تازہ ترین

صحت و عافیت!!

انسان کیلئے قدرت کا سب سے بڑا عطیہ

تاریخ    28 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
کیا یہ معمولی نعمت ہے کہ انسان اپنے گھر سے ہاتھ ہِلاتا ہوا ،مضبوطی سے قدم رکھتا ہوا نکلے،ہموار سانسیں اُس کے پھیپھڑوں میں اُبھر رہی ہوں،اُس کی آنکھیں دور دور تک دیکھ رہی ہوں اور اُس کے کان کی نقل و حرکت سُن رہے ہوں ؟ یہ عافیت جس میں ہم لطف اندوز ہورہے ہیں کوئی معمولی چیز نہیں۔ہمیں حاصل ہونے والی نعمتیں کتنی زیادہ گِر ا نقدر ہیں، چاہے ہم اُن سے آنکھیں بند ہی کیوں نہ کرلیں۔ہمیں جو جسمانی صحت ،اعضا ء کی سلامتی اور پورے حواس دئے گئے ہیں ،ہم اُن سے غافل ہیں۔اس لئے نہ تو اس پُر لطف زندگی کا مزا چکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے آقا اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے ہیں۔جس نے ہمیں اتنی ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو ان نعمتوں سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں،کوئی ایک لقمہ کھا کر بھی پریشان ہے کہ اس کی قوت ِ ہاضمہ ہی جواب دے چکی ہے ،کسی کے اعضا ء پورے نہیں ،کسی کا دماغ اچھی طرح کام نہیں کرتا ،کوئی کسی مرض میں مبتلا ہے اور کوئی کسی پریشانی میں۔اگر ہم سارے امراض سے محفوظ ہیں تو کیا قدرت نے ہمیں معمولی دولت سے نوازا ہے اور کیا اس کا حساب نہیں لیا جائے گا ؟اللہ تعالیٰ جتنا کچھ ہمیں دیتا ہے اُسی کے بقدر ہمیں مکلف بھی بناتا ہے ۔یہ غلطی ہے کہ ہم اپنا سرمایہ اس سونے چاندی او ر زمین و جائیداد کو سمجھیں جو ہم نے جمع کر رکھی ہے ۔ہمارا اصل سرمایہ تو وہ ساری صلاحیتیں ہیں جن سے قدرت نے ہمیں مصلح کیا ہے ،جیسے ذہانت ،صلاحیت طاقت اور آزادی وغیرہ اور سب سے بڑی نعمت اچھی صحت اور عافیت ہے جس کی بدولت ہم زندگی سے جیسے چاہیں لطف اندوز ہوسکتے ہیں لیکن اکثر لوگ اس دولت کی جو اُنہیں بلا شرکت غیرے حاصل ہے کی بے قدری کرتے ہیں ،یہ بے قدری اور ناشکری قابل مذمت اور لائق ِمواخذہ ہے۔دراصل جو کچھ ہمارے پاس ہے اُس کا ہم بہت کم خیال رکھتے ہیں اور جو کچھ ہمیں حاصل نہیں ہے اس کے بارے ہم دن رات سوچتے رہتے ہیں۔
اکثر لوگ صحت کی اہمیت کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے اور جب صحت خراب ہوجاتی ہے تب اُس کی قدرقیمت سمجھ میں آتی ہے۔چونکہ عرصہ سے صحت کے عادی ہوتے ہیں اس لئے اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بندوں کی لاپرواہی کی وجہ سے کسی حقیقت کو باطل نہیں کرتا ،وہ ساری چیزوں کا حساب لے کر رہے گا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ،انسان قیامت کے دن اتنے نیک عمل کے ساتھ آئے گا کہ اگر کسی پہاڑ پر مقابلے میں رکھ دئے جائیں تو نیک اعمال کا پلڑا جھُک جائے،تب اللہ کی نعموتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہوگی اور اس کے بدلے ہی میں اُ س کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی اگر اُسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نہ نوازدیں۔