تازہ ترین

جموں کشمیر کے زرعی قوانین میں ترامیم کیخلاف سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل

تاریخ    28 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ڈوگرہ ثقافت کیلئے خطرہ قرار،جموں کی جماعتیں برہم

سید امجد شاہ
 
جموں// جموں و کشمیر کے لئے نوٹیفائی کئے گئے ا راضی قوانین مسترد کرتے ہوئے سیاسی اور سماجی تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے نئے قانون کو ’ڈوگرہ ثقافت‘ کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔جموں یونیورسٹی کے لا سکالر اور پیرپنچال کے سماجی کارکن سہیل ملک نے کہا’’ ہم ایسے قوانین کو مسترد کرتے ہیں، یہ ایک غیر آئینی اقدام ہے جس کو واپس پلٹنا چاہئے، لوگوں میں سخت ناراضگی ہے‘‘۔کانگریس پارٹی ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ وہ نئے اراضی قوانین کو مسترد کرتے ہیں جس میں سب کو جموں و کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت دی گئی ہے جو بی جے پی کی یقین دہانیوں کے خلاف ہے۔شرما نے کہا’’لوگوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کو زمین اور ملازمت کے حق پر تحفظ حاصل ہوگا، یہاں تک کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد بھی‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’یہ خدشات درست ہوچکے ہیں اور بی جے پی حکومت نے سابق ڈوگرہ ریاست میں مفادات، ثقافت اور لوگوں کی شناخت کی قیمت پر اراضی کی فروخت میں آسانی فراہم کی ہے‘‘۔جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی (جے کے این پی پی) چیئرمین ہرش دیو سنگھ نے کہا ’’بی جے پی کے ذریعہ جمو ں وکشمیر کو فروخت کیا جارہا ہے، ہم لوگوں سے جاگنے کی اپیل کریں گے‘‘۔سنگھ نے کہا’’انہوں نے لوگوں کی خواہشات کے خلاف ہم پر قانون نافذ کئے، وہ براہ راست دہلی سے قانون بنا رہے ہیں‘‘۔اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے کہا’’ یہ لوگوں کے ساتھ غداری ہے، نئے زمینی قوانین ڈوگرہ ثقافت کے لئے خطرہ ہوں گے، یہ ڈوگرہ ثقافت پر حملہ ہوگا‘‘۔ بی جے پی رہنما نئے قوانین پر کوئی تبصرہ کرنے کو تیار نہیں ۔تاہم چیئرمین اِک جٹ جموں نے نوٹیفکیشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا’’خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد ایسا ہونا لازمی تھا‘‘۔ نوجوان کارکن کنول سنگھ نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا’’خصوصی تشخص کے خاتمے کے بعد ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ جموں و کشمیر میں زمین اور ملازمتوں کی حفاظت ہوگی، جب ملک کی دیگر ریاستوں نے زمین کے تحفظ کے لئے سخت قوانین بنائے ہیں تو جموں و کشمیر کو زمین کے حقوق ترک کرنے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ ،بیرونی لوگوں کے لئے زمین کھولنے سے جموں و کشمیر کا استحصال ہوگا‘‘۔جموں ویسٹ اسمبلی موومنٹ (جے ڈبلیو اے ایم) کے صدر سنیل ڈمپل نے جموں و کشمیر کے تمام سیاستدانوں کو ایک جذباتی ویڈیو میںریاست کی بحالی کے لئے متحد ہونے اور حقوق کے تحفظ کے لئے متحدہ جدوجہد کرنے کی اپیل کی ہے۔ڈمپل نے تمام سیاسی جماعتوں سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’حقوق کی بحالی کے لئے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے جو چھین چکے ہیں‘‘۔ڈمپل جذباتی ہو گئے اور یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ’’ہماری شناخت چھین لی گئی ہے اور کشمیر اور جموں کے سیاسی رہنماؤں کو متحد ہونا چاہئے‘‘۔
 

