تازہ ترین

حضرت محمد ﷺ | بحیثیت معلم ِ انسانیت اور طریقہ تدریس

محسن انسانیتؐ

تاریخ    2 نومبر 2020 (30 : 12 AM)   


ڈاکٹر محمد بشیر ماگرے
اللہ کے نبی ﷺ اس دنیا میں اُس وقت تشریف لائے جب جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہر سو چھائے ہوئے تھے۔انسانیت کے قافلے کی یہ حالت تھی کہ ’’ہلاک ہوا کہ ہوا‘‘ہر طرف مایوسی تھی۔جانور اور انسان میں امتیاز ان کی ظاہری ہیت کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور علم، معرفت کا اللہ کے ساتھ ایک دیپ جلایا جس نے اس تیرہ فضا کو نور ہی نور سے بھر دیا ! اور اب قیامت تک کیلئے جب بھی انسانیت کا قافلہ تاریکی و ظلمت میں دھنس جائے تو اسے نکالنے کیلئے اسی چراغ سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔حضرت رسول اکرم ﷺ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ جس بھی پہلو سے ان کو دیکھا جائے، درس ہی درس بلکہ سراپا شخصیت کے مالک ہیں۔ ہوں بھی کیوں نہ آپؐ رحمت العالمین جو ٹھہرے۔ بحیثیت شوہر،باپ، بیٹا ، امام ، معلم یا مدرس ہوں یا میدان جنگ میں سپاہ سالار ہوں، جھگڑوں میں ثالث ہوں،عدالت میں منصف ہوں یا کسی بھی پہلو سے، ہم قرآن و احادیث و تاریخ کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ہر گوشے میں معلمی کا درس اور درجہ ملتا ہے۔
جن کے کردارسے آتی ہو صداقت کی مہک، ان کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں۔کتاب موجود ہو ،طلباء بھی موجود ہوں اور معلم موجود نہ ہو تو ممکن نہیں ہے کہ محض کتاب سے طلباء علم حاصل کر سکیں۔اس لئے کتاب اور معلم لازم اور ملزوم ہیں۔بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے  انسانیت کی ہداہت کیلئے کتاب یعنی قرآن کے ساتھ ساتھ معلم یعنی اپنے محبوب نبی ﷺ کو دنیا میں بھیجا اور خود نبی ﷺ نے فرمایا ’ انما بعثت معلما‘ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ ۔آپ ﷺ نے سب سے پہلی درسگاہ دار ارقم کو بنایا تاکہ جو لوگ اسلام کو قبول کرنے والے اسلام کے دامن رحمت میں آئیں ان کی تعلیم و تربیت ہو سکے۔ یہ قافلہ جب ہجرت کرکے مدینے پہچا توآپ ﷺ ان کی تعلیم و تربیت سے اس وقت بھی غافل نہ ہوئے بلکہ آپ ﷺ نے وہاں پہنچ کر مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد باہر ایک چبوترہ تعلیم و تربیت کیلئے تعمیر کروایا۔ یہاں وہ طلباء اپنے علم کی پیاس بجھاتے جو اپنا سارا وقت حصول علم کیلئے دیتے وہ یہیں رہتے تھے۔اوٹو بسمارک حضور ﷺ کی تعلیم سے متاثر ہوکر کہا تھا ’’ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے ساتھیوں میں شامل نہیں تھا! اے محمد ﷺ انسانیت نے ایک ہی بار چنی ہوئی شخصیت کو دیکھا تھا۔پھر کبھی نہیں دیکھے گی! میں انتہائی خشو سے آپ ﷺ کے آگے جھکتا ہوں‘‘۔حضور ﷺ کے تدریسی کردار میں کاملیت، جامعیت، عملیت اور تاریخیت کے پہلو اجاگرہوتے ہیں۔
معلم انسانیت خود ان کی تعلیم و تربیت فرماتے تھے۔ان طالب علموں میں ہر طرح کے لوگ ہوا کرتے تھے ۔کوئی زیادہ ذہین کوئی اوسط، کوئی غریب اور مفلس، کوئی مالدار حتیٰ کہ کئی تو دوسرے ممالک کے طلباء بھی تھے۔ان سب کی ذہنی سطح اور حالات کو مدنظر رکھ کر ان سب کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے تھے۔آپ ﷺ کے طریقہ تعلیم کے چند نمایاں جز ہی میں پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ ان کو اپنا کر ہم اپنی آنے والی نسلوں کی بہترین تعلیم و تربیت کرسکیں۔ (۱) ذاتی تعلق و شفقت(۲)ذوق اور شوق(۳)قول و فعل میں یکسانیت(۴)فصاحت و بلاغت(۵)سوال و جواب کا طریقہ(۶)امثال اور قصوں کے ذریعے وغیرہ وغیرہ۔
