تازہ ترین

’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت تشدد اور نفرت پھیلانے کا باعث ہے: اقوام متحدہ

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


واشنگٹن//اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے دی یونائیٹڈ نیشنس الائنس آف سولائیزیشن (یو این اے او سی) نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے پیغمبرؐ کے ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔اقوام متحدہ کی مذکورہ تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ کی اشاعت کے بعد تشدد اور انتہاپسندی کے بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ذیلی ادارے کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ توہین آمیز مواد کی وجہ سے ہی تشدد میں اضافہ ہوا، جس کا نشانہ معصوم شہری بنے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ مذاہب، عقیدوں یا تہذیبوں کی تذلیل کیے جانے سے ہی تشدد، انتہاپسندی اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسے متنازع اقدامات سے دور رہ کر تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی پیدا کی جانی چاہیے۔ادارے کے سربراہ میگوئل اینجل موراتینوس نے اپنے بیان میں بتایا کہ آزادی اظہار، آزادی مذہب و عقائد، باہمی انحصار اور انسانوں کے مشترکہ حقوق سے متعلق تمام تفصیلات اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 18 اور 19 میں درج ہے، جن میں واضح ہے کہ آزادی اظہار کو کسی بھی مذہب یا عقیدے کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے ادارے کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے جس سے دنیا کے تمام مذاہب اور عقائد کا احترام مسخ نہ ہو۔میگوئل اینجل موراتینوس نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکلز پر عمل کرنا تمام ممبر ممالک کا فرض ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے فرانسیسی صدر یا وہاں کے سیاستدانوں کا ذکر کیے بغیر ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’گستاخانہ خاکوں‘ یا ’توہین مذاہب‘ کے معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