مسابقتی امتحانات ، حکومتی ملازمتیں

چاہ اور لگن ہو تو کچھ ناممکن نہیں

تاریخ    27 اکتوبر 2020 (00 : 01 AM)   


فہیم احمد عبدالباری مومن
اس بات سے یکسر انکار ممکن نہیں ہے کہ موجودہ دور میں جب ملازمتوں کا حصول مشکل اور سخت مقابلہ آرائی کا متقاضی ہے، ایک حکومتی ملازم عمدہ اور پُرکشش تنخواہ کے ساتھ ساتھ مختلف سہولتوں سے آراستہ زندگی گذار تا ہے۔ یہ بات کہنے میں ہمیں بالکل بھی تعرض نہیں ہے کہ ایک حکومتی ملازم (گورنمنٹ سرونٹ) ایک خوشحال اور ایک محفوظ ترین ملازمت کرتاہے۔ حکومتی ملازمتوں کا حصول اگر مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں ہے۔ مختلف حکومتی شعبوں میں ملازمت کے لیے امیدوار کو سخت محنت کے ساتھ ساتھ ملازمت کے لیے منعقدہ امتحانات میں شریک دیگر امیدواروں کے مقابلے میں خود کو اہل ثابت کرنا پڑتا ہے اور ایک مرتبہ کامیاب ہوجانے کے بعد اس کی ترقی کے راستے کھل جاتے ہیں۔ بھارت میں حکومتی ملازمتوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کی شرح کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق مذہبی گروپس کے لحاظ سے بھارت میں روزگار میں شمولیت کی شرح مسلمانوں میں سب سے کم یعنی 32.6%ہے جو دیگر اقلیتوں کے مقابلے بھی سب سے کم ہے جبکہ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح آئی اے ایس میں 3% ، آئی ایف ایس میں 1.8% ، آئی پی ایس میں 4% اور انڈین ریلوے میں 4.5% جس کا 98% نچلی سطح کی ملازمتوں میں ہے۔ گذشتہ برسوں میں اس صورتحال میں کچھ بہتر تبدیلی ضرور آئی ہے جب ہمارے سماج میں تعلیمی بیداری اور حکومتی ملازمتوں میں شمولیت کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔ لیکن اب بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری بڑی آبادی حکومتی ملازمتوں کے تئیں لا تعلق اور غلط فہمی کا شکار ہے۔ جس کو دور کرنا اور ہماری نمائندگی میں اضافہ کرنے کے لیے زمینی سطح پر کوشش کرنی ہوگی۔ آئیے ہم حکومتی ملازمتوں کے حصول کے لیے مقابلہ جاتی امتحانات کا ایک اجمالی جائزہ لیتے ہیں۔ 
حکومتی ملازمت یا گورنمنٹ سروس سے کیا مراد ہے  ؟  ایسی خدمات جو حکومت کے ذریعے راست یا بالراست طور پر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کی جاتی ہے انھیں انجام دینے والے ادارے ’’حکومتی ادارے‘‘ اور ان میں خدمت انجام دینے والے ملازمین ’’حکومتی ملازمین‘‘کہلاتے ہیں۔ان خدمات کو پبلک سروسیس یا عوامی خدمات بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً حکومتی شعبے، ریلوے ، حکومتی بینک، حکومتی یا حکومتی امداد یافتہ کالج، اسکول، اسپتال وغیرہ۔ ان اداروں میں اعلیٰ سے ادنیٰ سطح تک ملازمت کے بے شمار مواقع ہیں جنھیں مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔حکومتی ملازمین کو پُر کشش تنخواہوں کے علاوہ میڈیکل، سفر، بچوں کی تعلیم و دیگر سہولیات حاصل ہونے کے علاوہ ملازمت میں تحفظ حاصل ہوتا ہے اور سبکدوشی کے بعد پینشن کی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ 
