تازہ ترین

ولادت باسعادت حضور پر نور ؐ… ایک پہلو

فخرِ موجودات

تاریخ    2 نومبر 2020 (30 : 12 AM)   


غلام حسن ماکنو، بارہمولہ
  ولادت باسعادت کے بارے میں مشہور قول یہ ہے کہ حضور پرنورؐ12ربیع الاول کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے لیکن جمہور محدثین اور مورخین کے نزدیک راجح اور مختار قول یہ ہے کہ حضورؐ ۸ ربیع الاول کو پیر یوم دوشنبہ مطابق ماہ اپریل570ھ مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت ابو طالب کے مکان میں پیدا ہوئے۔ یہ بات بھی مورخین کی جانب سے واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ ولادت با سعادت واقعہ فیل کے بعد پچاس یا پچپن روز کے بعدانجام پزیر ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی یہی منقول ہے کہ ۸ ربیع الاول ہی تاریخ انسانیت کا وہ روشن یوم ہے جس میں ولادت باسعادت منعکس ہوئی علامہ قطب الدین قسطلائی اور علامہ سہیلی نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
 عثمان بن ابی العاصؓ کی والدہ فاطمہ بنت عبداللہ فرماتی ہیں کہ میں آنحضرت ؐ کی ولادت کے وقت سیدہ آمنہ کے پاس ہی موجود تھی اس وقت میری آنکھوں نے یہ عجیب اور دِلکش نظارہ دیکھا تما م گھر نور سے بھر گیا اور دیکھا کہ آسمان کے ستارے جھکے آرہے ہیں پل بھر کے لئے یہ گمان گزرا کہ یہ ستارے مجھ پر آگریں گے۔ یہاں اس بات کو مزید واضح کرنے کی ضرورت اہمیت کی حامل اس لئے ہے کہ ستاروں کے زمین کی طرف جھک آنے میں اس ضمن میں اِشارہ تھا کہ اب عنقریب زمین سے کفر و شرک کی تاریکی دور ہوگی اور انوار و ہدایت سے تمام زمین روشن اور منور ہوگی کما قال اللہ تعالیٰ فی القرانِ الحکیم ’’ترجمہ۔ تحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے ایک نورِ ہدایت اور ایک روشن کتاب آئی ہے جسکے زریعے سے اللہ تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت فرماتا ہے جو رضائے حق کے طلبگار ہوں اور اپنی توفیق سے ان کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے۔المائدہ15۔16‘‘
 حضرت عرباض بن ساریہ ؐ جو ایک مشہور صحابی ہیں اور اصحاب صفہ میںشمار ہیں سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐکی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے ولادت باسعادت کے وقت ایک نور دیکھا جس سے شام کے محل روشن ہوگئے۔ ابن حبان فرماتے ہیں کہ روایت صحیح ہے اور اسی کے ہم معنی مسند احمد میں ابو امامہؓ سے بھی مروی ہے۔(فتح الباری) ایک اور روایت میں ہے کہ بصریٰ کے محل روشن ہوگئے۔
 ایک اہم نکتہ۔ حضور پْر نور ؐکی ولادت مکہ میں ہوگی، یہ بات ’’کعب احبار‘‘ سے منقول ہے کہ کتب سابقہ میں حضورؐ کی شان زکر کی ہے کہ ’’ محمدؐ اللہ کے رسول کی ولادت مکہ میں ہوگی اور ہجرت مدینہ میں ہوگی اور اِن کی حکومت اور سلطنت شام میں ہوگی۔ یعنی مکہ سے لیکر شام تک علاقہ آپؐ کی ہی زندگی میں اسلام کے زیر نگین آئے گا۔ چنانچہ شام آپ ہی کی زندگی اطہر میں فتح ہوا۔ عجب نہیں اسی وجہ سے ولادت باسعادت کے وقت شام کے محل دکھلائے گئے ہوں۔ اور بصرہ جو ملک شام کا ایک شہر ہے کہ وہ خاص طور پر اس لئے دکھلایا گیا ہے کہ علاقہ شام میں سب سے پہلے بصریٰ میں ہی نور نبوت اور نور ہدایت پہنچا ہے اور ملک شام میں سب سے پہلے بصریٰ ہی فتح ہوا۔ اور یہ بات بھی امکان کے عین مطابق ہے کہ ولادت باسعادت کے وقت شام کے محل دکھلانے میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ یہ ملک نور نبوت کا خاص طور پر تجلی گاہ ہوگا اور اسی وجہ سے آپ ؐ  کو اولاً مکہ مکرمہ سے شام یعنی مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی گئی۔ ’’ترجمہ:۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی کہ جس کے گرد ہم نے برکتیں بچھادی ہیں ‘‘ سورہ نبی اسرائیل آیت نمبر ۱
 قرآن پاک کی اس آیت سے اس بات کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے کہ ملک شام میں جو مسجد اقصی کے اردگرد واقع ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص برکتوں کو بچھا دیا ہے اور حضرت ابراہیم ؑنے جب اعراق سے ہجرت فرمائی تو شام کی کی طرف فرمائی اور قیامت کے قریب حضرت عیسی ؑکا آسمان سے نزول بھی شام ہی میں جامع دمشق کے منارہ شرقیہ پر ہوگا۔