‘‘اسلام زندگی کو ایک نعمت قرار دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہمیں روح و احساس سے نوازا ہے ،جس طرح ہمارے لئے دن اور رات مسخر کئے ہیں اور جس طرح ہمیں زمین و آسمان کے درمیان جمایا ہے ،ہم اس پر اللہ کا شکرادا کریں۔یہ ترقی یافتہ ممتاز زندگی ایک خاص قسم کا اعزاز ہے جس پر ہمیں فخر کرنا چاہئے اور رب العزت کا حق پہچاننا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حواس دئے ہیں تاکہ ہم وجود کے ساتھ ہم آہنگ ہوں اور اس میں جو کچھ ہے اُسے سمجھیں ،اپنی مادی اور روحانی صلاحیتوں سے اُس کے حُسن سے لطف اندوز ہوں اور اس کے نتیجے میں ہمارے احساسات اُس ذات کے لئے شکر گذاری سے لبریز ہوجائیں جس نے ہمیں زندگی دی اور معزز بنایا ۔انسان ان نعمتوں کے وسیع دائرے سے غافل ہوسکتا ہے جن سے وہ فائدہ اٹھارہا ہے لیکن اگر وہ صرف اپنے کھانے کے دستر خوان پر غور سے نگاہ ڈال لے تو اُسے اندازہ ہوجائے گا کہ دنیا کے کس کس کونے سے اُس کے لئے کھانے پینے کی چیزیں مہیا ہورہی ہیں ،ہوسکتا ہے چاول امریکہ کے ہوں،گوشت افریقہ سے آیا ہو ،سبزی ایشیاء کی اور چائے برطانیہ سے آئی ہو ،پھر اگر وہ مزید غور کرے تو معلوم ہوگا کہ زمین و آسمان اُس کی خدمت اور اس کی زندگی کو آسان بنانے پر متفق ہوگئے ہیں تب اللہ تعالیٰ کے اس قول کا مطلب سمجھ پائے گا:’’لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں ،اُن سب کا خالق ہے ،تمہارے بچنے کی اُمید اسی صورت سے ہوسکتی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ،آسمان کی چھت بنائی ،اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ ہر طرح کا پیدوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔‘‘(البقرہ:۲۱،۲۲)
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں مشکلات زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوجانے اور طرزِ عمل کی ابتری کی پیداوار ہوتی ہیں ۔دنیا کے سارے حسن و جمال کو برباد کرنے والا انسان ہی ہے۔جس نے مجنونانہ حرکتیں اختیار کر رکھی ہیں ،نہ اللہ کے قانون کے آگے جھکتا ہے اور نہ ہی اس کی بات مانتا ہے گویا زمین لوگوں پر تنگ نہیں ہوئی ہے بلکہ لوگوں کے اخلاق تنگ ہوگئے ہیں۔اگر ہم اللہ کے نازل کردہ ہدایتوں کو اپنائیں اور اس وسیع بھلائی کو سمجھیں جو اس نے ہمیں عطا کی ہے تو ہمارا اور زندگی کا معاملہ کچھ اور ہی ہوجائے،لیکن ہم میں سے اکثر لوگ زندگی اور عافیت کی دولت کو حقیر سمجھتے ہیں اور اس سے فائدہ اُٹھانے سے عاجز رہ جاتے ہیں ،پھر ایسی تمنائوں اور اُمنگوں کے لئے روتے رہتے ہیں جو پوری نہیں ہوتیںاور اگر پوری ہوگئی ہوتیں تو نہ جانے کیا ہوتا۔ہمارے جسم کو جو عافیت حاصل ہے وہ کتنی قیمتی ہے ،وہ اعضا ء کتنے قیمتی ہیں جن سے اللہ نے ہمیں نوازا ہے۔پھل جو ہم حاصل کرتے ہیں کتنے لذیذ ہیں اگر ہم انہیں اچھی طرح حاصل کریں اور اُن کی بے قدری نہ کریں ۔اسلام چاہتا ہے کہ وہ بھر پور انداز میں ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائے کہ ہمیں حاصل شدہ نعمتیں کتنی نفیس اور اُن سے فائدہ اٹھانا کتنا ضروری ہے۔
 
 
���
رابطہ؛احمد نگر سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9697334305
 

 

تازہ ترین