل میں لانا تو دور کی بات ،یہاں جبری لوگوں کا روزگار چھینا جارہاہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ ایک طرف سمارٹ میٹروں کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا لیکن دوسری جانب بجلی نایاب ہے۔ حکمران پہلے بجلی کی سپلائی یقینی بنائے سمارٹ میٹر بعد میں بھی نصب کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرما نے ابھی دستک بھی نہیں دی ہے کہ بجلی کی سپلائی پوزیشن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے، شہر کے علاقوں میں پانی کی ہاہاکار ہے جبکہ دیہات میں پانی کی سپلائی کا اندازہ خود لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی ملازمین کئی کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ آئے روز سڑکوں پر احتجاج کے باوجود بھی انہیں ماہانہ مشاہرہ نہیں دیا جارہاہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ انتظامیہ صرف اور صرف ذرائع ابلاغ میں موجود ہے جبکہ زمینی سطح پر انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں اور افسر شاہی لوگوں کیلئے وبال جان بن گئی ہے ۔
 
 
 
 
 

قاضی گنڈ میں منی بس کو حادثہ | ڈرائیوراور کنڈیکٹر زخمی 

سرینگر// قاضی گنڈ میں ایک منی بس حادثے کا شکار ہوئی ہے جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور اور کنڈکٹر شدید زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ کولگام علاقے میںجموں سے سرینگر آ رہی ایک منی بس ٹاٹا407زیر نمبرJK01D 3873قاضی گنڈ میں زگ موڈ کے نزدیک سٹرک سے لڑک گئی  جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دو افرادزخمی ہوئے  ۔پولیس نے زخمی افراد کی شناخت ڈارئیورحیات احمد حجا م ولد محمدمقبول حجام ساکن گونی کھن سرینگر اورعرفان احمد ڈارولد شکیل احمد ساکن زانپہ کدل  چھتہ بل سرینگر کے طور کی ہے ۔اس دوران دونو ںزخمیوں کو فوری طور سرینگر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
 
 
 
 

 آغا حسن دوبارہ خانہ نظر بند

یواین آئی
بڈگام// انجمن شرعی شعیان کے صدر آغا سید حسن کو پیر کے روز ایک بار پھر خانہ نظر بند کردیا گیا۔موصوف صدر کی نظر بندی 14 ماہ بعد ماہ اکتوبر کی 2 تاریخ کو ختم کردی گئی تھی۔مذکورہ انجمن کے ذرائع کے مطابق آغا حسن گذشتہ کچھ دنوں سے 'ہفتہ وحدت' کے سلسلے میں منعقدہ مجالس میں شرکت کر رہے تھے اور اتوار کے روز انہوں نے ماگام کے یاگی پورہ علاقے میں منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔بتادیں کہ انقلاب ایران کے بانی حضرت امام سید روح اللہ خمینی کی ہدایت پر دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی ہر سال ماہ ربیع الاول کی 12 سے 17 ربیع الاول تک 'ہفتہ وحدت' منایا جاتا ہے اور انجمن شرعی شیعیان کی طرف سے اس سلسلے میں وادی بھر میں مجالس و تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔موصوف صدر انجمن نے اپنی نظر بندی کے بارے  میںبات کرتے ہوئے بتایا،’’مجھے پیر کی صبح ایک بار پھر خانہ نظر بند کر دیا گیا میرے مکان کے باہر پولیس گاڑی کو کھڑا کر دیا گیا ہے مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے بارے میں جب میں نے سوال کیا تو مجھے آئی جی پولیس کے ساتھ بات کرنے کو کہا گیا۔آغاحسن نے کہا کہ میری سرگرمیاں پر امن اور خالص دینی ہیں اور جن اجتماعات میں، میں گذشتہ چند دنوں سے شرکت کر رہا ہوں ان میں پیغمبر اسلام ؐ کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اتحاد امت کے موضوع پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بلا جواز دوبارہ نظر بند رکھنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ مداخلت فی الدین کے بھی مترادف ہے۔دریں اثنا لوگوں نے آغا صاحب کی دوبارہ نظر بندی پر اظہار برہمی کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آغا حسن کی قیادت میں 'ہفتہ وحدت' کے سلسلے میں منعقد ہونے والے اجتماعات متاثر ہوں گے جس سے ملی اتحاد کی ایک مخلص اور مضبوط کوشش کو زک پہنچے گا۔ایک شہری نے بتایا کہ آغا صاحب کا نہ صرف ضلع بڈگام بلکہ پوری وادی میں اتحاد بین المسلمین کی رسی کو مضبوط کرنے میں بہت بڑا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہفتہ وحدت کی مناسبت سے آغا حسن کی قیادت میں منعقدہ مجالس میں مختلف طبقہ ہائے فکر کے علما و دانشور ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اتحاد ملت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
 
 
 

ورکرس پارٹی برہم

 سرینگر// ورکرس پارٹی نے گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دینے کے حکومت پاکستان کے اقدام کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ جموں و کشمیر کا ایک اٹوٹ انگ ہے جو بھارت کا قانونی اور حق بجانب حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعے وہ 5 اگست2019 کے ہندوستانی اقدام کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ حقیقت ہے کہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے پہلے جموں و کشمیر پر حملہ کیا اور اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کے علاقے کو صو بے کا درجہ دینے کے اقدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کا کوئی خیر خواہ نہیں ہے اور وہ کشمیریوں کے مال وجان کے خاتمے کے لئے ایک طویل مدتی کھیل کھیل رہا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ جموں کشمیر ورکرز پارٹی اس اقدام کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے ۔
 
 

درماندہ  7,70,483 شہری واپس لائے گئے 

جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 7,70,483شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا  رہ کر یوٹی واپس لایا۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اَب تک بیرون ملک سے937مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اَب تک 155کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اَب تک بیرون یوٹی درماندہ  7,70,483شہریو ں کو کووِڈ۔19 وَبا سے متعلق تمام اَحتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا۔تفصیلات کے مطابق یکم نومبر 2020ء سے 2 نومبر 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے   8,763درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے۔اَب تک 134ریل گاڑیوںمیںیوٹی کے مختلف اَضلاع سے تعلق رکھنے والے 124,596درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اُودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 

تازہ ترین