مشترکہ مسا بقتی امتحانات

انفرادی خوشی کا باعث یا اجتماعی جشن کا متقاضی ؟

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


ہلال احمد تانترے
کمیشن برائے عوامی خدمات جموں و کشمیر نے ۲۹ ؍ستمبر ۲۰۲۰ ء کو مشترکہ مسابقتی امتحانات۲۰۱۸ ء کے نتائج ظاہر کر دئے ۔ کمیشن کی ایک غیر معمولی نوٹیفکیشن کے مطابق ۷۰ ؍امیدواروں کوطبی معائنے کے لیے کامیاب قرار دیا گیا ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اِن امتحانات کے لیے مئی ۲۰۱۸؍ میں درخواستیں طلب کر دی گئی تھیں۔ ستمبر۲۰۱۸؍ کے مہینے میں ان امتحانات کے لیے ابتدائی (prelims)امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۵۱۸۸؍ امیدواروں نے حصہ لیا۔ ابتدائی امتحانات کے نتائج ستمبر ہی کے آخری ہفتے میں ظاہر کر دیے گئے، جس میں ۱۷۵۰؍ امیدواروں کو مرکزی(mains) امتحان میں بلایا گیا ۔ اس کے بعد جولائی ۲۰۲۰ ء میں مرکزی امتحان کا انعقاد ہوا تھا، جس میں ۲۲۹ ؍امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی اور انہیں انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ انہی امیدواروں  میں سے ۷۰؍ امیدواوں کو بالآخر و ہ کامیابی نصیب ہوئی، جنہیں مذکورہ نوٹیفکیشن میں مشتہر کیا گیا۔ 
 ۲۰۱۰ ء میں کشمیر کے دور افتادہ ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان شاہ فیصل نے جب آئی اے ایس کونہ صرف کو الیفائی کر لیا بلکہ نمبر ایک پوزیشن بھی حاصل کر لی ، تب سے کشمیر میں مسابقتی امتحانات کو لے کر کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔مانا جاتا ہے کہ شاہ فیصل کے ائی اے ایس کوالیفائی کرنے سے کشمیر کے اندر بیروکریسی میں جانے کے لیے نوجوانوںکو ایک نیا حوصلہ ملا۔ اگر آئی ائے ایس کی بات کی جائے تو اسے پہلے بہت ہی قلیل تعداد میں نوجوان آئی اے ایس میں شمولیت کرلیتے تھے۔ اس سلسلے میں جو وجوہات درج کی جا سکتی ہیںان میںکشمیر کی سیاسی بے چینی اور حالات کی ناسازگاری اہم ہیں۔ کوئی بھی مسابقتی امتحان ہو اُس میں آس پاس کے ماحوال کا موافق ہونا نہایت ہی اہم مانا جاتا ہے۔ انٹرنیت کی خدمات متعارف ہونے سے تدریسی و غیر تدریسی امتحانات کو لے کر ایک آسانی سی پید ا ہوگئی ۔ لیکن کشمیر جیسے شورش زدہ خطے میں انٹرنیت کی خدمات کو مختلف وجوہات کی بنا پر بیشتر حالات میں ٹھپ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود کشمیر کے نوجوان مسابقتی امتحانات میں شمولیت کر لیتے ہیں۔
ایسے میں مسابقتی امتحانات کے تئیں اتنی دلچسپی سماج میں ایک مثبت رجحان کو پروان چڑھانے میں ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ جب آس پاس کے ماحول میں کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی کسی مسابقتی امتحان کو پار کرلیتا ہے، تو باقی نوجوانوں کے اندر بھی ایک حوصلہ اور جذبہ اُمڈ آتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔ بلکہ کئی سارے نوجوانوں کی زندگیاں ایسے ہی بدل جاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی کسی دوست کو امتحان میں پاس دیکھتے ہوئے کچھ کرنے کی ٹھان لی ہوتی۔