ذاتی تعلق و شفقت:استاد کا جب تک شاگرد کے ساتھ ذاتی تعلق شفقت کی بنیاد پر نہ ہو تو تدریسی عمل برگ و بار نہیں لاسکتا!ذاتی تعلق و شفقت ہی وہ چیز ہے جو دل و ذہن کو استاد سے اکتساب علم کے لئے تیار کرتا ہے۔یہ خوبی حضور نبی پاک ﷺ میں خوب پائی جاتی تھی۔جو ایک بار آپ ﷺ سے ملاقات کرتا اس کے ساتھ نبی پاک ﷺ مسکراتے ہوئے ملتے۔ جب یہ ملاقات ختم ہوتی تو اگلی ملاقات کیلئے شوق پیدا ہو جاتا۔ہر فرد یہ سمجھتا کہ آپ ﷺ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ شفقت فرماتے ہیں۔
ذوق اور شوق: انسان جس کام کو توجہ اور لگن کے ساتھ کرتا ہے جس کام ہے جس کام کا اسے ذوق اور شوق ہو۔گویا یہ چیز کام کے کرنے کا محرک بن جاتی ہے۔اب یہ ذوق اور شوق پیدا کرنا ایک ماہر استاد کا ہی کام ہے۔ اسکے بغیر استاد سے اکتساب علم کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کہ بارش کسی پتھر پر بر ستی ہے۔معلم انسانیت ﷺ کا کمال یہ تھا کہ آپ ﷺ پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ کے اندر ذوق اور شوق پیدا فرماتے۔بار بار جنت کے تذکرے اس کے اندر نعمتوں کے حاصل ہونے کی باتیں یہ بالکل اسی طرح ایک ماہر کسان بیج بکھیرنے سے پہلے زمین کو ہموار و تیار کرتا ہے۔
قول و فعل میں یکسانیت: ایک بہترین اور اعلیٰ کردار کے انسان میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ جو کہے اس پر عمل بھی کرے، یہ اصول درس و تدریس میں مسلمہ ہے۔ایک استاد جو کچھ تدریس کے دوران اپنے شاگردوں کو بتا رہا ہے اس پر وہ خود عامل ہو! نبی ﷺ نے جو باتیں اپنے شاگردوں کو بتائیں اس پر عمل کر کے سب سے ذیادہ دکھایا۔ اگر آپ نے امانت اور دیانت یا ایفائے عہد کے بارے میں تلقین کی تو آپ  ﷺ کی حیات مبارکہ میں اس پر عمل کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔
فصاحت اور بلاغت: ایک ایسا استاد جو شاگردوں کی زبان سے ناواقف ہو یا اس پر اس کی گرفت کمزور ہو تو یہ کمزوری اسکے اس کام میں سد راہ بنے گی۔استاد تدریسی عمل کے دوران اچھے الفاظ اور جملے استعمال کرے اور دوران گفتگو اس بات کا جائزہ لے کہ اس کی بات طلاب کو سمجھ آرہی ہے کہ نہیں؟حضور ﷺ کا یہ وصف تھا کہ آپ ﷺ فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے کم الفاظ ہوتے ، چھوٹے چھوٹے جامع جملے ارشاد فرماتے تھے۔اگر کوئی چاہتا کہ الفاظ گن لے تو یہ کام آسانی سے ہوسکتا تھا۔ بہت ذیادہ اہم باتیں ہوتیں تو آپ ﷺ اس کو دوہراتے تاکہ سامع اس کو سمجھ کر آسانی سے یاد کرلے۔آواز نہ بہت پست ہوتی اور نہ آپ ﷺ چیخ کر بات کرتے۔خطبے یعنی کہ لیسن مختصر اور جامع ہوتے تھے جو سب کو ذہن نشین ہوجاتے۔
