تازہ ترین

جموں کشمیر اور لداخ کے اثاثوں اور واجبات کا تقسیم نامہ

۔1956 کروڑ روپے لداخ منتقل، جموں وکشمیر بینک کے8.23حصص اور3 پاور پلانٹس مل گئے

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر// جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے نفاذ کی پہلی سالگرہ کے موقعہ پر مرکزی حکومت نے سابق جموں وکشمیر ریاست سے بنی دواکائیوں جموں وکشمیر اور لداخ کے درمیان اثاثوں اور واجبات کے تقسیم کو حتمی شکل دے دی ہے۔جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی دفعات کے تحت سابق ریاست جموں و کشمیر کے اثاثوں اور واجبات کو جموں و کشمیر اور لداخ کی دو اکائیوں میں تقسیم کیاجاناتھا۔مرکزی وزارت داخلہ نے آئی اے ایس سنجے مترا کی سربراہی میں ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ مشاورتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کردی ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ عمومی انتظامی نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے سیکشن 85 (2) کی رو سے جموں وکشمیر اور لداخ کے مابین ریاست جموں و کشمیر کے اثاثے، واجبات اور اسامیاں تقسیم کی گئی ہیں‘‘۔اطلاع کے مطابق تقسیم کے احکامات 31 اکتوبر سے نافذ ہوں گے۔
جموں وکشمیر بینک
نوٹیفکیشن کے مطابق لداخ UT کو جموں وکشمیر بینک میں 8.23فیصد حصص ملیں گے۔نوٹیفکیشن میں بتایاگیاہے’’جموں وکشمیر بینک لمیٹڈ دونوں مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اپنی حیثیت سے اپنی کاروائیاں جاری رکھے گا، جموں و کشمیر بینک لمیٹڈ میں 51 فیصد شیئر ہولڈنگ جموں و کشمیر UT کے پاس رہیں گے، باقی ماندہ 8.23 فیصد حصص ( ریاست جموں و کشمیر کی موجودہ شیئر ہولڈنگ کا 13.89فیصد حصہ) لداخ UT میں منتقل کیا جائے گا، جموں وکشمیر بینک کے بورڈ میں ڈائریکٹر کا ایک عہدہ لداخ UT کے لئے مختص کیا جائے گا‘‘۔
بجلی شعبہ 
تقسیم کے مطابق چوٹک اور نمو بزگو کے این ایچ پی سی پلانٹوں کی بجلی خریداری کے معاہدوں (پی پی اے) اور گیس پیدا کرنے والے اسٹیشنوں سے مزید 25 میگاواٹ کے پی پی اے ایس کو لداخ یو ٹی میں منتقل کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایاگیاہے’’جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے ایس پی ڈی سی ایل) اور چناب ویلی پاور پراجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ (سی وی پی پی ایل) کی لداخ UT میں واقع کسی بھی غیر منقولہ اثاثہ کو اسی جگہ پر منتقل کیا جائے گا جہاں اس کی بنیاد کسی ادارے کی ہے‘‘۔اس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر UT کی موجودہ پاور کارپوریشنز لداخ UT کی سہولیات کا کام جاری رکھے گی جب تک کہ لداخ UT میں کوئی نیا ادارہ تشکیل نہیں دیا جاتا یا نئے انتظامات کئے جاتے۔
افرادی قوت اور عہدوں کی تقسیم
جموں وکشمیر UT کی مجموعی افرادی قوت سے 325 اضافی گزیٹیڈ پوسٹیں لداخ UT کو منتقل کردی گئیںجبکہ مجموعی طور پر 3000 اضافی نان گزیٹیڈ پوسٹوں کو لداخ UT میں منتقل کردیا گیاہے۔
اثاثے
دیگر اخراجات کے تحت مالی اثاثوں میں سے1956 کروڑ روپے لداخ UT کو منتقل کردیئے گئے۔ سابق ریاست جموں و کشمیر کے سرمایہ دارانہ اثاثوں کی کتابی قیمت کو،جو جہاں ہے ،کے اصول کے مطابق لداخ UT کو منتقل کیا جائے گا۔