 مسابقتی امتحانات کے تناظر میں کشمیر کے نوجوانوں کو بَروقت اطلاعات نہیں پہنچ پارہی تھیں۔ صرف شورش کو ہی ذمہ دار ٹھہریا نہیںجا سکتا۔ مسابقتی امتحانات کے سلسلے میں خدشات و شبہات سے پُر والی ذہنیت کشمیر کے نوجوانوں میں پائی جاتی تھی۔ لیکن تھوڑا آگے نکل جانے سے، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے آنے سے اور کچھ’ سانسیں‘ لینے سے کشمیر کے نوجوانوں کو جوں ہی مسا بقتی امتحانات کے بارے میں پتہ چلا تو پایا گیا کہ اُن کے اندر بھی کچھ کرنے کا حوصلہ باقی دنیا کے باسیوں سے بہت زیادہ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ کشمیر کے اندر پائی جارہی بے چینی کے باوجود کشمیر کے نوجوان جو مسابقتی امتحانات میں بھر پور حصہ لیتے ہیں، اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایسے کچھ نوجوان ہوتے ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا چاہتے ہیں ۔ اور اس کے بعد اِس شورش کو ختم کرنے میں اپنا حصہ مہیا کرانے چاہتے ہیں ۔ یہ ایسے نوجوان ہیں جن کا ماننا ہے کہ سسٹم کے اندر جانے سے جو خدمت سماج کی کی جاسکتی ہے وہ سسٹم سے باہر رہ کے نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ سسٹم کا حصہ بنا جائے اور اس کے بعد سسٹم کو ٹھیک کیا جائے۔ لوگوں کو سہولیات پہچائی جائیں اوران کی دشواریوں کو دور کیا جائے ۔ ان میں بعض نوجوان ایسے بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں کو لے کر جو غلط پروپگنڈا کیا جاتا ہے، اس کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ ہم ہر ایک میدان میں اپنا لوہا منوائیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسابقتی امتحانات میں حصہ لے کر اِسے بھی پار کیا جائے۔ ابھی حال ہی میں UPSC کے امتحانات میں بھی جموں و کشمیر سے ۱۲؍ امیدواروں نے کامیابی حاصل کر لی۔ اسی طرح سے طبی و انجینئرنگ شعبے میں بھی کشمیر سے ہر امتحان میںمتعدد success stories  سامنے آجاتی ہیں۔ 
ان اچھے اچھے خیالات کے ساتھ جو بھی کشمیری نوجوان سول سروسز یا باقی اعلیٰ دفاتر کے اندر پہنچ جاتے ہیں،امید ہے کہ وہ اپنے اپنے لوگوں کا بھلا کریں گے۔ ایسے نوجوان کشمیر کی حقیقی صورتحال سے باقیوںسے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں، وہ زمینی سطح کے حقائق کا بھی اچھے سے ادراک رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے عزم اور حوصلوں کی لاج رکھیں تو ان کے کچھ کرنے سے سماج میں ایک مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں پیش کی جارہی مبہم و بے بنیاد تصاویر کا بھی توڑ کیا جا سکتا ہے اور باقیوں کے ساتھ ساتھ اپنوں کو بھی اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔ 
لیکن اس سب کے باوجود حقیقت یہ بھی ہے کہ شاز ہی کوئی ایسا نوجوان اپنے وعدوں سے وفا کر سکا۔ ایسے نوجوان پتہ نہیں پھر سرکاری دفاتر کے کون سے کونے میں اپنا دفتر اس طرح جماتے ہیں کہ پھر کبھی دکھائی ہی نہیں دیتے۔ جن لوگوں کی نظر میں وہ سرکار اور عوام کے مابین ایک پُل کی حیثیت سے کام کرتے، اُنہی لوگوں کی توقعات کے بَر خلاف ایسے نوجوان پھر اپنے ہی کسی منصب میں مقید ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں اس بات سے بھی ہر کسی کو آشنا ہونے کی ضرورت ہے کہ کشمیر کے لوگ اب سمجھتے ہیں کہ کسی کا کسی مسابقتی امتحان میں پاس ہونا محض اس انسان کا نجی مسئلہ ہے، جس کا فائدہ ضرف اسی کو پہنچے گا، نہ کہ اس کے آس پاس کے لوگوں کو۔ 
ای میل:hilal.nzm@gmail.com
موبائل:9622939998

تازہ ترین