تازہ ترین

کورونا وائرس| 24گھنٹوں میں566نئے معاملات

۔ 22852ٹیسٹ کئے گئے،ایک خاتون سمیت 5فوت، مہلوکین 1471،متاثرین94330

تاریخ    31 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //پچھلے24گھنٹوں کے دوران 22852تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں 566افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں اور اسطرح متاثرین کی مجموعی تعداد94ہزار کا ہندسہ پار کرکے 94330تک پہنچ گئی جن میں 37628جموں جبکہ 56702کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ 5تازہ ہلاکتوںکے ساتھ ہی متوفین کی مجموعی تعداد 1471ہوگئی جن میں493جموں جبکہ 978کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ 566متاثرین میں 347کشمیر جبکہ 219جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔کشمیر کے 347متاثرین میں 141 سرینگر،26بڈگام، 66بارہمولہ، 20 پلوامہ، 25کپوارہ، 12اننت ناگ، 14با نڈی پورہ، 28گاندربل، 3کولگام اور 12شوپیان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جموں صوبے کے 219متاثرین میں 109ضلع جموں، 5راجوری، 30ادھمپور، 14ڈوڈہ، 14کٹھوعہ، 8پونچھ، 6سانبہ، 19 کشتواڑ،7رام بن اور 7ریاسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
 5اموات
پچھلے 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید 5افراد فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں 3کشمیر جبکہ 2جموں صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر صوبے میں فوت ہونے والے 3متاثرین میں ایک سرینگر، ایک بارہمولہ اورکپوارہ سے تعلق رکھتا ہے۔ سرینگر میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’نور باغ سے تعلق رکھنے والا 50سالہ شخص کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا سے فوت ہوگیا ہے‘‘۔کپوارہ میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’’ چوگل ہندوارہ سے تعلق رکھنے والی ایک 55سالہ خاتون کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا سے صدر اسپتال میں فوت ہوگئی‘‘۔بارہمولہ میں تعینا محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ کے کالونی سوپور سے تعلق رکھنے والا ایک 60سالہ شخص جی ایم سی بارہمولہ میں فوت ہوگیا ہے۔ جموں صوبے میں کورونا وائرس سے ایک جموں اور ایک ڈوڈہ سے تعلق رکھتا ہے۔ 
حکومتی بیان
 حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے94330معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے6835سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک86024اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد1471تک پہنچ گئی ،جن میں سے 978کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور493کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران جمعہ کو مزید654افرادشفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے277اَفراداور کشمیر صوبے کے 377 اَفرادشامل ہیں۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 2284588ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  30؍اکتوبر 2020 ء؁ ء کی شام تک 2190258نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اَب تک6,55274افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ اِن میں16336اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔6835  اَفراد کوآئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ45064اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اِسی طرح بلیٹن کے مطاب585568اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔
 
 

۔ 489 افرادآئیسولیشن وارڈوں میں زیر علاج،318 آکسیجن پر

پرویز احمد 
 
 سرینگر //کشمیر صوبے کے 25سرکاری اسپتالوں میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص آئیسولیشن وارڈوں کے2197بستروں میں سے489پر ابھی بھی مریض زیر علاج ہیں۔ ان میں318کو سانس لینے کیلئے آکسیجن درکار ہے۔ کشمیر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال سکمز صورہ کے آئیسولیشن وارڈوں میں دستیاب252بستروں پر 98مریض موجود ہیں جن میں سے 78کو آکسیجن کی ضرورت پڑرہی ہے۔صدر اسپتال کے 221بستروں میں سے 79پر مریض موجود ہیں ۔ ان سب مریضوں کو سانس لینے کیلئے آکسیجن کی ضرورت پڑرہی ہے۔سپر سپیشلٹی اسپتال شرین باغ میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے 15بستر دستیاب ہیں۔یہاں ایک مریض آکسیجن پر ہے۔ سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ کے آئی سولیشن واڑدوں میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے 87بستر دستیاب ہیں جن میں سے 30بستروں پر مریض موجود ہیں۔ ان میں سے20کو سانس لینے کیلئے آکسیجن کی ضرورت پڑرہی ہے۔ کشمیر نرسنگ ہوم میں کورونا وائر مریضوں کیلئے 50بستر مخصوص ہیں لیکن یہاں بھی صرف 11مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 3کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جے وی سی بمنہ کے آئیسولیشن وارڈوں میں ایک 150بستر دستیاب ہیں جن میں 40پر مریض زیر علاج ہیں جن میں28کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ رعناواری اسپتال کے آئیسولیشن وارڈوں میں 139بستر کورونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص رکھے گئے ہیں لیکن ان میں سے صرف 10بستروں پر مریض زیر علاج ہیں۔ان میں 3کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ میں کورونا وائرس مریضوں کیلئے 50بستر دستیاب ہے ۔ ان میں سے 48پر مریض موجودہیں جن میں 30کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔ سب ضلع اسپتال سوپور کے مختلف آئیسولیشن وارڈوں میں 141بستر دستیاب ہیں جن میں 6بستروں پر موجود مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ سی ایچ سی کپوارہ میں 100بستر دستیاب ہیں ۔ یہاں 14مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 13کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ جی ایم سی اننت ناگ میں 64بستر دسیتاب ہیں جہاںداخل سبھی 10مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ضلع اسپتال پلوامہ کے آئیسولیشن وارڈوں میں 90بستر دستیاب ہیں ۔ یہاں 20متاثرین زیر علاج ہیں جن میں سے 9کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ضلع اسپتال گاندربل کے آئیسولیشن وارڈوں میں 90بستر دستیاب ہیں اور یہاں 15متاثرین زیر علاج ہیں جن میں 9کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔ کشمیر کے9 سرکاری اسپتالوں این ٹی پی ایچ سی آکورہ مٹن، ضلع اسپتال شوپیان، سی ایچ سی دیور اور دیگر سرکاری اسپتال شامل ہیں۔ 
 

جموں میں بین ضلعی شبانہ 

نقل و حرکت پر قدغن

نیوز ڈیسک
 
جموں //جموں و کشمیر انتظامیہ نے جمعرات کو جموں صوبے میں کورونا وائرس کو قابو کرنے کیلئے رات کے وقت غیر ضروری کاموں کے سلسلے میں بین ضلعی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ ششما چوہان کی جانب سے آفات سماوی قانون کے تحت جاری کئے گئے حکم نامہ میں غیر ضروری کاموں کیلئے رات 10بجے سے لیکر صبح 5بجے تک پابندی عائد کی ہے جو 30نومبر تک جاری رہے گی۔ حکم نامہ میں بتایا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو آئی پی سی کی دفعہ 188کے تحت سزا دی جائے گی۔