ترمیم ڈاکہ زنی کے مترادف: یچوری 

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی//کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے جموں کشمیرمیں اراضی سے متعلق قوانین میں ترامیم کو شاہراہ پر ڈاکہ زنی سے تعبیرکیا ہے۔ایک ٹوئٹ میں یچوری نے کہا ،’’یہ شاہراہ پرڈاکہ زنی ہے ۔جموں کشمیرکے وسائل  اوریہاں کے خوب صورت اندرونی مناظر کی لوٹ ہے۔لوگوں کے تمام جمہوری ڈھانچوں کی تباہی کے بعد کیااگلا قدم جبری طور لوگوں کی اراضی کو حاصل کرکے اپنے یاردوستوں کے ہاتھ دینا ہے تاکہ حکمران جماعت کی جیبیں بھری رہیں؟اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
 

گپکار عوامی اتحاد تمام محاذوںپر لڑیگا:سجاد لون

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//’گپکار عوامی اتحاد‘ نے جموں کشمیر اراضی قوانین واپس لینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں کشمیراور لداخ کے پشتینی باشندوں کو جو حق دیا گیا تھا، ختم کر کے اسے غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے کا امتیازی حق غیرریاستیوں کو دیاگیا ہے۔ ترجمان سجاد غنی لون نے مرکزی وزارت داخلہ کے اس حکم کو ایک دھوکے سے تعبیرکیااورکہا کہ یہ مکمل طورغیرآئینی ہے ۔اتحاد نے اس عزم کااظہار کیا کہ وہ اس کیخلاف تمام محاذوں پر لڑے گا۔انہوں نے کہا کہ بڑی جاگیروں کی منسوخی کے قانون کو واپس لینا ،جوزرعی اصلاحات کابرصغیر میں پہلا قدم تھا،ہزاروں مجاہدین آزادی، جنہوں نے شخصی راج کے خلاف لڑاتھا،کی قربانیوں کی ناقدری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیرآئینی اقدامات واضح طور عدالت عظمیٰ میں5اگست2019کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے خلاف عرضی کے نتائج پراثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے ۔
 

جموں وکشمیر برائے فروخت :عمر عبداللہ

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے نئے اراضی قوانین کو مسترد کرتے ہوئے اسے جموں کشمیر کو فروخت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے اراضی ملکیت قانون میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر زرعی اراضی کی خریداری اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا کر جموں وکشمیر کو اب فروخت کرنے کیلئے رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے نئے متعارف کئے قوانین میں ڈومیسائل کی صورت میں رکھی گئی تھوڑی سی رعایت کا بھی خاتمہ کیا ہے۔ عمر نے کہا کہ جموں وکشمیر کی اراضی کو اس طرح سے فروخت کیلئے رکھنا اُن آئینی یقین دہانیوں اور معاہدوں سے انحراف کرنا ہے جو جموں و کشمیر اور یونین انڈیا کے درمیان رشتوں کی بنیاد ہیں۔ یہ اقدامات اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی شناخت ، انفرادیت اور اجتماعیت کو ختم کرنا ہے۔ ایسے اقدامات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نئی دلی کو جموں وکشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ان کو یہاں کی زمین کیساتھ مطلب ہے۔ 
 
 
 

وسائل پر قبضہ کرنے کی مذموم کوشش:محبوبہ مفتی

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں زمینوں سے متعلق جاری نوٹیفکیشن حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب زمینوں کی کھلے عام فروخت کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے۔
 