گزیٹیڈ اور نان گزیٹیڈ آفیسر  ؟  حکومتی ملازمین کو ان کے رینک کے مطابق کلاس ون، ٹو، تھری اورفور کی کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے جنھیں ہم گزیٹیڈ و نان گزیٹیڈ آفیسر کہا جاتا ہے۔ کلاس وَن اور کلاس ٹوآفیسرس کو گزیٹیڈ آفیسرس کہا جاتا ہے جنھیں صدر جمہوریہ و ریاستی گورنر کی ایماء پر دفتری دستاویزات(Official Documents)  کو جاری کرنے یا ان کی تصدیق کرنے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ کلاس تھری و کلاس فور کے آفیسرس نان گزیٹیڈ آفیسرس کہلاتے ہیں۔
یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک سروسیس کمیشن  :  مرکزی سطح پر اعلیٰ ترین آفیسرس جنھیں ہم گریڈ ’’اے‘‘ آفیسرس کہتے ہیں ان کا تقرر یونین پبلک سروسیس کمیشن کے تحت کیا جاتا ہے۔ ان میں آئی اے ایس ، آئی پی ایس، آئی ایف ایس، آئی آر ایس وغیرہ اس طرح کی تقریباً چوبیس سروسیس کی اسامیوں کے لیے امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں۔  یو پی ایس سی کا امتحان تین مرحلوں پر مشتمل ہے جس میں پریلمنری امتحان میں دو پرچے، مین امتحان میں نو پرچے ہوتے ہیں جبکہ پرسنل انٹرویو اس کا آخری مرحلہ ہے۔ اسی طرز پر ریاستی سطح پر ہر ریاست میں مختلف محکموں میں اعلیٰ افسران کی تقرری کے لیے ریاستی پبلک سروسیس کمیشن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان امتحانات میں شرکت کے لیے تعلیمی اہلیت، کسی بھی فیکلٹی سے گریجویشن کامیاب ہونا لازمی ہے ۔ دیگر تفصیلات کے لیے www.upsc.gov.in  اور ریاستی پبلک سروسیس کمیشن کی ویب سائٹ مثلاً ریاستِ مہاراشٹر کے لیےwww.mpsc.gov.in سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
اسٹاف سلیکشن کمیشن (SSC)   ؟  اسٹاف سلیکشن کمیشن حکومت ہند کے ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ سے وابستہ ادارہ ہے جو حکومت کے مختلف محکموں میں نان گزیٹیڈ آفیسر کی تقرری کے لیے امتحانات منعقد کرتا ہے۔ یہ امتحانات دو سطح پر منعقدکیے جاتے ہیں۔ بارہویں کامیاب طلبہ کے لیے لوور ڈویژن کلرک، جونیر سورٹنگ آفیسر، پوسٹل اسسٹنٹ، سارٹنگ اسسٹنٹ ، کورٹ کلرک اور ڈاٹا انٹری آپریٹروغیرہ کے لیے امتحان اسٹاف سلیکشن کمیشن کمبائنڈ ہائر سیکنڈری لیول(SSC CHL) کہلاتے ہیں۔ بارہویں کامیاب کوئی بھی امیدوار ان امتحانات میں شرکت کرسکتا ہے۔ یہ امتحانات تین لیول (III Tier)   پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ Tier I   کمپیوٹر بیسڈ امتحان ، Tier II   بیانیہ پرچہ اور Tier III   مہارت اور ٹائپنگ ٹیسٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ گریجویشن کامیاب امیدواروں کو حکومت کے مختلف محکموں میں گروپ بی اور گروپ سی کی پوسٹ پر تقرری کے لیے اسٹاف سلیکشن کمیشن ، کمبائنڈ گریجویٹ لیول (SSC CGL) امتحان منعقد کرتا ہے۔یہ امتحان چار مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ Tier I   پریلمنری امتحان،  Tier II   مینس،  Tier III  بیانیہ پرچہ اور Tier IV کمپیوٹر ٹیسٹ ،ٹائپنگ مہارت پر مشتمل ہوتا ہے۔ کسی بھی فیکلٹی سے گریجویٹ امیدوار اس امتحان میں شرکت کے اہل ہیں۔ مزید معلومات کے لیے کمیشن کی ویب سائٹ www.ssconline.nic.in  سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسونل سلیکشن (IBPS)   ؟  اسٹیٹ بینک آف انڈیاکے علاوہ دیگر حکومتی بینکوں میں گریجویٹ امیدواروں کی تقرری کے لیے اس ادارہ کا قیام کیا گیاہے۔ قومی بینکوں میں پروبیشنری آفیسرس اور کلرک کے لیے یہ امتحانات اس ادارہ کے ذریعے منعقد کیے جاتے ہیں۔ادارہ کے ذریعہ منعقد کیے جانے والے امتحانات مشترکہ تحریری امتحان (Common Written Exam)   کہلاتے ہیں۔ یہ امتحان دو مرحلوں پریلمنری اور مینس پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ امتحانات آن لائن منعقد کیے جاتے ہیں جس کے بعد پرسنل انٹرویو بھی لیا جاتا ہے۔ امتحان کا نصاب، اہم تاریخیں و دیگر تفصیلات کے لیے انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ www.ibps.in   سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
 اسٹیٹ بینک آف انڈیا (پروبیشنری آفیسر)   :  یہ قومی سطح کا امتحان اسٹیٹ بینک آف انڈیا منعقد کرتا ہے۔ طلبہ کو یاد رکھنا ہوگا کہ آئی بی پی ایس امتحان میں اسٹیٹ بینک کی شرکت نہیں ہوتی۔ آئی بی پی ایس دیگر پبلک سیکٹر بینکوں کے لیے امتحان منعقد کرتاہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا اپنی برانچوں میں پروبیشنری آفیسر کے لیے خود امتحان منعقد کرتا ہے۔ طریقہ کار ، نصاب ، اہلیت تقریباً وہی ہیں جو آئی بی پی ایس کے امتحان میں درج ہیں جبکہ مزید معلومات www.sbi.co.in/careers   سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔
ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ  (RRB)   ؟  ہندوستانی ریلوے حکومتی شعبوں میں سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے والا ایک ادارہ ہے۔ ہندوستان میں وزارتِ ریلوے کے تحت مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (RRBs) کے ذریعے ملازمت نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ فی الوقت ہندوستان میں ۲۱(اکیس) ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ ملک کے مختلف علاقوں میں کام کررہے ہیںاور ضرورت کے مطابق ملازمت کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں۔ یہ ریکروٹمنٹ بورڈ ملک میں ریلوے کے سترہ زون جو حاجی پور، بھنیشور، کولکتہ ، الہ آباد، گورکھپور، جے پور، گوہاٹی ، دہلی ، سکندر آباد ، بلاس پور، ہبلی ، چینئی، جبل پور، ممبئی کے علاوہ میٹرو ریلوے کولکتہ وغیرہ میں واقع ہیں۔ (ممبئی سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے جبکہ کولکتہ ایسٹرن ، سائوتھ ایسٹرن کے علاوہ کولکتہ میٹرو ریلوے کا مرکز ہے۔ ) ۔  ریلوے کی ملازمتیں چار گروپ پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں سے ’گروپ اے‘  اور ’گروپ بی ‘ کی ملازمتیں ’’گزیٹیڈ ‘‘ جبکہ ’گروپ سی ‘ اور ’گروپ ڈی ‘ کی ملازمتیں نان گزیٹیڈ ہوتی ہیں۔ ’’گروپ اے ‘‘پوسٹ  :  ’گروپ اے ‘کے تحت اسامیوں کی تقرری یونین پبلک سروس کمیشن ، سول سروس امتحان،  انجینئرنگ سروس امتحان اور کمبائنڈ میڈیکل سروس امتحان کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ’’گروپ بی ‘‘پوسٹ  :  ’گروپ بی‘ اسامیوں میں براہ راست تقرری نہیں ہوتی بلکہ اس کیٹیگری کی پوسٹ جیسے سیکشن آفیسر وغیرہ گروپ سی سے ترقی دے کر پُر کی جاتی ہے۔ ’’گروپ سی ‘‘پوسٹ  :  ’گروپ سی ‘ کے تحت ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل پوسٹ مثلاً کلرک ، اسٹیشن ماسٹر، ٹکٹ کلیکٹر، کمرشیل اپرینٹس، ٹرافک اپرینٹس، انجینئرنگ پوسٹ(سول ، میکانیکل، الیکٹریکل ، سگنل اور ٹیلی کمیونکیشن وغیرہ ) کی ہوتی ہیں۔ ’’گروپ ڈی ‘‘پوسٹ  : ’گروپ ڈی‘ کی پوسٹ ٹریک مین، اسسٹنٹ ، ہیلپر، اسسٹنٹ پوائنٹس مین، صفائی والا ، صفائی والی ،گن مین ، پیون وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ریلوے میں مختلف ملازمتوں کے لیے تعلیمی قابلیت دسویں ، آئی ٹی آئی سے لے کر گریجویٹ اور مخصوص اسامیوں کے لیے میڈیکل و انجینئرنگ و دیگر شعبوں میں تعلیمی قابلیت ضروری ہے۔ لیکن ان تمام ملازمتوں کے لیے امیدواروں کو مقابلہ جاتی امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے دسویں کے ساتھ جن شعبوں میں آئی ٹی آئی کی شرط لازمی تھی اس میں سے آئی ٹی آئی کی شرط کو ختم کردیا ہے۔ اب دسویں ، بارہویں اور گریجویٹ کامیاب طلبہ اپنی لیاقت کے مطابق درخواست دے سکتے ہیں۔نصاب و دیگر معلومات کے لیے ریلوے کی ویب سائٹ http://www.rrcb.gov.in/rrbs.html  سے استفادہ کیا جاسکتاہے۔ 
جیوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس امتحان (JMFC)   ؟  وکالت کامیاب (ایل ایل بی) امیدوار سیشن کورٹ میں بحیثیت جج کی تقرری کے لیے مہاراشٹر پبلک سروسیس کمیشن کے ذریعے منعقدہ اس امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔اس امتحان کو ایم پی ایس سی سول جج (جونیر ڈویژن) امتحان بھی کہا جاتا ہے۔ اس امتحان کا طریقہ کار بھی پریلمنری ، مینس اور انٹرویو پر مشتمل ہوتا ہے۔ پریلمنری امتحان میں ۲۰۰ مارکس کا ایک پرچہ جبکہ مینس امتحان میں سو،سو مارکس کے دو پرچے ہوتے ہیںاور انٹرویو کے لیے پچاس مارکس مختص ہوتے ہیں۔ امتحانات کے نوٹیفکیشن و دیگر تفصیل کے لیے امیدوار www.mpsc.gov.in   سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ 
کمبائنڈ ڈیفینس سروسیس  (CDS)   ؟  بھارتی فوج کے مختلف شعبوں آرمی ، نیوی اور ائیر فورس میں شامل ہوکر کرئیر بنانے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے یونین پبلک سروسیس کمیشن سال میں دو مرتبہ کمبائنڈ ڈیفینس سروسیس کے امتحانات منعقد کرتی ہے۔ ان امتحانات کے ذریعے انڈین ملیٹری اکیڈمی، آفیسرس ٹریننگ اکیڈمی، انڈین نیول اکیڈمی اور انڈین ائیر فورس اکیڈمی میں تقرری کی جاتی ہے۔ ان امتحانات میں شرکت کے لیے غیر شادی شدہ  گریجویٹ جن کی عمر۱۹ تا ۲۴ سال کے درمیان ہونا لازمی ہے۔ امیدواروں کو آبجیکٹیو ٹائپ تحریری امتحانات میں شرکت کرنی ہوتی ہے۔ تحریری امتحانات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو سروس سلیکشن بورڈ انٹرویو کے لیے منتخب کرتا ہے یہ انٹرویو عموماً ایک ہفتے پر مشتمل ہوتے ہیں جس کے دوران امیدوار کو جسمانی اور نفسیاتی ٹیسٹ سے گذرنا پڑتا ہے۔ ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد میڈیکل جانچ کے مرحلے سے گذرنا ہوتا ہے۔ انڈین ملیٹری اکیڈمی،  انڈین نیول اکیڈمی اور انڈین ائیر فورس اکیڈمی کے امتحانات انگریزی ، جنرل نالج، بنیادی ریاضی کے سو ، سو مارکس کے تین پرچے تین سو مارکس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ آفیسرس ٹریننگ اکیڈمی کے لیے انگریزی اور جنرل نالج پر مشتمل سو،سو مارکس کے دو پرچے ہوتے ہیں۔ ان امتحانات کے نوٹیفکیشن ، نصاب ، پرچوں کی تفصیل اور تیاری کے طریقہ کار کے لیے ویب سائٹ www.upsc.gov.in   سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
