تازہ ترین

تسکین ِدل

افسانہ

تاریخ    1 نومبر 2020 (00 : 01 AM)   


رئیس احمد کمار
فاطمہ ہر گزرتے دن اپنی بدنصیبی کا رونا روتی تھی۔محلے والوں اور رشتےداروں کو دیکھ کر وہ اکثر دل آزردہ رہتی تھی۔انکے خوش و خرم اور صحت مند بچے جب بھی فاطمہ کی نظر سے گزرتے تھے تو فاطمہ کا دل اکثر مایوس ہو جاتا تھا۔
اسکا خاوند اقبال جب بھی کام پہ جاتا تھا اور جس گھر میں کام کی خاطر چلا جاتا تھا، اکثر وہ دل رنجیدہ ہو کر رہ جاتا تھا ۔وہ اکثر اسی سوچ میں پڑھا رہتا تھا کہ آخر بڑھاپے میں اولاد کی کمی تو محسوس نہیں ہو گی ؟ دونوں میاں بیوی اسی فکر میں پڑے رہتے تھے۔دونوں کئی عوارض میں مبتلا تھے۔اپنی دل آویزی کےلئے کتنے ہی حربے انہوں نے آزمائے سب بےکار اور ناکام ثابت ہوئے ۔
محلے میں ایک شخص قادر بھی پاس ہی رہتا تھا ۔اسکے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔شام کے قریب آٹھ بجے کا وقت تھا ۔فاطمہ باہر سے روڈ کے آئی اور تیزی سے اقبال کے کمرے میں گھس گئی ۔
ارے میاں ۔۔۔۔۔باہر کچھ شور سنائی دے رہا ہے جلدی سے پتہ کر کے آو کہ کہیں کسی ہمسائے کی موت تو نہیں ہوئی ہے۔
اقبال جلدی سے پتہ کر کے آ جاتا ہے ۔۔۔۔قادر کے دوسرے بیٹے کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔
فاطمہ ۔۔۔۔کیوں  ؟
اقبال ۔۔۔۔قصبے میں موبائل فون دوکان میں چوری ہوئی ہے اور قادر کا بیٹا یونس اس میں ملوث پایا گیا ہے۔ قادر کا بڑا بیٹا بھی اکثر آوارہ لڑکوں کے ساتھ دربدر پھرتا رہتا ہے۔ کوئی بھی کام نہ گھر کا نہ باہر کا کرتا ہے۔ اپنے دوستوں اور رشتےداروں میں بھی وہ بدنام ہے۔ کوئی اسکو پوچھتا تک بھی نہیں ہے۔  قادر کا تیسرا بیٹا عمران،  دسویں جماعت تک اچھا پڑھتا لکھتا تھا لیکن ماں باپ کے حد سے بڑھ کر لاڈپیار نے اسکو بھی خراب کیا ہے۔ جوں ہی گھر کا کوئی فرد ،دوست یا رشتہ دار اسکو نصیحت آمیز سبق سکھانے کی کوشش کرتا ہے وہ یکدم انکو واپس وار کرتا ہے اور انکی بات ماننے سے صاف انکار کرتا ہے۔۔۔۔۔
محلے کی اوقاف کمیٹی نے چند دن قبل ہی قادر کے چوتھے بیٹے ایاز کو ایک نوٹس جاری کی تھی ۔جس میں یہ لکھا تھاکہ " ایاز۔۔۔۔کتنی بار ہم نے تم کو نشیلی ادویات کا استعمال اور انکا کاروبار کرنے کی پاداش میں پکڑا اور پھر معافی دی۔آج ایک بار پھر ان ادویات سمیت تم کو اور تمہارے ساتھ دو اور لڑکوں کو ہماری کمیٹی کے تین ممبروں نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ بار بار تم کو سدھرنے کو کہا جاتا ہے مگر تم ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں ۔اب یہ آخری نوٹس ہے ۔دوبارہ پکڑے گئے تو ہم پولیس کو اطلاع دیں گے"
قادر کی اکلوتی بیٹی سائمہ بہت ہی قابل اور زہین لڑکی ہے ۔ وہ اسکول میں ہمیشہ امتحان میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے ۔ نتائج ظاہر ہونے کے دن اکثر اسکو اسکول میں انعامات ملتے رہتے ہیں ۔سب بچے سائمہ کی بے حد عزت کرتے ہیں ۔
ایک دن سائمہ اپنی جماعت کے کمرے میں اکیلی زور زور سے چیخ چیخ کے رو رہی تھی ۔جب باہر اسکول گراونڈ میں بیٹھے اساتذہ نے رونے کی آواز سنی ، وہ سب کمرے میں داخل ہوئے اور دریافت کرنے لگے کہ آخر ہوا کیا۔ وہ سب ڈنگ رہ گئے جب انہوں نے سائمہ کو روتے ہوئے دیکھا۔
سائمہ کیا ہوا ؟ کیوں رو رہی ہے؟ بولو۔۔۔۔۔ سائمہ بیٹی بولو۔۔۔۔
سائمہ ۔۔۔۔۔۔بڑی عاجزانہ انداز میں اور رو رو کے کہتی ہے۔۔۔۔۔۔ سر مجھے سب طعنے لڑکے لڑکیاں اسکول میں دیتے ہیں کہ تمہارے بھائیوں کو بار بار سماج دشمن کاموں میں ملوث پایا جاتا ہے ۔۔۔
سائمہ کی حالت دیکھ کر اساتذہ اسکو گھر ساتھ لے گئے اور ماں باپ کے حوالے کردیا۔
اگلے دن ماں باپ سائمہ کو اسکول جانے کےلئے کہا تو سائمہ نے اسکول جانے سے صاف انکار کردیا ۔وہ اکیلی گھر میں رہتی ہے ۔اسکے ماں باپ اسکے لئے بازار سے نئے کپڑے لانے کے لئے جاتے ہیں ۔
جب وہ شام کو واپس گھر پہنچتے ہیں تو سائمہ کو تمام کمروں میں ڑھونڈتے ہیں تو سائمہ کی لاش باتھروم میں لٹکی ہوئی پائی۔ اس نے خودکشی کی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے لئے یہ قیامت سے کم نہ تھا۔۔
ایک دن فاطمہ اور اقبال اپنے کمرے میں اسی سوچ میں پڑھے تھے کہ آخر اولاد کے بغیر کس طرح کی زندگی گزاریں گے۔ اقبال فاطمہ کو قادر کے بیٹوں اور اکلوتی بیٹی کی کہانی سناتا ہیں ۔دونوں بحث و مباحث کرنے کے بعد اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ ایسی اولادوں سے بہتر ہے کہ انسان بے اولاد ہی ہو ۔ اسطرح انکا دل تسکین ہو جاتا ہے ۔ 
���
بری گام قاضی گنڈ 
استاد گورمنٹ ہائی اسکول اندرون گاندربل