حقوق کی جد و جہد جاری رہے گی: بخاری

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //اپنی پارٹی چیئر مین سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کے شہریوں کیلئے اراضی اور ملازمتوں پر جامع ڈومیسائل حقوق کے ساتھ ساتھ ریاستی درجہ کی بحالی پر پارٹی موقف دوہراتے ہوئے اِس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اُن کی جدوجہد جاری رہے گی اور پارٹی ہر اُس قدم کی مزاحمت کریگی جوجموں وکشمیر کے شہریوں کے مفادات کے خلاف ہوگا۔ بخاری نے کہاکہ حکومت ِ ہند کی طرف سے جموں وکشمیر میں اراضی حقوق سے متعلق جاری گزٹ نوٹیفکیشن کو بغور مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تحفظات ملک کی اعلیٰ قیادت کے سامنے پیش کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ’’روزِ اول سے ہی پارٹی کا اہم امور پر موقف واضح ہے، لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ضمانت شدہ آئینی حقوق بہت پہلے لے لئے گئے ہیں اور جوکچھ بچا تھاوہ بھی دفعہ 370اور35Aکی منسوخی کے ساتھ5اگست 2019کو چھین لیاگیا ۔ انہوں نے مزید کہا’’ہم زمین سے متعلق ریاستی درجہ کی بحالی اور زمین سے متعلق ڈومیسائل قوانین جس سے ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر کے باشندوں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنے، کے وعدہ بند ہیں‘‘۔
 
 

اراضی قوانین میں ترمیم 

دن دہاڑے ڈاکہ زنی: تاریگامی

سرینگر//کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی محمدیوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ اراضی قانون میں ترامیم دن دہاڑے ڈاکہ ہے۔ تاریگامی نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا ِ’’یہ جموں کشمیرکے لوگوں کو مزیدبے اختیارکرنے کی کڑی ہے اوران کی اراضی کو کارپوریشنوں کو خریدنے کیلئے بہم رکھنا ہے ۔یہ سلامتی، ترقی اورقومی یکجہتی کے نام پردن دہاڑے ڈاکہ ہے ۔ادھر سی پی آئی (ایم)کے سیکریٹری غلام نبی ملک نے کہا ہے کہ جموں کشمیرمیں اراضی سے متعلق مرکزی حکومت کے نئے قوانین نے جموں کشمیرسے باہر کے لوگوں کویہاں زمین خریدنے کی راہ ہموار کی ہے جس سے  دفعہ370اور35Aکومنسوخ کرنے کے پیچھے بھاجپا کے اصلی ارادے عیاں ہوگئے ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرکے آئین کوختم کرکے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کرنے کامقصد جموں کشمیرمیں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب ایسے قوانین سے یہ صاف ہوتا ہے ۔یہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جوابھی بھی بھاجپا حکومت کے جموں کشمیر سے متعلق ارادوں سے خوش فہمی میں مبتلاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ جب1927میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی ڈوگرہ اور کشمیری پنڈت تعلیم یافتہ تھے اورانہوں نے اقامتی ضمانت حاصل کی۔انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی باہر والایہاں زمین نہ خریدسکے اور نہ ہی ملازمت حاصل کرسکے ۔مہاراجہ نے1927میں اسٹیٹ اسبجیکٹ قانون کانفاذعمل میں لایا ۔کسی نے مخالفت نہیں کی ۔انہوں نے کہا کہ5اگست2019کو مرکزی حکومت کے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کرنے کے فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ میں رٹ پٹیشن پر سماعت ہورہی ہے اورنئے قوانین کو لاگوکرنا عدالت کی توہین کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کیسے ایک ایسے معاملے جو عدالت میں زیرسماعت ہو،پر حکم جاری کرسکتی ہے ۔
 