سوال و جواب کا طریقہ: آج کے Lesson Planning میںیہ طریقہ عام طور پر اپنایا جاتا ہے جسےQuestion Answer Session کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ کا طریقہ تدریس بڑا دلچسپ اور میاری ہوتا تھا۔آپ ﷺ حاضرین کی توجہ کو اپنی طرف مبذول رکھنے کیلئے دو طرفہ گفتگو کا عمل اپناتے تھے۔حاضرین سے سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھتے۔ بعض اوقات آپ ﷺ بات کو سمجھانے کیلئے خود ہی سوال کرتے اور پھراس کا جواب بھی ارشاد فرماتے؟ جیسے کہ ابوحریرہ رضوان اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے‘؟ حاضرین مجلس نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس نہ نقدی ہو نہ کوئی سامان ہی ہو! اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہوگا جو دنیا میں نمازی تھا، روزے دار تھا،اور ذکاۃ دیا کرتا تھا۔ان عبادات کے اجرو ثواب کے ساتھ میدان حشر میں آئے گا ۔اس کے ساتھ اس کا یہ حال ہوگا کہ دنیا میں کسی کو گالی دی تھی،کسی پر بدکاری کا الزام لگایا تھا، کسی کا مال ناحق کھایا تھا، کسی کی خون ریزی کی تھی اور کسی کو ناحق مارا تھا۔ان تمام لوگوں میں جن جن پر اس نے ظلم و ذیادتی کی تھی اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔پھر اگر مظلوموں کے حق ادا ہونے سے پہلے یہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس کے حساب میں ڈال دئے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔
امثال اور قصوں کے ذریعے: تعلیم و تربیت کیلئے ضروری ہے کہ استاد امثال اور قصے کہانیوں کے ذریعے اپنے شاگردوں تک معلومات ذہن نشین کرائے تاکہ وہ اس کے اخلاق کا حصہ بن سکیں۔ ہمیں سیرت نبوی ﷺ کے مطالعے سے باربار یہ بات ملتی ہے کہ آپ ﷺ سچے قصے بیان فرماتے اور بات کو سمجھانے کیلئے مختلف قسم کی دلچسپ مثالیں دیتے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ آجائے اور ذیادہ دیر تک یاد بھی رہے۔ مثال کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا ’’کہ اچھے ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے مشک بیچنے والا بھٹیارہ۔پس مشک بیچنے والا یا تو تمہیں مشک پیش کرے گا یا تم خود اس سے مشک خرید لوگے،یا (کم از کم) اس کے پاس سے خوشبو آرہی ہوگی۔ اور بھٹیارہ یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا یا (کم از کم) اس کے پاس سے بدبو تمہیں پہنچے گی ‘‘( متفق علیہ)
آج کے ماہرین تعلیم نے طالب علم کے ذہن سازی اور تعلیم و تربیت کیلئے کچھ طریقے اپنائے ہیں ،ان میں جو بھی بہترین طریقے ہیں اور جن سے آنے والی نسل تیار ہو رہی ہے ،ان کے اندر خوبیاں تو ان ہی بنیادی طریقوں کی وجہ سے ہیںجوکہ آپؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں انسانیت کی تعلیم و تربیت کے دوران کرکے دکھائے ہیں۔مگر آج ان طریقوں کو جزوی طور پر اپنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ثمرات پوری طرح ظاہر نہیں ہورہے ، اور آدھا تیتر آدھا بٹیر والی کیفیت سے قوم دوچار ہے۔موجودہ تعلیمی نظام کی بڑی خرابی کی سب سے بڑی وجہ ہمارا تعلیم کا نظام الٰہی مرکز نہیں رہاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام تعلیم کو مرکز الٰہی(خدا) کا مرکز مان کر بنایا جائے۔ تب جاکر ہر طرح کی کامیابی عمل میں آسکتی ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال ؒ شاعر مشرق نے اسی لئے تو بال جبرئیل میں واضع کردیا تھا:
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے 
غبار راہ کو بخشا فروغ  وادی سینا!   
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہ
(مضمو ن نگارکاتعلق راجوری جموںوکشمیر سے ہے اور وہ جغرافیہ کے پروفیسر ،ریٹائرڈ کالج پرنسپل ہیں)
 رابطہ۔ 9419171179 ،magraymb.1955@gmail.com