کمپنیاں / مالیاتی ادارے / PSUs
تقسیم کے مطابق جموں و کشمیر اسٹیٹ فنانشل کارپوریشن، گرامین بینک، جے اینڈ کے سمال اسکیل انڈسٹریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ، جے اینڈ کے شیڈیولڈ کاسٹ، شیڈول ٹرائب ،بیکورڈ کلاسز ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ، جے اینڈ کے ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن، اسٹیٹ کوآپریٹو بینک لمیٹڈسے لداخ UT کو 20 فیصد ایکویٹی اور 20 فیصد قرضوں کو منتقل کیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جے کے ایس آر ٹی سی صرف جموں و کشمیر UT کے لئے رہے گی۔ جے کے ایس آر ٹی سی سے لداخ یو ٹی کو ایکویٹی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ جے کے ایس آر ٹی سی کے مقررہ اثاثے، جو لداخ UT میں واقع ہیں، لداخ کے ذریعہ کسی بھی ادارہ کو منتقل کردیئے جائیں گے، جب یہ قائم یا نامزد ہوگا۔
واجبات
مالی واجبات 2504.46 کروڑ روپے جو مجموعی واجبات کا 2فیصد ہے ،لداخ کو منتقل کرنا ہے۔کمپنسیٹری ایفورسٹیشن فنڈ مینجمنٹ اینڈ پلاننگ اتھارٹی (CAMPA) کی رقم میں سے جموں وکشمیر اور لداخ یوٹی کوبالترتیب 117.67 کروڑ اور54.10 کروڑروپے ملیں گے۔ اصل رقم وزارت ماحولیات و جنگلات حکومت ہند تقسیم کرے گی۔بلڈنگ اینڈ ادرکنسٹرکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ (BOCWWB) جموں و کشمیر UT کے پاس رہے گا۔ 17.24 کروڑروپے، جو 22.03 کروڑ روپے کا نیٹ بیلنس ہے،کو لداخ UT سے موصول کیاگیا، ورکرز 11ویلفیئر 4.7133 کروڑ اخراجات اور 0.0764 کروڑ انتظامی اخراجات کو لداخ UT یا اس کے ذریعہ نامزد کردہ کسی ادارے کو منتقل کیا جانا ہے۔تاہم وقف املاک جموں و کشمیر UT کے پاس ہی رہے گی۔ جموں و کشمیر UT کے لئے حج کمیٹیاں جموں وکشمیر UT میں ہی رہیں گی۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایس کے آئی ایم ایس) سرینگر جموں و کشمیر UT میں اسی طرح کام کرتا رہے گا۔ جموں و کشمیر سوشل ویلفیئر بورڈ جموں و کشمیر UT کے پاس رہے گا، سوائے اس کے کہ لداخ UT میں مقررہ اثاثے جو ’جہاں ہے‘ کی بنیاد پر لداخ کے UT کو منتقل ہوجائے۔
بیرون ریاست واقع غیر منقولہ جائیداد
تقسیم کے مطابق جموں و کشمیر UT کے پاس 31 دسمبر 2021 تک بلاک بی سوئٹ کی تیسری منزل کے استعمال کاحق ہوگا جس کے بعد یہ لداخ UT کو مکمل طور پر منتقل ہوجائے گا۔ 5 پرتھوی راج روڈ نئی دہلی میں جے اینڈ کے ہائوس، راجاجی مارگ نئی دہلی میں پراپرٹی، گیسٹ ہاؤس، بی آر آئی ایل شالیمار باغ نئی دہلی، بابا کھڑک سنگھ مارگ نئی دہلی میں جے اینڈ کے ایمپوریم، امرتسر میں گیسٹ ہاؤس اور ایس سی او 28-31 سیکٹر 17-A چندی گڑھ میں جائیداد جے اینڈ کےUT کے پاس رہے گی۔ہائوس نمبر 36 سیکٹر 5-A چندی گڑھ، فلیٹ نمبر 32 اڈمینٹ بلڈنگ ممبئی، 11۔ انجینئرنگ بلڈنگ چوتھی منزل سلیٹر روڈ ممبئی اور جموں اور سرینگر میں ایل اے ایچ ڈی سی کی تمام جائیداد لداخ UT کے پاس رہے گی۔ جموں و کشمیر UT میں موجود گیسٹ ہاؤسز / سرکٹ ہاؤسز جموں و کشمیر UT کے پاس رہیں گے، لیکن جب بھی ضرورت ہو تو لداخ UT کے عہدیداروں کے استعمال کیلئے دستیاب ہوں گے۔
 

تازہ ترین