کانگریس ان چالوں کا مقابلہ کرے گی:مونگا

سرینگر //جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اور سابق ایم ایل سی غلام نبی مونگا نے مرکز کے ذریعہ جاری کردہ نئے اراضی قوانین کو ناقابل قبول اوربلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدام کی سخت مخالف کریں گے ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کہ پچھلے سال سے نئی دہلی میں موجود بی جے پی حکومت متواتر نئے نئے حکم نامے جاری کر رہی ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو نفسیاتی طور پر مزید اذیتیں دی جا رہی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف حکام عوام کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کے دعویٰ کر رہی ہیں، وہیں دوسری جانب نئے قوانین جاری کر کے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ذلیل و خوار کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس ان چالوںکا شدت اور سختی کے ساتھ  مقابلہ کرے گی ۔ کانگریس کے رہنما نے کہا کہ تازہ ترین فیصلے نے جموں و کشمیر کے باشندوں کی شدید تنقید کو جنم دیا ہے ، جو نئے قوانین کو خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے بی جے پی حکومت سے نئے قوانین کے اجراء سے قبل سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کے نتائج تک انتظار کرنے کو کہا۔ مونگا نے پوچھا ،’’جب معاملہ پہلے ہی عدالت میں ہے تو بی جے پی حکومت اس موضوع سے متعلق نئے احکامات ، نوٹیفیکیشن اور قوانین کس طرح جاری کرتی ہے۔‘‘ 
 

 نئی نوٹیفیکیشن آسمانی بجلی کے قہر جیسے ٹوٹی: حکیم 

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے جموں وکشمیر میں حصول اراضی سے متعلق جاری کی گئی نئی نوٹیفکیشن پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اِسے آسمانی بجلی کے قہر جیسے گرنے سے تعبیر کیاہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ایسا کر کے سارے جموں وکشمیر کو غیروں کے ہاتھوں بیچنے کے لئے کھلا چھوڑ دیاہے۔ انہوں نے کہا  جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے مرکزی حکومت کو جموں وکشمیر کے نازک اور پیچیدہ آئینی، سماجی وسیاسی معاملات سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔  ایک بیان میں حکیم یاسین نے مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر میں حصول اراضی سے متعلق جاری کی گئی نوٹیفکیشن پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پر زور مطالبہ کیا کہ مذکورہ متضاد حکم نامے کو فوری طور واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے حصول اراضی سے متعلق مذکورہ حکم نامہ آسمان سے اچانک قہر کی بجلی گرنے کے مترادف ہے اور وہ اس نئے قانون کو مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ ایک اور وعدہ خلافی اور دغابازی سے تعبیر کرتے ہیں۔ پی ڈی ایف چیرمین نے واضح کیا کہ جموں وکشمیر کے لوگ یک زبان اپنی انفرادی سماجی، سیاسی، علاقائی و مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنی زمین، سرکاری ملازمتوں اور ریاستی تشخص کی بحالی اور اپنے آئینی حقوق کا کسی بھی صورت میں پورا پورا تحفظ چاہتے ہیں جس میں کسی بھی دو رائے کی کوئی گنجائش نہیںہے۔  حکیم یاسین نے مرکزی حکومت پر پھر ایک بار واضح کیا  کہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے آئینی حقوق کے ساتھ بے جا کھلواڑ کرنا ترک کریں تاکہ ملک کے تئیں جموں وکشمیر کے لوگوں میں پائی جا رہی بدگمانیوں اور شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکے۔
 

اسرائیلی پالیسی: جمعیت ہمدانیہ

  سرینگر//جموں وکشمیر جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ میرواعظ کشمیر مولانا ریاض احمد ہمدانی نے پورے بھارت کے عوام کو جموں وکشمیر میں زمین خریدنے کا اہل بنانے کے حکومت ہند کے تازہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کی مذموم سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار روز اول سے ہی بھگوا جماعتوں کی آنکھوں کا کانٹا رہا ہے ۔ مولانا ہمدانی نے کہاکہ کشمیر ایک بین الاقوامی سیاسی مسئلہ ہے جو ابھی بھی سلامتی کونسل میں حل طلب ہے اور ایسے اقدامات کرکے یہاں کا آبادیاتی تناسب بگاڑنا نہ صرف آئین ہند بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے حکومت ہند پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر میں اسرائیلی طرز عمل کی پالیسی کو یکسر ختم کرکے جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق فوری طور پر بحال کریں۔ ریاست کی تمام دینی جماعتوں نے بھی اراضی قوانین میں تبدیلی کیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
 

 

تازہ ترین