نیشنل ڈیفینس اکیڈمی (NDA)   ؟  بارہویں جماعت کامیاب طلبہ کے لیے آرمی ، نیوی اور ائیر فورس میں شامل ہونے کا دوسرا ذریعہ نیشنل ڈیفینس اکیڈمی ہے۔ یہ ادارہ کھڑک واسلہ ،پونے، مہاراشٹر میں واقع ہے جہاں انڈین آرمڈ فورسیس کے تینوں شعبوں آرمی، نیوی اور ائیر فورس کی ٹریننگ دی جا تی ہے۔ اس کے امتحانات یو پی ایس سی کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس اکیڈمی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دنیا کی پہلی ایسی اکیڈمی ہے جو ایک ہی مقام پر تینوں خدمات کی تربیت کا مرکز ہے۔ اکیڈمی میں داخلے سال میں دو مرتبہ (جنوری اور جولائی) ہوتے ہیں ۔ صرف غیر شادی شدہ مرد امیدوار ہی امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔امیدوار کی عمر کم از کم ساڑھے سولہ برس اور زیادہ سے زیادہ ساڑھے انیس برس ہونی چاہیے۔ منتخب امیدواروں کو تین برس پر مشتمل انڈر گریجویٹ کورس اور ٹریننگ مکمل کرنی ہوتی ہے ۔ امیدوار سائنس اور ہیومنیٹیز کے مضامین منتخب کرسکتا ہے۔ سائنس فیکلٹی کے طلبہ کو فزکس ، کیمسٹری ، میتھس یا کمپیوٹر سائنس جبکہ ہیومنیٹیز کے طلبہ تاریخ ، معاشیات، سیاسیات اور جغرافیہ کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے جبکہ انگریزی او ر ایک بین الاقوامی زبان (عربک،چائنیز، فرینچ، یا رشین ) کا مطالعہ لازمی ہے۔کورس مکمل ہونے پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی جانب سے بی اے /بی ایس سی یا بیچلر ان کمپیوٹر سائنس کی ڈگری تفویض کی جاتی ہے۔ دلچسپی رکھنے والے طلبہ یاد رکھیں کہ اکیڈمی میں آرمی میں داخلے کے لیے بارہویں (کسی بھی فیکلٹی سے ) جبکہ ائیر فورس اور نیوی میں داخلے کے لیے بارہویں فزکس اور میتھس سے کامیاب ہونے کے علاوہ اکیڈمی کی مجوزہ جسمانی اور میڈیکل شرائط پورا کرنا لازمی ہے۔ تین سال کا گریجویشن مکمل کرنے کے بعد امیدواروں کو آرمی امیدواروں کو انڈین ملیٹری اکیڈمی، بحریہ کے امیدواروں کو انڈین نیول اکیڈمی میں ایک سال تربیت جبکہ ائیر فورس کے امیدواروں کو ائیر فورس اکیڈمی حیدرآباد میں دیڑھ سال کی تربیت حاصل کرنا لازمی ہے۔ 
نیشنل اہلیتی ٹیسٹ و اسٹیٹ اہلیتی ٹیسٹ (NET / SET)   ؟  ایسے پوسٹ گریجویٹس جو ڈگری کالج اور یونیورسٹی سطح پر درس و تدریس سے دلچسپی رکھتے ہوں ان کے لیے یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) ، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے)  کے توسط سے سال میں دو مرتبہ نیشنل ایلیجبلیٹی ٹیسٹ کا انعقاد کرتا ہے۔ یہ امتحان دو ملٹی پل چوائس سوالیہ پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں پہلا پرچہ تدریسی اہلیت کی جانچ جبکہ دوسرا پرچہ امیدوار کے ذریعے منتخبہ مضمون سے متعلق ہوتا ہے ۔ دسمبر ۲۰۱۸؁ء سے یہ امتحان مکمل طور پر آن لائن ہوگا۔ ریاستی سطح پر منعقدہ اس امتحان کو اسٹیٹ ایلیجبلیٹیٹیسٹ کہا جاتا ہے جسے ریاستی یونیورسٹی منعقد کرتی ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں سیٹ کے امتحان کا انعقاد ساوتری بائی پھلے ، پونے یونیورسٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ نیٹ کا امتحان عموماً جون اور دسمبر کے مہینے میں جبکہ سیٹ کا امتحان اگست اور فروری کے مہینے میں ہوتاہے۔ امیدوار کے لیے اس امتحان میں شرکت کے لیے کسی بھی مضمون سے پوسٹ گریجویشن ۵۵ فیصد مارکس سے کامیاب ہونا لازمی ہے دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ۵فیصد مارکس کی رعایت ہے۔مضامین، طریقہ کار، فارم بھرنے کا نوٹیفکیشن اور دیگر تمام تفصیلات کے لیے خواہشمند امیدوار www.ntanet.nic.in  یا  www.ugc.ac.in  سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ 
تمام مقابلہ جاتی امتحانات سے متعلق چند مشترکہ یاد رکھنے کی باتیں  :  وہ طلبہ جو مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کے تئیں سنجیدہ ہیں انھیں ان امتحانات کے تعلق سے چند باتیں ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہوں گی۔   ٭  ان امتحانات کے فارم آن لائن بھرے جاتے ہیں اور فیس کی ادائیگی بھی آن لائن ہی کی جاتی ہے۔   ٭  ان امتحانات کا نصاب کم و بیش ایک جیسا ہوتا ہے۔ جیسے انگریزی زباندانی کی جانچ ، منطقی جانچ (Aptitude Test)،  وجوہات  (Reasoning) ،  جنرل نالج اور حالات حاضرہ (Current Affairs) کی جانکاری ، کمپیوٹر کی جانکاری وغیرہ۔   ٭  ان میں سے کچھ امتحانات میں منفی مارکنگ بھی ہوتی ہے جس کا دھیان رکھنا ضروری ہے ۔   ٭  امتحانات کے نوٹیفکیشن کے لیے اخبارات پر نظر رکھیں اور متعلقہ ویب سائٹ پر باقاعدہ وزٹ کرتے رہیں۔   ٭  اپنے مضامین کے علاوہ طلبہ جنرل نالج کی کتابوں اور روزانہ اخبار، میگزین کا مطالعہ کریں تو یہ مرحلہ آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے ۔ انٹرویو کے لیے حالات حاضرہ کی جانکاری بہت ضروری ہے اس کے لیے روزانہ باقاعدگی سے اخبارات کا مطالعہ کیجیے اور ملک میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کا تجزیاتی مطالعہ کیجیے۔   ٭ گذشتہ برسوں کے پرچے ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے اور بازار میں ان تمام امتحانات سے متعلق کتابیں بھی دستیاب ہیں ۔  ٭  کمپیوٹر کی اچھی جانکاری حاصل کریں کیونکہ اب ہر شعبہ میں کمپیوٹر کا استعمال ناگزیر ہوگیا ہے اور کچھ امتحانات بھی اب آن لائن ہوتے ہیں ۔  آنے والے وقت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ تمام مسابقتی امتحانات کو مکمل آن لائن کردیا جائے۔ 
حکومتی شعبوں میں ہماری نمائندگی کی کمی کی ایک اہم وجہ مقابلہ جاتی امتحانات میں ہمارے طلبہ کی شرکت کی کمی ہے۔ ہمارے طلبہ میں صلاحیت یا اہلیت کا فقدان نہیں ہے بلکہ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں ابتدائی درجات سے ہی طلبہ کی ذہن سازی کی جائے اور انھیں درجاتی طور پر ان امتحانات میں شرکت کی ترغیب دی جائے ۔ اسکولی سطح پر منعقد ہونے والے نیشنل ٹیلنٹ سرچ امتحان، نیشنل میرٹ کم مینس امتحان، آئی ٹی اولمپیاد،  میتھیمیٹکساولمپیاڈ اور بین الجماعتی و بین المدارس مقابلوں میں شرکت اور انعقادکے ذریعے انھیں مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ خلوص نیت اور جہد مسلسل ہو تو یہ کام نا ممکن تو بالکل نہیں !۔
موبائل نمبر۔9970809093
ای میل۔mominfahim@rediffmail.com
 

تازہ ترین